تحریک انصاف کا وہ وزیر جس نے ملازم کے نام پر 46 کروڑ روپے کی جائیدادیں خرید رکھی تھیں

تحریک انصاف کا وہ وزیر جس نے ملازم کے نام پر 46 کروڑ روپے کی جائیدادیں خرید ...
تحریک انصاف کا وہ وزیر جس نے ملازم کے نام پر 46 کروڑ روپے کی جائیدادیں خرید رکھی تھیں

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان تحریک انصاف کے رہنمااور وفاقی وزیر فیصل واوڈا اکثر اپنے بیانات کے باعث تنقید کی زد میں رہتے ہیں تاہم اب ان کے خلاف انتہائی بڑا دعویٰ سامنے آ گیاہے ۔سینئر صحافی احمد نورانی کی ” ڈیلی بزنس ورلڈ “ نامی نجی ویب سائٹ پر رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیاہے کہ آمدن کے معلوم ذرائع نہ ہونے کے باوجود وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈانے اپنے ملازم شیر نواز خان کے نام پر رکھی جانے والی دو جائیدادوں کو فروخت کرتے ہوئے کروڑوں روپوں کی بے نامی ٹرانزیکشنز کیں ۔

ویب سائٹ ” ڈیلی بزنس ورلڈ “کے مطابق شیر نواز خان نے اپنا موقف دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیاہے کہ وہ فیصل واوڈا کے کاروبار میں گزشتہ سال تک ملازم رہے ہیں ، لیکن دستاویزات سرکاری مواصلات سے پتا چلتا ہے کہ شیر نواز ابھی تک فیصل واوڈا کے ساتھ ہی منسلک ہیں ۔شیر نواز خان دو کمرشل پراپرٹیز رکھتے تھے جن میں ڈی ایچ اے خیابان تنظیم کے فیز 5 کے پلاٹ نمبر 22-c اور 24-c شامل ہیں ، شیر نواز خان نے 8 جون 2006 کو 465 ملین روپے کی قیمت پر دونوں جائیدادیں فروخت کرنے کیلئے نجی بینک ”ایمریٹس گلوبل اسلامک بینک لیمیٹڈ“ کے ساتھ معاہدہ کیا تاہم جس وقت دونوں فریقین کے درمیان یہ معاہدہ طے پا گیا تو فیصل واوڈا سامنے آ گئے اور انہوں نے بینک سے رابطہ کیا اور پاور آف اٹارنی پیش کی جو کہ شیر نواز خان کی جانب سے فراہم کی گئی تھی ۔

تاہم بعدازاں پراپریٹیز کی خریدو فروخت کے معاہدے سے متعلق سندھ ہائیکورٹ میں معاملے پر بینک نے عدالت میں بتایا کہ فیصل واوڈا نے بینک کو بتایا کہ شیر نواز خان ان کے ملازم تھے اور وہ خود ان جائیدادوں کے حقیقی بینیفیشل مالک ہیں ۔ویب سائٹ کا کہناہے کہ فیصل واوڈا نے ابتدائی طور پر وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنا تفصیلی موقف دیں گے لیکن انہوں نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا تاہم جب انہیں شیر نواز خان کے اعتراف کے بارے میں بتایا گیا تو فیصل واوڈا نے کہا کہ میں اب موقف نہیں دوں تاہم زوردینے پر بھی فیصل واوڈانے یہ موقف اپنائے رکھا کہ معاملہ عدالت میں اس لیے وہ اس پر کوئی جواب نہیں دیں گے ۔

ڈیلی بزنس ورلڈ کے مطابق فیصل واوڈا سے کہا گیا کہ جو سوالات ان سے پوچھے جائیں گے وہ عدالتی معاملے سے متعلق نہیں ہیں بلکہ وہ اس حوالے سے ہیں جن پیسوں سے جائیدادیں خریدیں گئیںاور جنہیں بے نامی رکھا گیا ، ان پیسوں کے ذرائع کیا ہیں ؟ لیکن انہوں نے کسی قسم کا جواب دینے سے انکار کر دیا ۔فیصل واوڈا گروپ (ایف بی جی ) کنسٹرکشنز وہ کمپنی ہے جس کا تعارف فیصل واوڈا فخر سے کرواتے ہیں کہ یہ ان کی کمائی کا بنیادی ذریعہ ہے ، جوکہ نہایت چھوٹی سی کمپنی ہے ، یہ کمپنی ایس ای سی پی سے رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی اس کا نام کراچی میں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز میں ہے ۔

ڈی بی ڈبلیو کے مطابق آفیشل ریکارڈ سے یہ بات پتا چلتی ہے کہ ان کی کمپنی نے 2007 سے 2013 تک کوئی ٹیکس ادا نہیں کیاجبکہ ان کا ٹیکس اکاﺅنٹ بھی ایف بی آر کی جانب سے جولائی 2013 سے معطل کر دیا گیا تھا ۔فیصل واوڈا کنسٹرکشن ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہے اور ان کے ریکارڈ کے مطابق فیصل واوڈا خود 2004 میں ٹیکس دہندہ بنے ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ فیصل واوڈا نے پاکستان اور دیگر ممالک میں جائیدادیں خریدنے کیلئے جو ٹرانزیکشنز کیں وہ دراصل انہوں نے آمدنی کے ذرائع ظاہر کرنے سے کئی سال پہلے کیں جب ان کے ظاہر کردہ آمد ن کے ذائع نہ ہونے کے برابر تھے اور اس وقت وہ بہت معمولی یا صفر ٹیکس پاکستان میں ادا کر رہے تھے ۔

دستاویزات کے مطابق فیصل واوڈا نے نجی بینک کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ، فیصل واوڈا کے مطابق بینک نے انہیں زمین کی قیمت ابتدائی طور پر ادا کر دی لیکن انہوں نے وہ پیسے اسی کمرشل بینک کے 24 ملین آئی پی او شیئرز خریدنے کیلئے خرچ کر دیئے ۔ فیصل واوڈا نے جو سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی اس میں موقف اختیار کیا کہ بینک نے انہیں اس وقت 24 ملین ” پری آئی پی او “ شیئرز دینے سے اس وقت انکار کر دیا جب ان کے بینک کے ساتھ معاملات خراب ہوئے ۔وہ کیس تاحال بینک میں چل رہاہے ۔ سندھ ہائیکور ٹ کی ویب سائٹ پر اس کیس کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 2013 سے اس کیس کی پیروی نہیں کی جارہی ہے ۔

سرکاری دستاویزات میں یہ انکشاف کیا گیاہے فیصل واوڈا 2007 سے 2013 تک ٹیکس ریٹرن جمع کرواتے رہے ہیں تاہم سیلز ٹیکس ریٹرن ان سالوں میں سیلز ٹیکس کی کوئی ادائیگی ظاہر نہیں کرتی ۔ 2007 سے 2013 تک ان کے ایف بی آر میں آن لائن اکاﺅنٹ میں بھی انکم ٹیکس ریٹرن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ، ایف بی آر کا آن لائن ریکارڈ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ فیصل واوڈا نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات بھی ان سالوں میں ریونیو بورڈ کو جمع نہیں کروائی ہیں ۔فیصل واوڈا نے 2013، 2014 اور 2015 کے درمیان کوئی ٹیکس ادا نہیں کیاہے اور پھر انہوں نے اس وقت ٹیکس دینا شروع کیا جب وہ سیاست میں سرگرم ہوئے لیکن انہوں نے یہ جائیدادیں اس وقت خریدیں جب وہ ٹیکس ادا نہیں کر رہے تھے اور انہیں اپنے ملازم کے نام پر خریدا ۔

نجی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا کہ شیر نواز خان تاحال فیصل واوڈا کے ساتھ بطور پرائیوٹ سیکریٹر منسلک ہیں ، وزارت آبی وسائل کی جانب سے اے آئی جی پولیس کو 17 جنوری 2019 کو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ” فیصل واوڈا اپنے حلقے این اے 249 کا دورہ کرنے جارہے ہیں اور ان کے کراچی میں قیام کے دوران ان کی سیکیورٹی کے انتظامات کیے جائیں ۔ نوٹیفکیشن کے آخر میں ” مسٹر شیر محمد کا نمبر دیا گیاہے ۔“

مزید : قومی