وقت کے خصوصی غلام (2)

وقت کے خصوصی غلام (2)
وقت کے خصوصی غلام (2)

  


جس طرح میڈیکل ڈاکٹروں کی استعدادِ کار پر وقت کا نزول وصعود اثر انداز ہوتا ہے اسی طرح باقی پیشوں کا حال بھی یہی ہے۔ فوج کی گارڈ ڈیوٹیاں ہر دوچار گھنٹوں کے بعد تبدیل کر دی جاتی ہیں، حالانکہ سپاہی وہی ہوتا ہے لیکن اس کی چوکسی، نگرانی اور چوکنّا پن مرورِ لمحات کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے، اس لئے کوئی ہٹاّ کٹاّ فوجی جوان بھی یہ دعوے نہیں کر سکتا تو وہ دن یا رات کی مخصوص ساعتوں میں، جاگ جاگ کر مسلسل ایک ہی معیار کی خبرگیری کر سکتا ہے۔

فوج کی ایک معروف اصطلاح حیرت زدگی (Surprise) بھی ہے۔ عسکری ماہرین و مصنفین نے ٹیکٹکل سرپرائز اور سٹرٹیجک سرپرائز وغیرہ پر بہت سی کتابیں لکھ ماری ہیں اور جنگ لڑنے کے اصولوں میں ایک اہم اصول ”فریب کاری اور حیرت زدگی“ (Surprise and Deception) بھی کہلاتا ہے۔ حیرت زدگی Surprise کا کوئی سکہ بند ترجمہ نہیں۔ بعض مورخین نے اپنی اردو تصانیف میں اس کا ترجمہ ”ناگہانیت“ بھی کیا ہے۔ ہماری دانست میں یہ دونوں ترجمے درست ہیں، سوال ان کے نفاذ اور استعمال کی کثرت و قلت کا ہے۔

جب تک کوئی سروس ہیڈکوارٹر ”انگلش اردو ڈکشنری“ ترتیب نہیں دیتا اور پھر اردو کی جنرل سٹاف پبلی کیشنز (GSPs) میں اس کا استعمال نہیں کرتا تب تک استعمالِ اصطلاحات کا سوال بیچ میں لٹکتا رہے گا۔ پاک آرمی کی طرف سے اگرچہ اس طرح کی لولی لنگڑی ہی سہی، ایک لغت چھپ کر یونٹوں اور فارمیشنوں میں تقسیم ہو چکی ہے لیکن باقی دو سروسز (فضائیہ اور بحریہ) نے اس طرف بالکل کوئی توجہ نہیں دی۔ ان کے جوانوں (Airmen and Sailors) کو بھی انگریزی اصطلاحات میں ٹریننگ دی جا رہی ہے.... چونکہ یہ موضوع زیر بحث سے ہٹ کر ایک الگ مسئلہ ہے، اس لئے اس کو یہیں چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔

کوئی فوجی جوان جب گارڈ ڈیوٹی دینے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی چوکسی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ نرم پڑتی جاتی ہے۔ جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ آور کسی عسکری تنصیب پر حملہ کرتا ہے تو اس کے سامنے سب سے پہلی رکاوٹ گارڈز ہی کی ہوتی ہے۔ یہاں حملہ آور اور دفاع کنندہ (گارڈ) کے درمیان مقابلہ شروع ہوتا ہے۔ گارڈ کی ذرا سی غفلت، لاپرواہی یا چوکسی میں کمی نہ صرف گارڈ کی اپنی موت کا سبب بنتی ہے بلکہ پوری تنصیب کی بربادی کا باعث بھی بن جاتی ہے.... یہ ”وقت کی خصوصی غلامی“ کی ایک اور واضح مثال ہے۔

اب پیشہ ءدرس و تدریس کی طرف آیئے.... اس میں بھی ”وقت کی غلامی“ ایک بڑا رول ادا کرتی ہے۔ سکول ماسٹری، لیکچراری، پروفیسری ،مدرسی، معلمی، ہیڈماسٹری، پرنسپلی وغیرہ تمام پیشہءدرس و تدریس کے مختلف مراحل ہیں اور ان میں ’وقت کی غلامی‘ بڑی ظاہر و باہر حقیقت ہے۔ کسی بھی سکول / کالج / یونیورسٹی کے اوقاتِ تدریس کو تقسیم کرکے بالعموم 8پیریڈوں میں ڈھال دیا جاتا ہے۔ عام طور پر ایک پیریڈ 40منٹ دورانیے کا ہوتا ہے۔ لگاتار پانچ پیریڈوں کے بعد تفریح (Recess) ہوتی ہے اور باقی تین پیریڈ اس بریک کے بعد مکمل کئے جاتے ہیں۔ کسی بھی تعلیمی / تدریسی ادارے کا ہفتہ واری ٹائم ٹیبل بنانا، ایک ٹیکنیکل چیلنج ہے۔

بڑے تجربہ کار لوگ اس کام پر مامور کئے جاتے ہیں۔ ان کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ مشکل مضامین دن کی اولین ساعتوں میں رکھے جائیں اور ان کے بعد نسبتاً آسان مضامین کی باری آئے.... ریاضی، انگریزی، سائنس، تاریخ، جغرافیہ، اردو، ڈرائنگ وغیرہ کے اوقارِ کار اسی ترتیب سے رکھے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اگر ایک ہفتہ میں پانچ ورکنگ ایام رکھے جائیں تو ان میں صرف 36،37پیریڈ بنتے ہیں جن میں چھ سات مختلف مضامین کی تدریس کرنا ہوتی ہے۔(جمعہ کے روز نصف پڑھائی ہوتی ہے یعنی چار یا پانچ پیریڈز)

جس طرح سٹوڈنت ٹائم ٹیبل ہوتا ہے، اسی طرح ٹیچرز ٹائم ٹیبل بھی بنایا جاتا ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ کسی ٹیچر کو روزانہ پانچ پیریڈز سے زیادہ الاٹ نہ کئے جائیں(پرائیویٹ سکولوں وغیرہ کو تو چھوڑیں کہ وہ تو کسی بھی ٹیچر کو سارا سارا دن کام پر لگائے رکھتے ہیں۔بات گورنمنٹ تعلیمی اداروں کی ہو رہی ہے).... فرض کیجئے انگریزی زبان کے کسی استاد کو پہلے پیریڈ میں نویں کلاس میں جانا پڑتا ہے، دوسرا پیریڈ چھٹی کلاس کا ہو گا اور اس طرح آخری پانچواں پیریڈ شائد ساتویں / آٹھویںکلاس کا ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی ٹیچر کے پہلے پیریڈ کا انہماک اور آخری پیریڈ کا ارتکازِ توجہ ایک جیسا ہوتا ہے؟.... ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا....

پہلے تین چار پیریڈوں کا جوش و جذبہ ءتدریس آگے جا کر بتدریج گھٹتا جاتا ہے لیکن جب بریک کے بعد کے پہلے پیریڈ کا آغاز ہوتا ہے تو ٹیچر اور ٹاٹ (Teacher and Taught) یعنی استاد اور شاگرد کا ارتکازِ توجہ پانچویں پیریڈ سے بہتر ہوتا ہے۔ ماہرین نے جو ریسرچ کی ہے اس کے مطابق بریک میں اساتذہ اور طلباءکا پیٹ چونکہ ہلکے لنچ سے بھرا ہوتا ہے اس لئے استاد اور شاگرد دونوں کو بعد از بریک پڑھانے اور پڑھنے میں نسبتاً زیادہ لطف آتا ہے۔ یعنی شکم سیری اور پرفارمنس کے تناسب کا بھی آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔

وقت کی یہی خصوصی غلامی یا تھکان (Time Fatigue) ہمارا موضوع ہے۔

فوج کی ملازمت میں ہر آفیسرکو بہت سے کورس کرنے پڑتے ہیں جو مختلف دورانیئے کے ہوتے ہیں۔وار کورس، کمانڈ اینڈ سٹاف کورس اور ہر آرم / سروس کے اپنے اپنے ابتدائی / وسط مدتی/ نہائی کورس وغیرہ ایک معمول ہیں۔ ان کورسوں کو (Indoor) کلاس روم اور (Out- door) فیلڈ سرگرمیوں میں منعقسم کر دیا جاتا ہے۔ پہلا مرحلہ تھیوری کا ہوتا ہے جو کلاس روموں کی پرسکون فضا میں تمام کیا جاتا ہے اور دوسرا مرحلہ فیلڈ میں انجام پاتا ہے۔ دونوں میں تھکان کے مختلف رنگ و روپ ہیں۔ ایک میں ذہنی اور دوسرے میں جسمانی ....تھیوری کے مرحلے میں جب کوئی انسٹرکٹر پڑھانے آتا ہے تو سٹوڈنٹ آفیسرز کی توجہ کا سخت امتحان ہوتا ہے۔

کئی بار میں نے محسوس کیا ہے کہ آپ جتنا بھی زور لگا لیں، آپ کا ارتکازِ توجہ ڈسٹرب ہو کے رہتا ہے۔ کئی بار خود میں نے تجربہ کیا ہے کہ تیسرے چوتھے پیریڈ میں آنکھیں ”خواہ مخواہ“ بند ہونے لگتی ہیں۔ جتنا بھی Avoid کریں آپ آنکھوں کی بندش کو نہیں روک سکتے۔ اس ذیل میں بہت سے ”تجربے“ ہو چکے ہیں اور سب کے سب ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ اگر آپ نے جھوٹ موٹ آنکھیں کھول کر نیند کی دیوی کو گلے لگایا ہوا ہے تو آنکھوں میں اتری غنودگی کو تو نہیں چھپا سکتے۔ انسٹرکٹر لوگ سٹوڈنٹس سے زیادہ گھاک اور کائیاں ہوتے ہیں۔ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ کون سا سٹوڈنٹ جاگ رہا ہے اور کون سا جاگ کر بھی سو رہا ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے لطیفے فوج میں گردش میں رہتے ہیں۔ طولِ کلام کے خوف سے ان کو نظر انداز کرتا ہوں۔

”وقت کی تھکان“ کے بہت سے ”علاج“ دریافت کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ ان مساعی میں دو طریقے بہت کامیاب تصور کئے جاتے ہیں.... ایک یہ ہے کہ انسٹرکٹر ہر پانچ دس منٹ کے بعد کوئی ایسا لطیفہ کلاس میں بیان کر دیتا ہے جو نیند کے ماتوں کو جگائے رکھتا ہے۔ لیکن ایسے اساتذہ بہت کم تعداد میں پائے جاتے ہیں اور دوسرا طریقہ جو زیادہ رسمی انداز (Formal) کا ہے وہ یہ ہے کہ ہر دو پیریڈز کے بعد 15منٹ کا وقفہ دے دیا جائے۔ پوسٹ گریجوایٹ لیول یا عسکری نوعیت کے اداروں میں تو ایسا ممکن ہے لیکن عام سکولوں / کالجوں/ یونیورسٹیوں میں میں اس قسم کا ”تعّیش“ ممکن نہیں.... تو پھر کیا کیا جائے؟....

اس سوال کا ایک تیسرا جواب یہ بھی ہے کہ کوئی انسٹرکٹر دورانِ تدریس کسی سٹوڈنٹ سے کوئی ”سخت نسل“ کی باز پرس نہ کرے۔ اگر کوئی سٹوڈنٹ توجہ سے کوئی لیکچر نہیں سنتا تو اس کی پروا نہ کی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ ایسے ہردلعزیز اساتذہ ہر ملک میں اور ہر زبان میں بہت کم پائے جاتے ہیں.... درسِ اخوند اگر ہر بار زمزمہ ءمحبت بن جائے تو مدرسے کی انتظامیہ کو پانچ تعلیمی دنوں کا نہیں پورے سات تعلیمی دنوں کا ٹائم ٹیبل بنانا پڑے گا:

درسِ اخوند گربُدے زمزمہ ءمحبتے

جمعہ،بہ مکتب آورد، طفلِ گریز پائے را

وقت کی تکان زدگی کا کوئی اثر عدالتوں پر بھی پڑتا ہے یا نہیں، اس پر بیرونی ممالک نے کافی ریسرچ کی ہے اور اس کا جواب اثبات میں نکالا ہے۔ ایک مغربی یورپی ملک کی عدالت میں ایک تجربہ کیا گیا۔ پیرول پر رہائی کے امکانات کا ایک کیس ایک جج صاحب کے سامنے اس وقت رکھا گیا جب وہ صبح سویرے عدالت میں آئے۔

وکلاءکے دلائل سننے کے بعد مجسٹریٹ نے مجرم کو پیرول پر رہائی کے احکام جاری کر دیئے۔ لیکن جوں جوں وقت آگے سرکا، یہ امکانات کم ہوتے چلے گئے۔ حتیٰ کہ بریک سے پہلے جو کیس پیش ہوا جج صاحب نے اسی طرح کے جرم کے مرتکب مجرم کو پیرول پر رہاکرنے سے انکار کر دیا۔

یورپ میں یہ تحقیقات منظرِ عام پر آئیں تو ہسپتالوں میں لوگوں نے ”کوشش“ کرکے ڈاکٹر صاحبان کو علی الصبح جا پکڑا۔ تدریسی اداروں میں اساتذہ کے روزانہ تدریسی گھنٹوں (Hours) کو نصف کر دیا گیا اور عدالت میں پیرول پر رہائی پانے کی درخواستوں والے کیسوں میں جج صاحب کے سامنے صبح پہلا کیس رکھنے کی فیس وکیلوں نے دگنی کر دی !.... اللہ اللہ خیر سلا۔(ختم شد)

مزید : رائے /کالم