پنجاب میں بے مثال ترقی کی لازوال

پنجاب میں بے مثال ترقی کی لازوال

تحریر:عبدالرؤف اعوان

الیکشن 2018ء کے بادل سروں پر منڈلا رہے ہیں اور تمام تر سیاسی جماعتوں کی پھرتیاں بڑھتی جا رہی ہیں مگر کیا محض نعروں تک ہی تبدیلی کا دعویٰ کیا جائیگا یا پھر مسلم لیگ(ن) بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف جیسے لیڈر کی زیر قیادت عملی اقدامات کا مظاہرہ بھی ممکن ہو سکے گا۔ شہباز شریف کانام کسی تعارف کا محتاج نہیں ،دنیا بھر میں شہباز سپیڈ کے چرچے زبانوں پر زد عام ہیں اور سیاسی مخالفین بھی تعریف کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ پچھلے 10سالوں میں پاکستان بالخصوص پنجاب میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے ہیں، پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کئی ہزار میگاواٹ بجلی کا سسٹم میں آنا، 90ارب کی لاگت سے :خادم دیہی روڈز پروگرام:،دانش اسکولوں جیسے منفرد نوعیت کو تعلیمی مراکز،پنجاب انڈوومنٹ فنڈ کے ذریعے اربوں کے وظائف کی تقسیم ممکن ہو چکی ہے ، پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے پلیٹ فارم سے 20لاکھ سے زائد گھرانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کے ساتھ،اربوں روپے کے کسانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی،ہونہار طلبہ کو لیپ ٹاپ کی تقسیم کے ساتھ اسکالر شپ کے مواقع اور بیرون ممالک میں اعلیٰ تعلیم کا حصول ممکن ہونا،پنجاب بھر میں تمام اہم سینٹرز کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا،پی کے ایل آئی جیسے اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتالوں کا قیام ، صوبہ بھر میں ٹی ایچ کیوز اور ڈی ایچ کیوز میں مزید بہتری اور ایسے بہت سے سنہرے اقدامات کی بات کی جا سکتی ہے مگر یہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا۔کئیر ٹیکر سیٹ اپ آنیوالا ہے اور پنجاب کی عوام کبھی بھی شہباز شریف کی خدمات کو فراموش نہیں کر سکے گی۔ ابھی حال ہی میں وزیراعلیٰ شہبازشریف نے رحیم یار خان میں خواجہ فرید انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے اکیڈمک بلاک کا افتتاح کرنے کے ساتھ یونیورسٹی کیلئے 6 بسوں کی فراہمی کا اعلان، ہاسٹلز کی تعمیر، ایئرکنڈیشنرز کی تنصیب کا کام ایک سال میں مکمل کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جنوبی پنجاب کے ہیروں کو تراشنے کیلئے ا سٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی بنائی ہے اور بلا شبہیہ یونیورسٹی پورے پاکستان کی ہے، رحیم یار خان جنوبی پنجاب کا اہم شہر ہے اور یہ شہر پنجاب اور سندھ کے سنگم پر واقع ہے اور ہم یہاں سٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی قائم کر رہے ہیں جس کے پہلے مرحلے کی تکمیل ہو چکی ہے اور بہت جلداس یونیورسٹی کا شمار جلد پاکستان کی ممتاز یونیورسٹیوں میں ہوگا۔ یہ یونیورسٹی رحیم یار خان کی ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی یونیورسٹی ہے اور یہاں شمالی وزیرستان، بلوچستان، کے پی کے، سندھ اور دیگر علاقوں کے بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں زیور تعلیم سے آراستہ ہونے والے بچے اور بچیاں قوم کے عظیم مستقبل کی ضمانت ہیں۔ دانش سکولز کے بچے اور بچیاں بھی اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ سینکڑوں ایکڑپر قائم یہ یونیورسٹی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ جنوبی پنجاب ترقی کی دوڑ میں وسطی پنجاب کو پیچھے چھوڑنے کیلئے تیار ہے۔یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جنوبی پنجاب کا نعرہ لگانے والے صرف نعرہ ہی لگاتے رہے ، انکے آباؤ اجداد نے اپنے دور حکومت میں اس خطے کو ریگستان بنائے رکھا جبکہ پنجاب حکومت نے اس علاقے کی ترقی کیلئے عملی اقدامات کئے اور اسے حقیقی ترقی دی،گزشتہ 10 برسوں میں 31 فیصد آبادی کو 36 فیصد وسائل دینے کے ساتھ جنوبی پنجاب کیلئے لیپ ٹاپ سکیم، خود روزگار سکیم اور دیگرفلاحی پروگراموں میں 10 فیصد کوٹہ زیادہ رکھا ہے۔افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ فنڈز جیبوں میں ڈالنے والے اور کام نہ کرنے والے اکٹھے ہو چکے ہیں، خدمت کا دوبارہ موقع ملا تو فنڈز جیبوں میں جانے کی بجائے عوام پر خرچ ہونگے۔عام انتخابات میں عوام ان لوگوں کو ووٹ دیں جو فنڈز جیبوں میں ڈالنے کی بجائے عوام کی ترقی اور خوشحالی پر خرچ کرتے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی سہولت کیلئے ہسپتال، تعلیمی ادارے، سڑکیں، پل اور جدید انفراسٹرکچر بناتا ہوں اور میں یہ کام کرتا رہوں گا اورعوام نے خدمت کا دوبارہ موقع دیاتو صوبے بھر میں 12 نئی یونیورسٹیاں بنائیں گے۔

جنوبی پنجاب کیلئے سٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی ایک تحفہ ہے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جنوبی پنجاب کے ہیروں کو تراشنے کیلئے شاندار یونیورسٹی بنائی ہے ۔ خواجہ فرید انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی جنوبی پنجاب کے طلباء و طالبات پر احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہے ۔ موجودہ دور انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے اور پنجاب حکومت نے یہ شاندار یونیورسٹی بنائی ہے تاکہ ہمارے نوجوان بااختیار بنیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں۔ اس یونیورسٹی میں رحیم یار خان کے دانش سکول کے بچے اور بچیاں بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں،مزید براں اس یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے علاوہ دیگر شعبے بھی قائم کئے گئے ہیں اور اس یونیورسٹی میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بچے اور بچیاں بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ درحقیقت دانش سکول سے پڑھ کر آنے والے بچے اور بچیوں کو شاندار یونیورسٹی ملی ہے۔ غریب گھرانوں کے بے سہارا اور یتیم بچوں اور بچیوں کو یہاں اعلیٰ تعلیم کے مواقع مل رہے ہیں۔ اگر دانش سکول یا یہ یونیورسٹی نہ بنتی تو شاید یہ بچے زندگی کے اندھے تھپیڑوں کی نذر ہو جاتے۔ قوم کے یہ بچے اور بچیاں یہاں سے جدید تعلیم سے آراستہ ہو کر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

رحیم یار خان کی ا سٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی میں بہترین اور تعلیم یافتہ اساتذہ موجود ہیں، جن میں 70 اساتذہ پی ایچ ڈی ہیں۔ یہ منصوبہ 13 ارب روپے کا ہے جن میں سے ساڑھے 4 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور اگلے مالی سال کیلئے ساڑھے6 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ 10 برس کے دوران جنوبی پنجاب کی ترقی کیلئے بے مثال اقدامات کئے ہیں اور 31 فیصد آبادی کے مقابلے میں اوسطاً 36 فیصد وسائل فراہم کئے گئے ہیں جبکہ گزشتہ 2 برس کے دوران اس خطے کی ترقی کیلئے 45 فیصد فنڈز دیئے گئے ہیں۔ لیپ ٹاپ سکیم، خود روزگار سکیم اور پنجاب حکومت کے دیگر فلاحی پروگراموں میں جنوبی پنجاب کا کوٹہ 10 فیصد زیادہ رکھا گیا ہے۔ 27 ارب روپے کی لاگت سے لودھراں تا خانیوال روڈ مکمل ہونے کو ہے جبکہ 14 ارب روپے کی لاگت سے مظفرگڑھ۔ڈی جی خان روڈ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ ترکی کی حکومت نے مظفرگڑھ میں 100 بستروں پر مشتمل گورنمنٹ رجب طیب اردوان ہسپتال بنایا تھا، ہم اس ہسپتال کو 500 بستروں تک لے گئے ہیں۔ 250 بستروں کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ دوسرے مرحلے پر بھی تیزرفتاری سے کام کیا جا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب میں سرکاری سکولوں میں پڑھنے والی بچیوں کو چھٹی جماعت میں 200 روپے کاوظیفہ دیا جاتا تھا جو کہ بڑھا کر ایک ہزار روپے کر دیا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2