”اس وزیر کا مجھ پر ہرماہ 20لاکھ روپے کی ادائیگی کیلئے دباﺅ ہے “سوشل میڈیا پر وائرل میو ہسپتال لاہور کے ایم ایس کے استعفیٰ کی حقیقت سامنے آگئی

”اس وزیر کا مجھ پر ہرماہ 20لاکھ روپے کی ادائیگی کیلئے دباﺅ ہے “سوشل میڈیا پر ...
”اس وزیر کا مجھ پر ہرماہ 20لاکھ روپے کی ادائیگی کیلئے دباﺅ ہے “سوشل میڈیا پر وائرل میو ہسپتال لاہور کے ایم ایس کے استعفیٰ کی حقیقت سامنے آگئی

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سوشل میڈیا پر لاہور کے میوہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ اور چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹرطاہرخلیل کے نام کیساتھ ایک استعفیٰ وائرل ہوگیا جس میں ڈاکٹر طاہرخلیل سے منسوب کرکے دعویٰ کیاگیا تھا کہ صوبائی وزیرصحت اور ان کے سیکریٹری کی طرف سے ہرماہ بیس لاکھ روپے جمع کرانے کے دباﺅ پر استعفیٰ دیدیا تاہم اب سوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی اس کاپی کی حقیقت سامنے آگئی اور ڈاکٹر طاہرخلیل نے ایسے کسی استعفے کی تردید کردی اور اسے اپنی اور حکومت پنجاب کی بدنامی کی کاوش قراردیا۔

تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل  استعفے کے متن میں بتایا گیا کہ ’ وزیرصحت اور سیکریٹری صحت کی طرف سے دباﺅ ہے کہ ہرماہ بیس لاکھ روپے ادا کروں(یہ کمائی سائیکل سٹینڈ، فارمیسی ، ہسپتال کے اندر موجود تمام کینٹینزسے جمع کروں)’ مجھے پہلے ہی احکامات نہ ماننے پر وزیراعلیٰ پنجاب گزشتہ ماہ معطل کرچکے ہیں اور ان کے مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی پر دوبارہ نوکری پر بحال کیاگیا،میں شدید دباﺅ میں اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے سے قاصر ہوں‘۔

ڈاکٹرطاہرخلیل کے جعلی استعفے کی کاپی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس پر عوام نے بھی حکومت اور متعلقہ ذمہ داران کا آڑھے ہاتھوں لینا شروع کردیا۔سید احسن عباس رضوی نے لکھا کہ ’صحت کے انصاف کو شرم آنی چاہیے ، سی ای او میوہسپتال لاہور نے استعفیٰ دیدیا کیونکہ ان پر وزیرصحت یاسمین راشد اور سیکریٹری ہیلتھ کا بیس لاکھ روپے ماہانہ ادائیگی کیلئے دباﺅ تھا‘۔

سوشل میڈیا پر ہنگامے کے بعد ڈاکٹر طاہر خلیل نے استعفے کی تردید کردی اور موقف اپنایا کہ ’کسی نے مجھے اور حکومت پنجاب کو بدنام کرنے کے لیے جعلی استعفیٰ لکھا ، ہسپتال کا لیٹر ہیڈ بھی جعلی محسوس ہوتا ہے اوراس پر میرے دستخط بھی جعلی ہیں، آج ایف آئی اے پنجاب اور مقامی پولیس کو  سوشل میڈیا پر جعلی استعفیٰ وائرل ہونے کے  ذمہ داران کے تعین اور ان کا کھوج لگانے کے لیے درخواست دوں گا‘‘ ۔

مزید : قومی /اہم خبریں