نوشتہ دیوار پڑھنے کی کوشش کریں

نوشتہ دیوار پڑھنے کی کوشش کریں
نوشتہ دیوار پڑھنے کی کوشش کریں

  

ذرائع ابلاغ سے وابستہ ایک دوست سے گزشتہ رات ملاقات ہوئی۔ انہوں نے حالات کے بارے میں میری رائے جاننا چاہی۔ ان کا سوال تھا کہ کیا ہوگا؟ میں نے ان سے سوال کیا کہ کس چیز کا کیا ہوگا، کہنے لگے مہنگائی کتنی بڑھ گئی ہے۔ لوگ بہت پریشان ہیں میں نے ان سے عرض کیا کہ لوگوں کے بارے میں تو بات بعد میں کرتے ہیں پہلے آپ بتائیں مہنگائی نے آپ کو کتنا متاثر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کے گھر میں باروچی خانہ پر آنے والے اخراجات میں کتنا اضافہ ہوا ہوگا۔

انہوں نے کہا تین ہزار روپے ماہانہ۔ بجلی اور گیس کے بل علیحدہ ہیں۔ دیگر اخراجات بھی علیحدہ ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ ان اخراجات کی وجہ سے آپ پریشان ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ مہنگائی میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن جتنا شور حکومت مخالف عناصر نے کیا ہوا ہے، اتنا اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اس مہنگائی سے تن خواہ دار طبقہ زیادہ متاثر ہوا ہے جبکہ کاشت کار، ہاری اس لئے زیادہ متاثر نہیں ہوئے ہیں کہ وہ تو ایک ہاتھ سے دیکر دوسرے ہاتھ سے واپس لے لیتے ہیں۔ رہ گیا مزدور طبقہ ، اس کی صحت پر اس لئے فرق نہیں پڑتا کہ وہ تو روکھی سوکھی کھا کر کچی زمین پر ہی لوٹ لگا لیتا ہے۔ اس کو اپنی زندگی گزانے میں دکھاوے کا سہارا نہیں لینا پڑتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کسی قیمت پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو قبول نہیں ہے۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے قائدین جانتے ہیں کہ ان کے خلاف جو بھی اقدام ہو رہے ہیں، ان کا آغاز حکومت کی تحریک پر نہیں ہوا بلکہ قومی احتساب بیورو (نیب) میں پہلے سے درج مقدمات کی بنیاد پر کارروائی کرنا پڑی ہے۔ پاکستان آج بڑے معاشی بحران کا شکار ہے۔ اس بحران کی وجہ سے دیگر بحران خصو صا اعتماد کا بحران ہے۔ حکومت مخالف سیاسی عناصر اور ذرائع ابلاغ کے ایک گروہ نے حکومت کے خلاف جو تصویر کشی کی ہے وہ حکومت کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

ملک کی معاشی صورت حال میں جس قدر الجھاﺅ پیدا ہوگا، اتنا ہی سیاسی حالات میں تناﺅ پیدا ہوگا، خلفشار بڑھے گا۔ سیاسی عناصر کا بہتر اندازہ ہونا چاہئے کہ موجودہ حالات ما ضی کی طرح کے حالات کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے ترتیب دی گئی افطار پارٹی سیاسی جماعتوں کا ایک ایسا اجتماع ہے جو ما ضی میں ایک دوسرے کی شدید مخالف جماعتوں کو کھانے کی میز پر اکٹھا کرے گا۔ حکومت مخالف عناصر کا خیال ہے کہ یہ اجتماع حکومت کے خلاف تحریک کی بنیاد بنے گا۔

کیا ایک ا فطار پارٹی دلوں کی کدورتیں دور کر سکے گی؟ بات دلوں کی کدورتیں دور کرنے کی ضرورتیں نہیں ہیں بلکہ کسی طرح موجودہ حکومت کو ختم کرایا جائے اور دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔ جمہوریت کے یہ دلدادہ لوگ کیسے سمجھتے ہیں کہ موجودہ معاشی بحران میں دوبارہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے گا؟ اس کے اخراجات کہاں سے پورے کئے جائیں گے؟

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے حکومت مخالف اجتماع بار بار ہوتے رہے ہیں لیکن ان اجتماعات کا نتیجہ وہ نہیں نکلا جس کے لئے منتظمین اور مہتمم حضرات نے اندازے لگائے تھے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ نیب میں جو مقدمات چل رہے ہیں ان کا منطقی انجام ہونا چاہئے۔ یہ تو سب ہی کے علم میں ہے کہ پاکستان کی مخدوش معیشت کی مزید خرابی سے کون کون کس کس طرح متاثر ہو گا۔ پاکستان کے معاشی بحران میں زیادہ سنگینی ایک سوچے سمجھے منصوبہ کا حصہ ہے۔

معاشی طور پر مستحکم اور مضبوط پاکستان کئی قوتوں کے لئے نا پسندیدہ ہے۔ ان کئی قوتوں میں پاکستان کے سیاسی عناصر شامل نہیں ہیں۔ دہشت گردی نے پاکستان کو تازہ دم رہنے نہیں دیا لیکن جو بھی دم خم ہے وہ عناصر اس کو بھی ختم کر دینا چاہتے ہیں۔ کمزور پاکستان ان کی ضرورت ہے، مضبوط پاکستان انہیں قبول نہیں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ خود پاکستان کے معاملات کے ذمہ دار ان جن میں تمام سیاسی عناصر بھی شامل ہیں، کے سوچنے کا معاملہ ہے کہ وہ اس ملک کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔

نیب کے سربراہ جسٹس(ر) جاوید اقبال کہتے ہیں کہ پاکستان اور کرپشن ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی طرح کی بات فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے گزشتہ سال مارچ کے مہینے میں کہی تھی۔ سپریم کورٹ کے سربراہان بار بار اس طرف توجہ دلاتے رہے ہیں۔ کیا ان کی تشویش کا تدارک کرنے کے لئے کوئی مثبت قدم اٹھائے گئے ہیں۔ بظاہر نظر تو نہیں آتا کہ کو ئی قدم اٹھائے گئے ہیں ؟ اگر فوری طور پر با مقصد اقدامات نہیں کئے گئے تو پھر کیا ہوگا، کسی پیش گوئی کا محتاج نہیں ہے۔ نوشتہ دیوار ہے۔ افسوس ہے کہ پاکستان میں نوشتہ دیوار پڑھا نہیں جاتا ہے۔

مزید : رائے /کالم