فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر432

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر432
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر432

  

کراچی میں ’’چندا‘‘ کی نمائش ہوئی تو دیکھنے والوں کو سبھی کچھ بہت اچھا لگا۔ مشرقی پاکستان کے آؤٹ ڈور مقامات یہاں کے لوگوں کے لیے نئے اور بے حد دلکش تھے ۔ اداکار سبھی نئے تھے اور ان میں سے کئی اداکاروں کا اردو تلفظ بھی بہت اچھا نہیں تھا مگر یہی بات اس فلم کی خوبی بن گئی۔ بنگالی اداکاروں کے لیے بہت آسان اور سادہ مکالمے لکھے گئے تھے ۔ جو فلم بینوں نے مغربی پاکستان کی فلموں میں عموماً بھاری بھر کم اور مشکل ڈرامائی مکالموں کا رواج تھا ۔ گانوں کی طرزیں بھی سادہ اورعام فہم تھیں اور دل نشیں بھی ۔ اس لیے ’’ چندا‘‘ کی موسیقی بھی سب کو بہت پسند آئی۔ کراچی میں چند ہفتوں کی نمائش کے بعد یہ سب نام فلم بینوں کے لیے مانوس ہوگئے اور وہ ان کو پسند کرنے لگے۔ 

پنجاب اور صوبہ سرحد کے سرکٹ کے لیے اس فلم کو جے سی آنند صاحب نے ریلیز کیا تھا اور اس سرکٹ میں بھی اسے بہت مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی ۔ انیس دوسانی ہی کی جُرات رندانہ کا یہ ثمر تھا کہ جس فلم پر صرف ایک لاکھ روپے لاگت آئی تھی اس نے سارے پاکستان میں تقریباً چالیس لاکھ روپے کا بزنس کیا۔ ۱۹۲۱ء میں یہ بہت معقول رقم تھی اور ہٹ فلمیں ہی اتنی کمائی کرتی تھیں۔ 

انیس دوسانی کا نام مغربی پاکستان میں بھی ایک جانا پہچانا نام بن گیا۔ 

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر431 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’چندا‘‘ کی کامیابی نے انیس دوسانی کو ایک نیا حوصلہ بخشا۔ اب انہوں نے اردو فلمیں بنانے کا عزم کر لیا تھا۔ پہلی کامیابی نے ان کے حوصلے بلند کر دیے تھے۔ اسی طرز پر وہ دوسری فلم بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے لیکن اس بار انہوں نے زیادہ منصوبہ بندی اور سوجھ بوجھ سے کام لیا۔ 

انیس دوسانی کی دوسری اردو فلم ’’تلاش ‘‘ تھی۔ قسمت ان پر مہربان تھی اس لیے ’’تلاش ‘‘ نے ’’چندا‘‘ سے زیادہ کامیابی حاصل کی اور مقبولیت کا ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ ’’چندا‘‘ کے موسیقار روبن گھوش اور نغمہ نگار سرور بارہ بنکوی تھے۔ سرور صاحب ایک مستند اور مقبول ادبی شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے مگر جب انہوں نے فلمی گیت لکھے تو ایک نیامعیار قائم کر دیا۔ ان کے نغمات میں ادبی چاشنی اور دلکشی بھی تھی اور نغمگی بھی ۔ بول سچویشنز کے حساب سے بھی بہت موزوں اور برمحل تھے ۔ ’’چندا‘‘ میں ان دونوں کی ٹیم نے موسیقی کے دلد ادہ لوگوں کے دل موہ لیے تھے۔ 

’’تلاش ‘‘ کی ہدایت کاری انیس دوسانی نے احتشام صاحب کے چھوٹے بھائی مستفیض کے سپرد کردی حالانکہ وہ پہلی فلم کی کامیابی کے بعد اس ہدایت کار کو لے سکتے تھے مگروہ نت نئے تجربات کرنے اورنئے نئے لوگوں کو آزمانے کے قائل تھے۔ بعد میں احتشام ور مستفیض نے بہت سی کامیاب فلمیں بنائیں اور مشرقی پاکستان کی صنعت فلم سازی میں انہیں بہت نمایاں مقام حاصل ہوگیا۔ انیس دوسانی کاروبار کے معاملے میں بھی انصاف پسند اور بہت کھرے انسان تھے۔ انہوں نے اپنے ہدایت کاروں کو فلم میں حصے دار کے طور پر شامل کر لیا تھا اور انہیں ہر فلم کا معقول منافع دیا کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے فلم ساز اور ہدایت کار بھی دولت مند اور خوش حال ہوگئے تھے ۔ 

’’تلاش ‘‘ مین شبنم اور رحمٰن کو پہلی بار فلم جوڑی کی حیثیت سے پیش کیا تھا اور پہلی فلم ہی سے یہ فلمی جوڑی مقبول ترین فلمی جوڑی بن گئی تھی ۔ سبھاش دتہ بھی اس کے اداکاروں میں شامل تھے۔ دوسرے تمام اداکار بھی ڈھاکا سے ہی تعلق رکھتے تھے۔ فلم کے مصنف اور ہدایت کار مستفیض تھے مگر اس کے مکالمے اور نغمات سرور بارہ بنکوی نے لکھے تھے ۔ سرور بارہ بنکوی کے نغمات اور روبن گھوش کی دھنوں نے دھوم مچادی اور اس فلم کی موسیقی بھی بہت پسند کی گئی ۔ 

انیس دوسانی کی یہ دوسری فلم گولڈن جوبلی تھی ۔ اس کی کامیابی کے بعد انیس دوسانی ایک معتبر فلم ساز قرار دے دیے گئے۔ 

’’تلاش‘‘ کے بعد ہدایت کار مستفیض نے ان کے لیے فلم ’’پیسہ ‘‘ بناتی ۔ یہ بھی ایک معیاری فلم تھی اگرچہ کاروبای اعتبار سے یہ چندا اور تلاش جیسی کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھی ۔ اس فلم میں شبنم کے ساتھ عظیم ہیرو تھے ۔ اس فلم کے نغمہ نگار سکہ بند شاعر فیاض ہاشمی تھے ۔ روبن گھوش نے طرزیں بنائی تھیں۔ 

اب انیس دوسانی کی کراچی اور لاہور آمدورفت کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اپنی دلکش شخصیت اور شائستہ بات چیت کی وجہ سے وہ فلمی حلقوں میں بہت جلد مقبول ہوگئے۔ لاہور میں سنتوش کمار سے ان کی بہت گہری دوستی ہوگئی تھی۔ جب بھی وہ لاہور آتے تھے تو ان کی شام سنتوش کمار کے گھر پر ہی گزر تی تھی۔ یہاں کچھ اور مہمان بھی مدعو ہوا کرتے تھے۔سنتوش کمار کا دسترخوان (یا کھانے کی میز) بہت وسیع تھا۔ کئی اقسام کے لذیذ کھانے میز پر موجود ہوتے تھے ۔ 

تاش کھیلنے والوں کے لیے تاش کی محفل الگ کمرے میں جمتی تھی ۔ جام و ساغر سے دلچسپی دکھنے والوں کے لیے علیحدہ نشست کا بندوبست ہوتا تھا ۔ رات گئے تک گپ شپ کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ رات گئے سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو سدھار جاتے تھے ۔اس قسم کی محفلیں اس زمانے میں فلمی دنیا میں عام تھیں اور مختلف افراد کے گھروں پر ان کا اہتمام ہوا کرتا تھا ۔ علی زیب کے گھر پرمحفلیں اور ادبی مشاعرے ہوا کرتے تھے ۔ آغا گل اور شبنم کے گھروں پر بھی اکثر ایسی تقریبات منعقد ہوا کرتی تھیں جن میں فلمی ہستیوں کے علاوہ علمی و ادبی شخصیات کا بھی جمگھٹا ہوتا تھا ۔ محمد علی کے گھر پر جوش ملیح آبادی ‘ صوفی غلام مصطفےٰ تبسم ‘ فیض احمد فیض جسیے لوگ مدعو ہوا کرتے تھے ۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کیس محفل ار کیسی رونق ہوتی ہوگی۔ اب تو یہ حال ہے کہ بقول شاعر .....

یاد تھیں ہم کو بھی رنگار رنگ بزم آرائیاں

لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہوگئیں

اب تو گئے دنوں کی یادیں اور باتیں ہی رہ گئی ہیں ۔ نہ وہ لوگ رہے نہ وہ محفلیں۔ 

انیس دوسانی کی اگلی فلم ’’ساگر ‘‘ تھی ۔ یہ رنگین فلم تھی اور اس پر انہوں نے کھلے دل سے روپیہ لگایا تھا۔ اس کی کہانی احتشام نے لکھی تھی اور اس پر انہوں نے کھلے دل سے روپیہ لگایا تھا ۔ اس کی ہدایت کار بھی مستفیض عطا الرحمٰن خان اس کے موسیقار تھے۔ ترانہ ‘ شہنشاہ اور سبھاش دتہ بھی اس کے اداکاروں میں شامل تھے ۔ انیس دوسانی نے جس شوق اور جتنے سرمائے یہ فلم بنائی تھی یہ اس کے مطابق کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ اس کی ایک وجہ کہانی کی کمزور اور دوسری وجہ شبنم کے ساتھ عظیم کی فلمی جوڑی بھی تھی ۔ فلم بین شبنم اور رحمٰن کو فلمی جوڑی کے طور پر دیکھتا چاہتے تھے ۔ دراصل ڈھاکا کی اردو فلموں کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ کہانی کے مواد اور معیار کے اعتبار سے ڈھاکا کی فلمیں زیادہ بھاری بھر کم نہیں ہوتی تھیں۔ سیدھی سادی کہانیاں فلمائی جاتی تھیں۔ مغربی پاکستان کی فلموں کی طرح ان کی کہانیاں فلمائی جاتی تھیں۔ مغربی پاکستان کی فلموں کی طرح ان کی کہانیوں میں زیادہ مواد اور نشیب و فراز نہیں ہوتا تھا۔ اداکاروں کانیا پن اور سچویشنز کی انفرادیت بھی باقی نہیں رہی تھی حالانکہ اداکاری اور ہدایت کاری کامعیار بہت بہتر اور بلند ہوگیا تھا لیکن اسکرپٹ اور کہانی کی کمزوری کی وجہ سے یہ فلمیں زیادہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی تھیں۔ 

انیس دو سانی کو اس فلم میں اگر زیادہ فائدہ نہیں ہوا تو نقصان بھی نہیں ہوا تھا۔ 

رنگین فلم ’’ساگر ‘‘ کا بہت زیادہ کامیاب نہ ہونا ان کے لیے مایوسی کا سبب نہ بن سکا تھا۔ اس بار انہوں نے ایک رنگین سنیما اسکوپ فلم بنانے کا منصوبہ بنایا اور ’’مالا‘‘ کے نام سے ایک بڑی لاگت کی فلم کا آغاز کیا۔ ’’مالا ‘‘ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ پاکستان کی پہلی رنگین سنیما اسکوپ فلم تھی ۔ اس کی ہدایت کا ر بھی مستفیض تھے۔ اداکاروں میں سلطانہ زمان‘ عظیم مرکزی کرداروں میں تھے ۔ اس فلم کی خامی بھی اس کی کمزور کہانی تھی ۔ اداکار بھی مقبول نہ تھے اس لیے یہ فلم زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ 

انیس دوسانی اس وقتی ناکامی سے دل برادشتہ ہونے والے نہیں تھے۔ اس بار انہوں نے پھر ایک بالکل نئی کاسٹ کی فلم بنانے کا منصوبہ بنایا۔ یہ فلم ’’چکوری ‘‘ تھی جس نے کئی اعتبار سے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ 

’’چکوری ‘‘ ایک تاریخ اور تاریخ ساز فلم تھی جس میں پہلی بار نذیر بیگ کو ندیم کے نام سے ہیرو کے کردار میں پیش کیا گیا تھا ۔ فلم ساز انیس دوسانی نے اس فلم میں بالکل نئی دومانی جوڑی کا انتخاب کیا تھا ۔ ’’چکوری ‘‘ میں ندیم اور شبانہ کو پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا۔ ندیم کے ہرو بننے کی داستان کئی بار سنائی جا چکی ہے۔ وہ ڈھاکا کی معروف گلوکارہ فردوسی بیگم کی سفارش پر گلوکاری کرنے کے لیے ڈھاکا گئے تھے ۔ ’’چکوری ‘‘ کے ہیرو اعظٰم تھے لیکن عین وقت پر وہ شوٹنگ کے لیے دستیاب نہ ہوسکے تو ہدایت کا رمستفیض نے ندیم کو ہیرو کا کردار سونپ دیا ۔ یہ دونوں فن کار بعد میں مایہ ناز سپر اسٹار بن گئے ۔ ندیم بیگ بھگ ۲۵ سال تک ہیرو کی حیثیت سے کام کرتے رہے اور آج بھی اداکاری میں ایک بلند مقام اور معتبر نام کے مالک ہیں۔ شبانہ کو بھی بے حد مقبولیت حاصل ہوئی وہ بھی ۲۵ سال سے زائد عرصے تک فلموں میں ہیروئن کی حیثیت سے کام کرتی رہیں۔ انہوں نے اصرار کے باوجود مغربی پاکستان میں رہائش اختیار نہیں کی ۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد وہ بنگلہ فلموں کی سپر اسٹار ہیروئن بن گئی تھیں اور آج بھی اداکاری کے میدان میں جلوہ گر ہیں۔ اس فلم کے اداکاروں میں ریشماں ‘ مصطفی ‘ ڈئیر اصغر اور عرفان بھی شامل تھے ۔ (جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر433 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ