آپ اسلام لائیں گے۔۔۔ سو بسم اللہ

آپ اسلام لائیں گے۔۔۔ سو بسم اللہ

کم و بیش دس برس کے عرصے کے بعد متحدہ مجلس عمل بحال ہو گئی ہے اور دنیاوی، سیاسی یا پارلیمانی فارمولے کے عین مطابق مولانا فضل الرحمان اس کے صدر اور جناب لیاقت بلوچ جنرل سیکرٹری منتخب ہو گئے ہیں۔ یہاں عہدے بانٹتے وقت بندوں کو گنا گیا ہے کہ کس کے پاس کتنی پارلیمانی طاقت ہے، کتنا ووٹ بنک ہے اور یہی وجہ ہے کہ اویس نورانی، جناب ساجد میر اور ساجد نقوی کو عہدوں میں ان کے تقوے کو تو لنے کی بجائے ان کے بندے گنتے ہوئے پیچھے رکھا گیا ہے، ویسے کوئی ستم ظریف شیطان دلیل دے سکتا ہے کہ بندوں کو گننے والی بات غلط ہے، اسلام پسندوں کے اتحاد میں قیادت کا فیصلہ حضر ت اقبال کے شعر کے عین مطابق، جمہوریت کی نفی میں، سو فیصد تول کر کیا گیا ہے۔

آپ اسلام لائیں گے، سو بسم اللہ، ضرور لائیں اور اسلام دشمنوں کے دانت کھٹے کر دیں، مگر سوال یہ ہے کہ آپ اسلام کہاں سے لائیں گے اور کتنا لائیں گے کہ اگر ہم اپنے آئین کو دیکھتے ہیں تواسلام سے لبریز قرارداد مقاصد ابتدائیے کے طور پر موجود ہے،پارلیمنٹ میں قرآن و سنت کے خلاف کسی قسم کی کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی، ماشاء اللہ، ہمارے پاس فیڈرل شریعت کورٹ بھی موجود ہے اور انتظامیہ پر بھی مسلمانوں کا ملک ہونے کی وجہ سے پورا پورا دباو موجود ہے کہ اگر انہوں نے ووٹ لینے ہیں تو کوئی غیر اسلامی حکم کے بارے میں سوچنے کی بھی جرا ت نہ کریں،یعنی آئین، پارلیمنٹ، عدلیہ اور انتظامیہ اسلامی قوانین اور وایات تلے ہیں اور رہ گئی بات عوام کی، عوام میں اس حد تک اسلام موجود ہے کہ کوئی کام کاج نہ کرنے والے شخص نے وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملہ کرنے کے بعد بیان دیا ہے کہ اسے یہ کام کرنے کا حکم براہ راست حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ نے خواب میں آ کے دیا تھا۔مجھے کہنے دیجئے کہ اسلام ہمارے پاس موجو د ہے، قرآن وسنت کی صورت میں بھی، گلی گلی محلے محلے پھیلی مساجد کی صورت میں بھی، اب بات تو عمل کرنے کی ہے کہ کون کرتا ہے اور کون اسے محض اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ ہمارے پاس ایسے ایسے سیاسی رہنما بھی موجود ہیں جن کو سورۃ اخلاص زبانی نہیں آتی،مگر وہ مخالفین کو توہین رسالت کے ملزم بنانے کے لئے شعلے اگلتے ہیں۔

بات متحدہ مجلس عمل کی ہے اور ہمارے بہت سارے دوست اعتراض کرتے ہیں کہ پہلے یہ مولوی ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کے لئے تو تیار ہوجائیں، اس کے بعد اکٹھے جلسے بھی کر لیں، ایک کارکن صحافی کے طور پر میں انہیں بتاتا ہوں کہ ہمارے علمائے کرام نے اس سلسلے میں متحدہ مجلس عمل کے قیام سے بھی پہلے، 90ء کی دہائی میں ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے، مشترکہ اجلاسوں وغیرہ کے موقعوں پر اکٹھے باجماعت نماز پڑھی ہے، جس میں اکثر و بیشتر امامت حضرت شاہ احمد نورانی فرمایا کرتے تھے، اہل حدیث، اہل تشیع اور دیو بندی علمائے کرام میں کسی جگہ بریلویوں پر اتفاق ہو جاتا ہے۔ بہرحال اب یہ کوئی بڑاایشو نہیں رہا اور متحدہ مجلس عمل میں اہل حدیث، اہل تشیع، دیوبندی اور بریلوی تمام مکاتب فکر شامل ہیں اور سٹیج پر اکٹھے نماز پڑھنے کی تصویریں بھی موجود ہیں۔

کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد اسلامائزیشن کے حوالے سے جتنی تحریکیں بھی چلی ہیں ان کے فائدے اور نقصانات بارے کوئی تحقیق ہوجائے، کس تحریک نے اسلام اور پاکستان کی کتنی خدمت کی اور کتنی تحریکیں ایسی تھیں،جنہوں نے اسلا م کو بدنام کیا اور مُلک کو آئین اور قانون کی پٹری سے اتارنے میں بھی کردارادا کیا۔ ضیاء الحق کا مارشل لاء بھی ایسی ہی ایک تحریک کا نتیجہ تھا اور اس مارشل لاء کے ثمر کے طور پر جب دیوبندی اور شیعہ مکاتب فکر میں سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد کے نام سے منظم انتہا پسندوں نے قتل وغارت کا بازار گرم کر رکھا تھا تو ایسے میں ملی یکجہتی کونسل بنی، اسی ملی یکجہتی کونسل نے امریکا کے افغانستان پر حملے کے بعد متحدہ مجلس عمل کی صورت اختیار کی تھی، اسی متحدہ مجلس عمل کو اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے صوبہ سرحد (اب خیبرپختونخوا) میں وزارتِ اعلیٰ کے علاوہ قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن کا عہدہ بھی عطا کیا تھا، مگر جہاں مولوی حضرات ،اسلام لانا تو ایک طرف رہا، اس صوبے کے مسائل حل کرنے اور ترقیاتی کاموں میں کوئی نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے وہاں انہوں نے ایل ایف او ( ایک آمر کے غیر قانونی لیگل فریم ورک آرڈر) کو آئینی اور قانونی بنانے میں اہم ترین کردارادا کیا تھا، مگر اس وقت بھی ایم ایم اے کو محض گیارہ فیصد ووٹ ملے تھے جب ان کے مقابلے میں سنٹر رائٹ کی جماعت مسلم لیگ (ن) کو مکمل طور پر باندھ دیا گیا تھا۔ یہ جماعت اب بھی دیدہ و نادیدہ رسیوں سے باندھی جا رہی ہے،مگر بہرحال یہ صورتحال آج سے سولہ سال پہلے والی صورتِ حال سے بری نہیں ہے۔

متحدہ مجلس عمل والے اگر جیت گئے جس کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آرہا توکس طرح سے اسلام لائیں گے،یہ واقعی بعد کا سوال ہے، پہلا سوال ان کی کامیابی کا ہے۔ اس اتحاد میں شامل ساجد میر کابدن ایم ایم اے میں اور دِل مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہے، جبکہ کہا یہ جا رہا ہے کہ جماعت اسلامی نے یہ بس اِسی لئے پکڑی ہے کہ یہ اسے بائی پا س سے جاتی امرا لے جائے ، اس روٹ کو ممکن بنانے کے لئے جماعت اسلامی کے وزراء نے حکومت کی آئینی و پارلیمانی مدت پوری ہونے سے ٹھیک پندرہ دن پہلے اپنی وزارتوں کو لاتیں بھی ماری ہیں، اللہ تعالیٰ اسلام کے نفاذ اور دین کی خدمت کے لئے ان کی اس عظیم قربانی کو قبول کرے (آمین ضرور کہیں)، مگر دوسری طرف سوال یہ ہے کہ رائیونڈ میں یہ قربانی قبول ہو گی یا نہیں۔ایم ایم اے والے لاہور میں جلسہ کرتے ہوئے میاں نواز شریف کے اس انٹرویو پر بھی مصلحتا خاموش رہے، جس پرعمران خان ، نواز شریف کو میر جعفر قرار دے رہے اور قومی سیکیورٹی کمیٹی اس انٹرویو کو مسترد کر رہی تھی۔ رائیونڈ میں قبولیت کے سوال کا جواب یہ ہے کہ رائیونڈ والے حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد جماعت اسلامی کو لاہور میں ہرگز کوئی سیٹ نہیں دیں گے،بلکہ معاملہ پورے پنجاب میں مشکوک ہے۔ متحدہ مجلس عمل کا قیام اسی سوچ کا نتیجہ ہے، جس سوچ کے تحت ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک میدان میں اتری ہیں، مگر ووٹنگ ٹرینڈ کو دیکھتے ہوئے نظر آ رہا ہے کہ مولوی حضرات خیبرپختونخوا والی کنگز پارٹی، یعنی تحریک انصاف کو( پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں ) کہیں زیادہ نقصان پہنچائیں گے ، حالیہ انتخابات میں سندھ میں کنگز پارٹی ہونے کا اعزاز اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد اب اینٹ پر اینٹ رکھنے والے آصف علی زرداری کے پاس ہے۔

ایم ایم اے کے حلقوں کا تجزیہ کرنا ہے تو وہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے صحافی زیادہ بہتر کر سکتے ہیں کہ جے یو آئی اور جے آئی مل کے کتنے حلقے نکال سکتی ہیں،جو الگ الگ امیدواروں کی صورت میں نہیں نکالے جا سکتے تھے ۔ سندھ میں اس اتحاد کی کامیابی بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا اور رہ گیا پنجاب تو یہاں 73ء کے آئین کے تناظر میں کام کرنے والے مولانا فضل الرحمان اور ترچھی ٹوپی والے جناب سراج الحق سے کہیں زیادہ ووٹ تو تحریک لبیک کے سربراہ مولوی خادم حسین رضوی کے امیدواروں کومل رہے ہیں،مگراس کے باوجود آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا سترہ برس پرانامذہبی کارڈ ایک مرتبہ پھر چل سکتا ہے تو سو بسم اللہ ۔

مزید : رائے /کالم