کشن گنگا کے دہشت گرد

کشن گنگا کے دہشت گرد
کشن گنگا کے دہشت گرد

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

وزیراعظم ہندوستان ںریندر مودی نے لیہہ لداخ میں واقع متنازع کشن گنگا ہائیڈرو پروجیکٹ کا افتتاح کر دیاہے، اس سے330 میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ 2009 میں اس منصوبے کے آغاز سے ہی پاکستان اسکے خلاف احتجاج کرتا آیا ہے،پاکستان کا موقف ہے کہ یہ معاھدہ سراسر سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔دوسری طرف پاکستان میں کالا باغ ڈیم سیاسی محاذ آرائی کی نذر ہوچکا ہے جبکہ بھاشا دیامر ڈیم پر ییش رفت کے با وجود آئندہ دس سال میں اسکے مکمّل ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ 

پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ کے مطابق تین سو تیس میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے مظفرآباد سے ڈھائی سو کلومیٹر دور دریائے نیلم پر اٹھائیس کلومیٹر لمبی سرنگ کے ذریعے پانی کا رخ موڑ کر بنائے جانے والے پن بجلی پیدا کرنے کے اس منصوبہ پر انیس سو چورانوے میں کام شروع کیاگیا تھا جس پر سندھ طاس معاہدہ کے مطابق پاکستان نے مقررہ مدت کے اندر اس پر اپنے اعتراضات بھارت کو پیش کیے تھے ۔بھارت کی طرف سے اس طرح کے اقدامات کوئی پہلی بار نہیں ہوئے۔سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بھارت کا معمول رہا ہے۔

مردوں کو باوقار بنانے والا وہ پاکستانی انجینئر جس نے ڈریسنگ کی دنیا میں تہلکہ مچادیا

 سندھ طاس معاہدہ کیا ہے اس کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔اس کی اہمیت اور اس معاہدے کے چیدہ چیدہ نکات کچھ یہ ہیں۔

اس معاہدے کے ضامن میں عالمی بینک بھی شامل ہے۔

معاہدے کے تحت بھارت کو پنجاب میں بہنے والے تین مشرقی دریاؤں بیاس، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملے گا یعنی اُس کا ان دریاؤں پر کنٹرول زیادہ ہو گا۔جب کہ جموں و کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاؤں چناب اور جہلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔اگرچہ یہ معاہدہ برقرار ہے لیکن دونوں ملکوں ہی کے اس پر تحفظات رہے ہیں اور بعض اوقات اس معاہدے کو جاری رکھنے کے حوالے سے خدشات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں زیرزمین پانی کے زیادہ استعمال کی وجہ سے دونوں ممالک میں پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے۔ یہ صورت حال زمین پر پانی کے وسائل اور اکثر اوقات سطح زمین پر موجود بہاؤ پر شدید دباؤ کا باعث بنتی ہے۔ اس کے ردعمل میں آبی وسائل پر قبضے اور کنٹرول جیسے اقدامات سامنے آتے ہیں۔ بھارت میں ڈیموں کی تعمیر میں اضافہ اس کی ایک مثال ہے۔موسم کی بدلتی ہوئی صورتحال گرمی اور سردی کے دورانیے میں تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبی قلت اس بات کی علامت ہے  کہ آئندہ ممالک کے درمیان پانی کے مسئلے کو لے کر جنگیں لڑی جا سکتی ہیں جو کہ انتہائی درجے کی مایوس کن صورتحال ہوگی۔بڑے ڈیم کی تعمیر تو ایک طرف چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کر بھی کافی حد تک پانی سے متعلقہ مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے مگر چاہے جمہوری حکومت ہو یا آمریت حقیقی معنوں میں اس سنگین مسئلے کی جانب کبھی سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں گیا ہے۔۔شمال کی طرف بارشیں زیادہ ہوتی ہیں مگر وہاں پر پانی جمع کرنے کا مناسب بندوبست نہیں ہے ۔پنجاب کے میدانی علاقوں میں فصلوں کے لیئے پانی زیادہ درکار ہے مگر سیلابی صورتحال میں نقصانات برداشت کیئے جاتے ہیں۔ ڈیم بنانے کے کسی بھی حقیقی منصوبے کے لیئے کوئی ہوم ورک نہیں کیا جاتا ہے۔بھارت کشن گنگا پروجیکٹ کے بعد رکنے والا نہیں ہے اور اسکی ہر ممکن کوشش ہے کہ پاکستان کو آبی دہشتگردی کا نشانہ بنایا جائے ۔اور سرسبز زمین کو بنجر کر دیاجائے ۔پاکستان کے حکمرانوں کی ترجیحات میں جب تک یہ مسائل سر فہرست نہیں ہونگے اور انکا حل نکالنے کی سنجیدگی سے کوشش نہیں ہوگی ، ہمارے سرسبز لہلاتے میدان صحرا بنتے رہیں گے سندھو کے کنارے اجڑتے رہیں گے۔

..

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ