ہواوے موبائل فونز پر گوگل کا اینڈرائیڈ سافٹ ویئر سمیت تمام سروسز بند کرنے کا اعلان، صارفین کو سب سے زوردار جھٹکا

ہواوے موبائل فونز پر گوگل کا اینڈرائیڈ سافٹ ویئر سمیت تمام سروسز بند کرنے کا ...
ہواوے موبائل فونز پر گوگل کا اینڈرائیڈ سافٹ ویئر سمیت تمام سروسز بند کرنے کا اعلان، صارفین کو سب سے زوردار جھٹکا

  

نیویارک(مانیڑنگ ڈیسک) امریکہ کی طرف سے چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کے پیش نظر گوگل نے چینی آئی ٹی کمپنی ’ہواوے‘ کا اینڈرائیڈ لائسنس معطل کرتے ہوئے اسے اینڈرائیڈ سافٹ ویئر سمیت اپنی تمام سروسز نہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ نیوز ویب سائٹ ’دی ورج‘ (The Verge)کے مطابق معاملے سے آگاہ ذرائع نے گوگل کی طرف سے ہواوے کے ساتھ تمام کاروبار معطل کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔

اس حوالے سے گوگل کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ”ہم حکم پر عمل کر رہے ہیں اور اس کے مضمرات پر بھی نظرثانی کی جا رہی ہے۔“ رپورٹ کے مطابق ترجمان کا ’حکم‘ سے مطلب امریکی محکمہ تجارت (Commerce Department)کا حالیہ فیصلہ تھا جس کے تحت اس نے ہواوے کو ’اینٹیٹی لسٹ‘ (Entity List)ڈال دیا تھا۔ اس لسٹ میں ڈالی جانے والی کمپنیاں امریکی کمپنیوں سے امریکی حکومت کی منظوری کے بغیر ٹیکنالوجی نہیں خرید سکتیں۔

گوگل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ”گوگل پلے پروٹیکٹ کی طرف سے ہواوے کی پرانی ڈیوائسز کے لیے’سکیورٹی پروٹیکشن‘ اور ’گوگل پلے‘ کی سروس بدستور کام کرتی رہیں گی۔ چنانچہ ہواوے کے موجودہ موبائل فونز فوری طور پر اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔ تاہم ان پرانے ہواوے فونز پر نئی اپ ڈیٹس دستیاب نہیں ہو گی اور ہواوے کے تیار کردہ نئے فونز کو یہ سروسز نہیں دی جائیں گی۔“واضح رہے کہ گوگل کی طرف سے اس پابندی کے بعد ہواوے ’اینڈرائیڈ اوپن سورس پراجیکٹ‘ (اے او ایس پی)استعمال کرنے تک محدود ہو گئی ہے اور جب تک اپنا آپریٹنگ سسٹم تیار نہیں کر لیتی، اسی اوپن سورس اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم پر ہی اسے انحصار کرنا ہو گا۔ہواوے کمپنی کافی عرصے سے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور امریکی حکومت کی طرف سے شدید دباﺅ کا سامنا کر رہی ہے کیونکہ امریکی حکومت کو خدشہ ہے کہ اس کمپنی کی ڈیوائسز اور دیگر سروسز کو چینی حکومت جاسوسی کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ امریکی حکومت کی طرف سے چینی حکومت پر ماضی میں یہ الزام لگایا بھی جا چکا ہے۔

مزید : بین الاقوامی /سائنس اور ٹیکنالوجی