ورلڈ کپ سے قبل امتحان میں قومی ٹیم فیل

ورلڈ کپ سے قبل امتحان میں قومی ٹیم فیل
ورلڈ کپ سے قبل امتحان میں قومی ٹیم فیل

  


ورلڈ کپ سے قبل انگلینڈ کے خلاف کھیلے جانے والی پانچ میچز کی سیریز میں پاکستانی ٹیم عمدہ کھیل پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آئی بدقسمتی سے قومی ٹیم کو کلین سوئپ شکست کا سامنا کرنا پڑا اس سے قبل آسٹریلیا کے خلا ف سیریز میں پاکستانی ٹیم کو کلین سوئپ ہی شکست ہوئی تھی مسلسل نو میچ میں شکست کے بعد کیا اب پاکستانی ٹیم سے یہ توقع رکھی جانی چاہئیے کہ وہ ورلڈ کپ میں عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کرے گی انگلینڈ کے خلاف سیریز کو ورلڈ کپ سے قبل ایک بڑا امتحان قرا ر دیا جارہا تھا اور پاکستانی ٹیم کی کارکردگی جانچنے کا بھی یہ بہترین موقع تھا جسے شاہینوں نے گنوا دیا ایک بھی میچ نہیں جیت سکے جس سے میگا ایونٹ کے لئے سخت محنت کے دعوے بھی صرف دعوے ہی ثابت ہوئے پاکستان کی ٹیم باﺅلنگ اور فیلڈنگ کے شعبہ میں ناقص ترین کھیل پیش کرتی رہی اور غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا گیا کھلاڑیوں کی سلیکشن میں بھی غلطیا ں ہوئیں اور ٹیم مینجمنٹ اور کپتان کے درمیان بھی کمیونی کیشن کی کمی نظر آئی کسی بھی ٹیم کی جیت کے لئے سب کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ کا ایک ہونا بہت ضروری ہوتا ہے

مگر اس پوری سیریز میں اس کا فقدان ہی نظر آیا چار میچوں میں مسلسل شکست کے بعد یہ نہیں کہا جاسکتا کہ قسمت نے ساتھ نہیںدیا ہم نے اچھا کھیل پیش نہیں کیاتھا ہار کی وجہ صرف اور صرف ناقص کھیل او ر پلاننگ ہے جس کو درست کئے بغیر ورلڈ کپ میں بھی کامیابی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا اب دیکھنا یہ ہے کہ اس شکست کے بعد قومی ٹیم کیا حکمت عملی طے کرتی ہے ورلڈ کپ شروع ہونے میں ایک ہفتہ ہی رہ گیا ہے اور اس سیریز میں شکست کے اثرات یقینی طور پر قومی ٹیم پر میگا ایونٹ میں ضرور پڑیں گے کھلاڑیوں کے پاس ماحول میںایڈجسٹمنٹ کا بہترین موقع تھا تاکہ میچز کے دورن کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہ آئے انگلش ٹیم نے بہت اچھا کھیل پیش کیا

جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے چاہے پہلے بیٹنگ کرنے کی صورت میں یا پھر باﺅلنگ جس طرح سے کھلاڑیو ں نے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقہ سے پورا کیا اس کی مثال بہت کم ملتی ہے ان کی اس کارکردگی کو دیکھ کہا جاسکتا ہے کہ اس مرتبہ انگلش ٹیم اپنے ملک میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ جیتنے کے لئے فیورٹ ہے اور شائد اس موقع کو وہ ہاتھ سے بھی نہیں جانے دے گی پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد بھی اس وقت شدید ڈپریشن کا شکار ہوں گے بطور کپتان ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جسے وہ پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوئے اس پوری سیریز پر اگر نظر دوڑائی جائے تو قومی ٹیم کو اگر مستقبل میں جیتنا ہے

تو اس کو باﺅلنگ اور اس کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ کے شعبوں کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے بیٹنگ کی بات کریں تو اب تک تو بیٹسمین تسلی بخش کارکردگی ہی دکھارہے ہیں اور امید ہے کہ اسی طرح سے وہ عمدہ کھیل پیش کرتے رہیں گے اس حوالے سے ابھی بھی وقت ہے کہ غلطیوں پر قابو پالیا جائے ورنہ ورلڈ کپ کے آغاز کے بعد تو پھر اتنا وقت ہی نہیں ہوگا کہ قومی ٹیم غلطیوں سے سبق سیکھ سکے پاکستانی ٹیم نے اب ورلڈ کپ میں میدان میں اترنا ہے اور پوری قوم دعاگو ہے کہ اب اصل امتحان شروع ہونے والا ہے اور اس میں پاکستانی ٹیم سرخرو ہوجائے۔

مزید : رائے /کالم