’پاکستانی ایک ایک روٹی کو ترس جائیں گے اگر۔۔۔‘ سائنسدانوں نے تاریخ کی سب سے خوفناک وارننگ جاری کردی

’پاکستانی ایک ایک روٹی کو ترس جائیں گے اگر۔۔۔‘ سائنسدانوں نے تاریخ کی سب سے ...
’پاکستانی ایک ایک روٹی کو ترس جائیں گے اگر۔۔۔‘ سائنسدانوں نے تاریخ کی سب سے خوفناک وارننگ جاری کردی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(نیوز ڈیسک) جراثیم طاقتور ہو رہے ہیں، ہم یہ بات روزانہ سنتے ہیں لیکن شاید اس بات کی اصل سنگینی سے آگاہ نہیں ہیں۔ عموماً یہ بات انسانوں میں بیماریاں پھیلانے والے جراثیموں کے بارے میں کہی جاتی ہے لیکن سائنسدانوں نے تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ فصلوں پر حملہ کرنے والے کیڑوں کے لئے تو یہ بات اور بھی زیادہ درست ہے۔ خصوصاً فصلوں پر حملہ کرنے والی ایک پھپھوندی پر ادویات تیزی سے بے کار ثابت ہو رہی ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں فصلوں کی تباہی کا خطرہ شدید ترین ہوچکا ہے اور عین ممکن ہے کہ عالمی پیمانے پر ایک بڑا قحط پید اہو جائے جو کروڑوں انسانوں کی جان لے سکتا ہے۔

ڈیلی سٹار کے مطابق حالیہ تحقیقات کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جس طرح انسانی بیماریاں پید اکرنے والے بہت سے بیکٹیریا ادویات کے خلاف اپنی مزاحمت بڑھارہے ہیں اسی طرح فصلوں پر حملہ کرنے والے جراثیم اور ایک خاص قسم کی پھپھوندی بھی جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت پید اکررہی ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کی مزاحمت بڑھتی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب کسی بھی قسم کی جراثیم کش ادویات کا ان پر اثر نہیں ہوگا، نتیجہ یہ ہوگا کہ فصلوں کو ان مضر کیڑوں سے بچانے کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہے گا اور دنیا بھر میں فصلوں کے بڑے پیمانے پر نقصان کے نتیجے میں قحط کا سماں پیدا ہوجائے گا۔

ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والی یہ پھپھوندی صرف فصلوں کے لئے ہی نہیں بلکہ انسانی صحت کے لئے بھی براہ راست خطرہ ثابت ہوگی۔ اعدادوشمار ثابت کرتے ہیں کہ پہلے ہی مضر صحت پھپھوندی کے باعث ہونے والی انسانی ہلاکتوں کی تعداد ملیریا اور بریسٹ کینسر جیسی بیماریوں کے باعث ہونے والی اموات سے زیادہ ہے۔

حالیہ تحقیق کی سربراہی کرنے والے سائنسدان پروفیسر میتھیو فشر کا کہنا تھا کہ بیکٹیریامیں اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت پر تو بہت بڑے پیمانے پر تحقیق کی گئی ہے لیکن اینٹی بائیوٹک کے خلاف پھپھوندی کی مزاحمت کے مسئلے کو عموماً نظر انداز کیا گیاہے۔ اب یہ خطرہ فصلوں اور انسانی صحت کے لئے سنگین ہوچکا ہے اور فوری طور پر اس کا کو ئی حل نہ ڈھونڈا گیا تو نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ