اب مرد اپنی موت کے بعد بھی بچوں کو جنم دے سکیں گے، سائنسدانوں کی ایسی ایجاد کہ کسی نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا

اب مرد اپنی موت کے بعد بھی بچوں کو جنم دے سکیں گے، سائنسدانوں کی ایسی ایجاد کہ ...
اب مرد اپنی موت کے بعد بھی بچوں کو جنم دے سکیں گے، سائنسدانوں کی ایسی ایجاد کہ کسی نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بوسٹن(نیوز ڈیسک) میڈیکل سائنس کی ترقی سے یہ تو کب کا ممکن ہو چکا کہ مرنے والوں کی آنکھوں اور گردوں جیسے اعضاءکو ضرورتمند زندہ افراد میں ٹرانسپلانٹ کیا جا سکے مگر یہ تو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن تولیدی اعضاءکی پیوندکاری بھی ممکن ہو سکے گی۔ امریکی سائنسدانوں نے اب یہ حیرتناک کام بھی کر دکھایا ہے۔ نئی ٹرانسپلانٹ تکنیک سے پہلی بار یہ ممکن ہو گیا ہے کہ دنیا سے رخصت ہونے والے مردوں کے تولیدی اعضاءبانجھ پن کے شکار مردوں میں ٹرانسپلانٹ کئے جائیں اور وہ ان کی مدد سے صاحب اولاد بن سکیں۔

دنیا کے پہلے جنسی عضو ٹرانسپلانٹ کا کامیاب تجربہ بالٹی مور کے جانز ہاپکنز یونیورسٹی ہسپتال میں ایک سابق سپاہی پر کیا گیا۔ ڈاکٹر جوناتھن آئیوز فار سنٹر آف ایتھکس ان میڈیسن ایٹ یونیورسٹی آف برسٹل کا کہنا تھا کہ ”اگر کسی شخص نے موت سے پہلے یہ اجازت دی ہے کہ اس کے جنسی اعضاءکو بعدازاں کسی اور شخص کے جسم میں ٹرانسپلانٹ کیا جاسکتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ میرے خیال میں کسی مردہ شخص کے خصیے کسی زندہ شخص میں ٹرانسپلانٹ کرکے اسے حصول اولاد کے قابل بنایا جاسکتا ہے اور ہمارے حالیہ تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ٹرانسپلانٹ کامیابی کے ساتھ بڑے پیمانے پر استعمال ہوسکتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کچھ لوگ سپرم کا عطیہ کرتے ہیں۔ اگر کسی شخص نے مرنے سے قبل اس کی اجازت دی ہے تو یہ ایسے ہی ہے گویا وہ اپنے سپرم عطیہ کررہا ہے لیکن اگر اس کی اجازت کے بغیر ٹرانسپلانٹ کیا گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے سپرم بچے پیدا کرنے کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں۔ عضو، سکروٹم اور خصیے کے مکمل ٹرانسپلانٹ کے کئی مقاصد ہیں جن میں سے افزائش نسل ایک ہے۔ یہ ٹرانسپلانٹ جسم میں مردانہ ہارمون کا توازن قائم رکھنے میں بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ یعنی یہ ٹرانسپلانٹ صرف اولاد کے حصول میں ہی معاون نہیں بلکہ ضرورتمند مرد کی عمومی صحت کے لئے بھی غیر معمولی فوائد رکھتا ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی