پنجاب میں دہشتگردی، افغان تنظیم جماعت الحرار ملوث نکلی

پنجاب میں دہشتگردی، افغان تنظیم جماعت الحرار ملوث نکلی
پنجاب میں دہشتگردی، افغان تنظیم جماعت الحرار ملوث نکلی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

راولپنڈی (ویب ڈیسک) پنجاب میں گزشتہ سال دہشتگردی کے چار واقعات میں افغانستان سے متحرک تنظیم جماعت الحرار ملوث نکلی، ملوث حملہ آوروں کے سہولت کار گرفتار کرلئے گئے، نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے قدامت پسندانہ خیالات ابھارے جارہے ہیں تو دوسری جانب داعش، تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الحرار کے سلیپر سیلز کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو پنجاب کی سکیورٹی صورتحال کیلئے انتہائی خطرناک ہے، نیک کی سطح پر سوشل میڈیا مانیٹرنگ میکنزم تشکیل دیا جائے۔

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق پنجاب سمیت ملک بھر کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ اجلاس میں پنجاب سمیت تمام صوبوں کے آئی جیز اور سینئر پولیس حکام سمیت سکیورٹی سے متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب محمد طاہر رائے نے سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب بھر میں گزشتہ سال کے دوران دہشگردی کے چار حملوں کے علاوہ سکیورٹی صورتحال تسلی بخش رہی۔

انہوں نے بتایا کہ سال 2017ءمیں پنجاب میں ہونے والے چار بڑے دہشتگرد حملوں میں افغانستان سے متحرک تنظیم جماعت الحرار ملوث تھی، چاروں حملوں میں ملوث سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزمان کا تعلق قبائلی علاقوں سے ہے جبکہ ایک مخصوص مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں میں قدامت پسندانہ خیالات کا ابھاررہے ہیں اور داعش، تحریک طالبان اور جماعت الحرار کے (سلیپر سیل) کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو پنجاب کی سکیورٹی کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ لہٰذا نیکٹا کی سطح پر سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کیلئے فعال میکنیزم تشکیل دیا جائے تاکہ دہشتگردوں کے ان ہتھکنڈوں سے نمٹا جاسکے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /راولپنڈی