ایف اے ٹی ایف اہداف پر عملدرآمد مشکل ہو گا: مفتاح اسماعیل

ایف اے ٹی ایف اہداف پر عملدرآمد مشکل ہو گا: مفتاح اسماعیل

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ جو لوگ ڈالر اکاؤنٹ رکھتے ہیں ان کیلئے ٹیکس فائلر ہونا لازم ہوگا اور نان ٹیکس فائلر ڈالر اکاؤنٹ نہیں رکھ سکیں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ انسداد منی لانڈرنگ کے عالمی ادارے 'فنانشل ایکشن ٹاسک فورس' کے ایک ذیلی ادارے کی طرف سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے تجویز کردہ ایکشن پلان میں ایسے اہداف دیئے گئے ہیں جن پر ان کے بقول چند ماہ میں عمل کرنا بہت مشکل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بظاہر مقصد پاکستان پر سیاسی دباؤ بڑھانا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ بطور ذمہ ریاست کے پاکستان کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے ملک میں زرمبادلہ بھیجنے پر کوئی پابندی نہیں، اگر سمندر پار پاکستانی ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ بھیجیں گے تو ذرائع پوچھے جائیں گے، ایک کروڑ روپے سے زائد کے زرمبادلہ آئے تو ایف بی آر پوچھ گچھ کرے گا اور پیسے بھیجنے والے کو ذرائع آمدن بتانا ہوں گے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ ڈالر اکاؤنٹ رکھتے ہیں ان کے لیے ٹیکس فائلر ہونا لازم ہوگا، نان ٹیکس فائلر ڈالر اکاؤنٹ نہیں رکھ سکیں گے اور اب 50 لاکھ روپے مالیت کی پراپرٹی خرید سکیں گے۔مفتاح اسماعیل نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم افراد پیسہ وطن لاکر2 فیصد ٹیکس ادا کرکے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بیرون ملک مقیم افراد پیسہ ڈکلیئر کرکے باہر رکھیں تو 5 فیصد ٹیکس ادا کرکے اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ جو بیرون ممالک میں غیرمنقولہ پراپرٹی ظاہر کرے وہ 3 فیصد ٹیکس دیکراسکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول