اقتدار سے جاتے جاتے حکومت کا ایکسپورٹروں کے لئے ایک اور پیکج

اقتدار سے جاتے جاتے حکومت کا ایکسپورٹروں کے لئے ایک اور پیکج

بزنس ایڈیشن

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنی بجٹ تقریر میں 24ارب روپے کا ایکسپورٹ پیکج کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ایکسپورٹ پیکج کا مقصد ملکی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر گزشتہ چند برسوں سے گراوٹ کا شکار رہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے لئے جانے والے چند اقدامات اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے حال ہی میں پاکستانی برآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم ابھی بھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لئے اس پیکج کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل جنوری 2017میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لئے 180ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا تھا جس کی مدت میں موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اکتوبر 2017کے پہلے ہفتے عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے اضافہ کیا تھا۔ اس پیکج کے مطابق کپاس ، مین میڈ فائبراور ٹیکسٹائل مشینری پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس میں کمی کی گئی تھی اور ٹیکسٹائل سے متعلقہ بے شمار پراڈکٹس جیسے گارمنٹس ، پراسسڈ فیبرکس ،یارن اور گرے فیبرک کے علاوہ سپورٹس اور چمڑے کی مصنوعات پر ڈیوٹی ڈرابیکز کی شرح کو نئے سرے سے ترتیب دیا گیا تھا۔ وزیر اعظم عباسی کے تحت اس پیکج میں یہ تبدیلی کی گئی تھی کہ اہل ایکسپورٹرز کل پیکج کا پچاس فیصد بغیر اپنی برآمدات میں 10 فیصد کا اضافہ کئے حاصل کرسکتے تھے۔ امپورٹ سٹیج پر ڈیوٹیوں کو بڑھا کر پیکج میں 40ارب روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں پیکجوں میں ایکسپورٹروں کے ری فنڈ واپس کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا جن کا اصل حجم ایکسپورٹ کمیونٹی کے مطابق 200ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔

اگرچہ حکومت جب یہ بتاتی ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں ملکی برآمدات کے حجم میں اضافہ ہوا ہے تو اس بات کو ظاہر نہیں کرتی ہے کہ جاری خسارے کی وجہ سے ہمارا تجارتی خسارہ بے حد بگڑ چکا ہے جس کا براہ راست اثر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑ رہا ہے جو اس قدر خطرناک حد تک گرچکے ہیں کہ ان سے تین ماہ کی درآمدات کی ادائیگی ہی ممکن ہے۔ واضح رہے کہ 2012-13میں تجارتی توازن منفی 15ارب ڈالر تھا جو 2013-14میں بڑھ کر 16.5ارب ڈالر ہوگیا، 2014-15میں 17.2ارب ڈالر ہوگیا، 2015-16میں 19.2ارب ڈالر ہوگیا اور گزشتہ برس 26.5ارب ڈالر پر پہنچ گیا ۔ موجودہ مالی سال کے دوران صورت حال اور بھی بگڑتی نظر آتی ہے اور وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق جولائی سے اپریل 2016-17یہ خسارہ 26.4ارب ڈالر بتایا گیا ہے جبکہ مالی سال کے آخر تک یہ خسارہ 30ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین معیشت کا ماننا ہے کہ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی حکومتوں میں بنیادی فرق ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے دونوں کی اپروچ ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کو مستحکم رکھنے کی روش کو اپنایا گیا کیونکہ ان کا کامل یقین تھاکہ ایک مستحکم مقامی کرنسی ہی معیشت کی مضبوطی کی ضامن ہوتی ہے جبکہ حقیقت میں اس کی وجہ سے ملکی برآمدات دباؤ کا شکار رہتی ہیں اور درآمدات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ تاہم نواز حکومت کی اس اپروچ کی وجہ سے بینکوں کا شرح سود اور بیرونی قرضوں کی واپسی کا شیڈول بھی متاثر ہوتا رہا ہے۔

ان حلقوں کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قیمت کو اس وقت تک 10فیصد کم نہیں کیا گیا جب تک کہ آئی ایم ایف کے مشن نے دسمبر 2017تک پاکستان آکر پاکستانی اکانومی پر رپورٹ تیار کرنا شروع نہیں کی ۔ تب کہیں جا کر ملکی برآمدات میں اضافے کی خبریں آنا شروع ہوئیں۔ یہ الگ بات کہ تب تک یہ اقدام ناکافی ہوچکا تھااور حکومت نے روپے کی قدر میں مزید کمی سے گریز کئے رکھا ہے جس کے نتیجے میں تجارتی خسارے کا حجم اوپری جانب رہا ہے۔

جنوری 2017سے تاحال ہمارے ایکسپورٹرز حکومت پر زور دیتے رہے ہیں کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے پیکج کو صحیح خطوط پر لاگو کیا جائے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر جنوری میں اعلان کردہ پیکج کو اکتوبر کے مہینے تک لاگو نہیں کیا گیا تو اب 24ارب روپے کا پیکج کیونکر لاگو ہوگا، خاص طور پر جب وزیر اعظم عباسی اور نئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی مدت 31مئی کو ختم ہو رہی ہے اور اس سے بھی اہم بات یہ کہ بجٹ میں اس رقم کا اعلان تو ہوا ہے مگر ابھی تک حقیقی معنوں میںیہ رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر نواز لیگ اگلے عام انتخابات کے نتیجے میں جیت کر دوبارہ سے اقتدار میں نہ آسکی تو اگلی آنے والی کسی بھی حکومت کے لئے خطیر حجم پر مشتمل ان ایکسپورٹ پیکجوں کو لاگو کرنا آسان نہ ہوگا۔

اس میں شک نہیں کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی قیادت اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان گزشتہ پانچ برسوں میں ٹھنی رہی ہے جس کا آغاز دراصل 2008سے 2013کے درمیان ہوا تھا جب ٹیکسٹائل انڈسٹری کی قیادت نے کھل کر سابق صدر آصف زرداری کی حمائت کا اعلان کیا ۔ دوسری جانب سابق صدر آصف زرداری نے بھی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر نوازشات کی بارش جاری رکھی ، حتیٰ کہ آل پاکستان ٹیکسٹائل انڈسٹری کے سالانہ ڈنر کا اہتمام بھی ایوان صدر میں کیا تھا اور نمایاں ایکسپورٹروں کو شیلڈوں سے بھی نوازا تھا۔ بعد میں 2013 کے عام انتخابات کی مہم کا آغاز ہوا تو سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایکسپورٹروں سے خطاب کے لئے اپٹما کراچی کے دفتر میں بلایا گیا اور اس موقع پر ایک بھونڈامذاق یہ کیا گیا کہ مرکزی قیادت میں سے کوئی بھی ان کے استقبال کے لئے موجود نہ تھا۔ یہاں تک کہ پنجاب آفس سے ویڈیو لنک اپ پر صرف ایک ممبر انکی تقریر سننے کے لئے موجود تھا اور باقی کچھ لوگ کراچی میں براہ راست ان کی آڈیئنس میں شامل تھے۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم نواز شریف نے علی الاعلان کہا تھا کہ جب نون لیگ حکومت میں نہیں ہوتی تو آپ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں اور جب اقتدار میں آتی ہے تو اس کے آگے پیچھے پھرتے ہیں۔ یہی نہیں 2013کے عام انتخابات کے موقع پر بھی ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ایک بڑی تعداد نے پی ٹی آئی کی حمائت کی تھی اور لاکھوں کروڑوں روپے کی فنڈ بھی دیئے تھے۔ یہ تھی وہ تمام صورت حال جس کے بیک گراؤنڈ میں 2013نون لیگ حکومت میں آئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی قیادت نون لیگ کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی اپنی روش تبدیل کرنے کے لئے تیار نظر نہ آئی اور یورپی یونین کی جانب سے ملنے والے جی ایس پی پلس کی دستیابی پر کامیابی کا تمام تر سہرا اس وقت کے گورنر چودھری محمد سرور کے سر باندھ دیااور حکومت وقت کو گھاس تک نہ ڈالا۔ اس ضمن میں باقاعدہ ایک تقریب کا آغاز گورنر ہاؤس لاہور میں کیا گیا جہاں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا مگر آخری وقت میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار تشریف لائے ۔ اس موقع پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بڑوں نے خطبہ استقبالیہ میں حکومت کو مہنگائی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ایک ماہر معیشت کی طرح مہنگائی کم کرنے کیلئے یہ ثابت کرتے رہے کہ حکومت کو معاشی الف کے نام ککڑ کا پتہ نہیں ہے جس پر اس وقت کے وفاقی وزیر خزانہ تاؤ میں آگئے اور انہوں نے بیس منٹ کی تقریر کی بجائے لگ بھگ دو گھنٹے کی تقریر جھاڑدی جس کا اختتام اس وارننگ پر کیا کہ حکومت ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی نہیں کرنے جارہی ہے اور ایکسپورٹر حضرات اپنی جیبوں میں بھرے ڈالر بیچ ڈالیں وگرنہ انہیں نقصان ہوگا۔ انہی دنوں سعودی عرب سے حکومت پاکستان کو ڈیڑ ھ ارب ڈالر کی رقم بطور تحفہ وصول ہوئی تو پاکستانی روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں مستحکم ہوگئی اور راتوں رات ڈالر 104گھٹ کر 98روپے پر آگیا ۔ یہ تھی وہ صورت حال جس میں نون لیگ کی حکومت نے 2013میں اپنے اقتدار کا آغاز کیا اور ایکسپورٹروں کو سیاسی سرگرمیاں اختیار کرنے پر سبق سکھانے کی ٹھان لی۔ تب سے لے کر 2017تک ایکسپورٹر چیخ چہاڑا ڈالتے رہے جس کے جواب میں سابق وزیر اعظم نواز شریف گونگلوؤں سے مٹی جھاڑتے رہے۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ ایکسپورٹروں نے ازخود ایک گھمبیر صورت حال کو دعوت دی اور حکومت کو تاؤ دلائے رکھا جس کے نتیجے میں پاکستانی برآمدات بری طرح سے متاثر ہوئیں۔

عین ممکن تھا کہ حکومت ملک میں زرمبادلہ کے مسائل سے نمٹنے کیلئے جلد گھٹنے ٹیک دیتی اور ایکسپورٹروں کے مطالبے پر نہ صرف روپے کی قدر میں کمی کرتی بلکہ دیگر ایسے اقدامات بھی یقینی بناتی جن سے ایکسپورٹر صاحبان ریلیف محسوس کرتے اور ان اقدامات کے فوائد سمیٹتے ہوئے ہنستے گاتے آگے بڑھتے چلے جاتے اور حکومت حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر انہیں مراعات دینے پر تیار ہوجاتی لیکن اس دوران چین کی جانب سے سی پیک کے تحت لگ بھگ پچاس ساٹھ ارب ڈالر کی خطیر رقم پاکستان میں انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور بجلی کے کارخانوں کی تنصیب میسر آگئی ۔ دوسرے معنوں میں حکومت کو زرمبادلہ کے ضمن میں اس دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑا جو سی پیک کی عدم موجودگی میں لازمی طور پر ایک بہت بڑے سوالیہ نشان کی صورت حکومت کے سامنے کھڑا ہوتا۔ اب ایک طرف تو حکومت کو سعودی حکومت سے ڈیڑ ھ ارب ڈالر کی خطیر رقم بطور تحفہ مل چکی تھی اور دوسری جانب چین سے ساٹھ ارب ڈالر کا سی پیک کا پراجیکٹ مل گیا اور ملک میں جہاں روپے کی قدر میں استحکام کا ڈول ڈالا گیا وہیں پر بڑے پیمانے پرانفراسٹرکچر کی تعمیر کا کام بھی شروع ہوگیا اور یوں کم پڑھے لکھے اور عام مزدور کیلئے کام کاج کے بہت سے منصوبے نکل آئے۔ خاص طور پر حکومت پنجاب بجلی پیدا کرنے اور میگا پراجیکٹس آغاز کرنے میں فرنٹ فٹ پر نظر آئی جس سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے عام آدمی کے لئے روزگار کا سامان ہوتارہا ۔ دوسری جانب ڈالر کی قیمت میں استحکام پیدا کرکے ملک میں مہنگائی کے طوفان کو بھی تھامے رکھا اور بالآخر 2017میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر لگ بھگ 3فیصد کے قریب آگئی جو کہ 2008میں مشرف کی اقتدار سے رخصتی کے وقت لگ بھگ 30فیصد کے قریب تھی۔

یہ تھی وہ صورت حال جس کے تناظر میں ٹیکسٹائل انڈسٹری اور نواز حکومت میں ٹھنی رہی جو بالآخر 2017میں جاکر تھمی جب ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ایک وفد نے لائن بنا کر ایک میٹنگ میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور یوں 180ارب روپے کے پیکج کا اعلان ہوا کیونکہ اگر ایکسپورٹر صاحبان ایسا نہ کرتے تو حالات مزید دگرگوں ہو سکتے تھے ۔ پہلے ہی پنجاب میں صرف بجلی پر چلنے والے کارخانوں کی بڑی تعداد پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے بند ہو چکے تھے اور ملک میں گیس کی دو قیمتوں کی وجہ سے بھی پنجاب کی انڈسٹری کو ملک کے اندر ہی کراچی میں لگی فیکٹریوں سے مسابقت کا سامنا تھا۔

اس وقت جبکہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 10فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور حال ہی میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے بجلی کی قیمت میں 3روپے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے ، یقینی طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری نے سکھ کا سانس لیا ہے اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ ان دو اقدامات سمیت دیگر مراعات کی موجودگی میں پاکستانی برآمدات بڑھوتی کا راستہ اپنائیں گی بشرطیکہ اگلے عام انتخابات میں ایکسپورٹ انڈسٹری اپنے آپ کو نیوٹرل رکھتے ہوئے اپنی توجہ ملکی سیاست کی بجائے اپنی تجارت پر مرکوز کھ پاتی ہے۔

سرخیاں

ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 10فیصد اضافہ ہو چکا ہے

ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے بجلی کی قیمت میں 3روپے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے

ایک طرف سعودی حکومت سے ڈیڑ ھ ارب ڈالر ملے تو دوسری جانب چین سے سی پیک مل گیا

جنوری کے پیکج کو اکتوبر تک لاگو نہیں کیا گیا تو 24ارب روپے کا پیکج کیونکر ہوگا

تصاویر

نواز شریف

شاہد خاقان عباسی

اسحٰق ڈار

مفتاح اسماعیل

گوہر اعجاز

ٹیکسٹائل صنعت

سی پیک

مزید : ایڈیشن 2