ٹیکس وصول کرنے کا نسخہ

ٹیکس وصول کرنے کا نسخہ
ٹیکس وصول کرنے کا نسخہ

  

موجودہ حکومت پر ہر طرف سے یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ اس حکومت نے مہنگائی کا طوفان برپا کر کے عوام کی پہلے سے کمزور کمر کو دوہرا کر دیا ہے۔ اوپر سے ڈالر کی اڑان ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔ اس تنقید کے جواب میں حکومتی ترجمان اور وزراءسارا الزام سابقہ حکومتوں پر دھر رہے ہیں کہ یہ سب انہی کا کیا دھرا ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کہ اس حکومت کی مدت اقتدار تو ابھی ایک برس بھی نہیں ہوئی۔ جبکہ اس طرح کے معاشی بحران تو دہائیوں کی کارگزاری کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

مہنگائی کا جن کسی کے قابو میںآسکا ہے۔ نہ اپنے روپے کی گرتی ہوئی قدر کے آگے کوئی بند باندھا جا سکا ہے۔ اور اس کا الزام ہر آنے والی حکومت اپنے پیش رووں کے سر پر ہی رکھتی آئی ہے۔ لیکن کسی نے بھی مہنگائی کی تیز چلتی اس گاڑی کو بریک لگانے کی کوشش نہیں کی، اب تو صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ اس گاڑی میں بریک نام کا پرزہ ہی نہیں ہے۔ بڑے عہدوں پر براجمان اور پڑھے لکھے لوگ بھی اس طوفان کی اصل جڑ کا کھوج لگانے کی بجائے دوسروں پر الزام دھرنے کی آسان مشق پر ہی اکتفا کرتے نظر آتے ہیں۔

یوں تو مہنگائی پوری دنیا میں ہمیشہ ایک ہی رخ پر سفر کرتی ہے۔ اور وہ یہ کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی قدرتی وسائل کی مزید تقسیم اور پیداوار کا تناسب بگڑنے کی وجہ سے ہر سال مہنگائی میں کچھ فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن جن ممالک میں کام ہو رہا ہے، جہاں سوچنے کا رواج ہے، جہاں ہر عمل سوچ سمجھ، توازن اور منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ وہاں قیمتوں کا تعین کرتے وقت خریداروں کی قوت خرید کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور اسی تناسب سے ہر سال تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جاتا ہے۔

اور یہ اضافہ صرف سرکاری ملازمتوں میں نہیں بلکہ نجی اداروں میں بھی ہوتا ہے۔ اور تنخواہوں کا تعین کرتے وقت آجروں اور اجیروں کے نمائندے موجود ہوتے ہیں اور کئی روز کے بحث مباحثے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے۔ البتہ وطن عزیز کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ یہاں ہر کوئی کم از کم خرچے میں زیادہ سے زیادہ مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

موجودہ حکومت کے پہلے ہی سال کے اندر جو مہنگائی کا طوفان اور معاشی بحران آیا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں پہلے نمبر پر سابقہ حکومتوں کی معاشی بے اعتدالیاں، نئی حکومت کی ناتجربہ کاری، ملک پر طوفانی قرضوں کا بوجھ اداروں کی تباہ حالی اور سرماےہ داروں کے ٹیکس نہ دینے کی روش شامل ہے۔ اب حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیکنے اور مزید ٹیکس لگانے کے سوا کوئی چارا نہ تھا۔ ہمارے محترم وزیراعظم صاحب نے حکومت میں آنے سے پہلے جو بڑے بڑے دعوے کر رکھے تھے۔ حکومت ملنے کے بعد ان کی آنکھوں سے پردہ ہٹ گیا ہوگا اور وہ جان گئے ہوں گے کہ مخالف ٹیم کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے سے میچ نہیں جیتا جا سکتا اس میں اپنی ٹیم کی کارگزاری بھی ضروری ہے۔

ہمارے وزیراعظم صاحب ہمیشہ یہ فرماتے تھے کہ عوام ٹیکس اس لیے نہیں دیتے کہ ان کو اپنے حکمرانوں پر اعتبار نہیں، اگر جناب وزیراعظم صاحب نے یہ سوچا ہوتا کہ جن حکمرانوں پر عوام کا اعتماد ہی متزلزل ہو وہ ان کو اپنا حکمران کیوں منتخب کرتے ہیں؟ یہاں معاملہ الٹ ہے۔ عوام خود بدعنوانیوں میں ملوث ہیں۔ اور اپنے حکمرانوں سے نرمی چاہتے ہیں۔ اسی لیے حکمران سخت فیصلے کرنے سے گھبرانے ہیں۔

حکومت جتنی انرجی اور وقت گزشتہ حکومتوں کی خرابیاں بیان کرنے پر صرف کر رہی ہے۔

اتنی قوت کے ساتھ اشاریوں کو درست کرنے اور ٹیکس کا قابل عمل نظام بنا کر ٹیکس وصولی پر توجہ دی جاتی تو حالات بہتر ہو سکتے تھے۔ ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کا راستہ امیروں، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں سے ٹیکس وصولی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں فکس ٹیکس کا نظام متعارف کرائے بغیر ریوینو بڑھانا ناممکن ہے۔ بڑے شہروں کو کئی زون میں تقسیم کر کے تمام چھوٹے، درمیانے اور بڑے کاروباری اداروں اور دکانوں کی سیل کا تخمینہ لگا کر مستقل طور پر طے شدہ ٹیکس نافذ کیا جانا چاہیے اور ٹیکس دہندگان کی سہولت کے پیش نظر انہیں ایک اکاونٹ نمبر دے دیا جائے کہ اس اکاونٹ میں فلاں تاریخ کو ٹیکس کی رقم ادا کر دی جائے۔

جو دکاندار وقت پر ٹیکس دینے سے قاصر رہے تو وہ دکان نیلام کر دی جائے۔ ایک اور بات کہ اس ٹیکس کے بدلے میں ان کاروباری اداروں کو سہولتیں دی جائیں۔ ہمارے محترم وزیراعظم کا دعوی تھا کہ عوام بدعنوان حکومتوں کو ٹیکس نہیں دیتے مگر ہماری حکومت قائم ہوتے ہی ہر طرف سے ٹیکس دینے کی صدا اٹھنے لگے گی۔اب عملاً یہ بات ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیکس جمع کرنے میں حکومت کے علاوہ حزب اختلاف کو بھی تعاون کرنا چاہیے تاکہ ملک معاشی طور پر مضبوط ہو سکے۔ کیونکہ ایک مضبوط اور توانا معیشت ہی ایک مضبوط ملک کی ضمانت ہے۔ اور ایک مضبوط ملک ہم سب کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /کالم