’اپنی ماں کی اس حرکت کی وجہ سے میں جسم فروشی پر مجبو رہوگئی‘ جسم فروش خاتون کی انتہائی دردناک کہانی

’اپنی ماں کی اس حرکت کی وجہ سے میں جسم فروشی پر مجبو رہوگئی‘ جسم فروش خاتون ...
’اپنی ماں کی اس حرکت کی وجہ سے میں جسم فروشی پر مجبو رہوگئی‘ جسم فروش خاتون کی انتہائی دردناک کہانی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں اپنی ماں کے ہاتھوں فروخت ہوکر جسم فروش بننے والی لڑکی نے بالآخر دنیا کو اپنی ایسی افسوسناک کہانی سنادی ہے کہ ہر سننے والا افسردہ رہ جائے۔ میل آن لائن کے مطابق 29سالہ ٹائنی یاٹس نامی یہ لڑکی برطانوی شہر بلیک پول کی رہائشی ہے، جس نے لاپتہ ہونے والی طالبہ چارلین ڈاﺅنز پر بننے والی چینل فائیو کی ڈاکومنٹری میں بتایا ہے کہ وہ چارلین کے قتل کی چشم دید گواہ ہے۔ چارلین کو بھی اغواءکرکے اس کے ساتھ جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیا گیا تھا۔ پھر ایک روز چارلین نے جسم فروشی کرنے سے انکار کر دیا اور قحبہ خانے سے بھاگنے کی کوشش کی۔ قحبہ خانے والوں نے اسے پکڑ لیا اور واپس لا کر اس کو قتل کر دیا اور اس کے جسم کے ٹکڑے کرکے گوشت کا قیمہ بنایا اور اس کے کباب بنا کر ٹائنی سمیت باقی لڑکیوں کو کھلادیئے۔

ٹائنی نے ڈاکومنٹری میں بتایا کہ ”میں اس وقت 12سال کی تھی اور سکول میں پڑھتی تھی جب میری ماں نے ایک ادھیڑ عمر شخص کے ہاتھ مجھے فروخت کر دیا۔ میری ماں نشے کی عادی تھی ۔ اس نے اس شخص سے میرے ساتھ جنسی زیادتی کروانے کے عوض صرف 250پاﺅنڈ لیے تھے۔ جب اس شخص نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، اس وقت میں نے سکول کی یونیفارم پہن رکھی تھی۔ میری ماں یہ سب کچھ سامنے بیٹھ کر دیکھتی رہی تھی۔ اس واقعے کے بعد میری زندگی کچھ اس طرح ٹریک سے اتری کہ میں سنبھل ہی نہ پائی اور جسم فروشی کرنے لگی۔ میں وہ لڑکی تھی جو سکول میں اور گھر میں خوب ہلہ گلہ کرتی تھی لیکن اس کے بعد میں ایسی لڑکی بن گئی جسے مردوں کے ایک گروپ سے دوسرے گروپ کو منتقل کیا جاتا اور وہ مجھے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے۔جوں جوں میں بڑی ہوتی گئی میں نے اپنی فیملی سے قطع تعلقی کر لی۔ میں منشیات استعمال کرنے لگی۔ اس دوران میں کئی بار گرفتار بھی ہوئی اور بالآخر اپنی ماں کی طرح میں بھی جسم فروش بن گئی۔ میں بھی اسی کی طرح سڑکوں پر پھرتی رہتی اور گاہک تلاش کرتی رہتی تھی۔ “

ٹائنی کا کہنا تھا کہ ”اس گینگ نے جو کچھ چارلین کے ساتھ کیا، وہی کئی اور لڑکیوں کے ساتھ بھی کیا ہو گا، کیونکہ وہ ایسے ہی تھے، بالکل بے رحم اور سفاک۔ وہ معمولی غلطی پر لڑکیوں کو ایسی سزا دیتے تھے کہ باقی لڑکیاں چپ چاپ ان کا حکم ماننے پر مجبور ہو جاتیں اور کسی میں انکار کی ہمت باقی نہ رہتی تھی۔“ واضح رہے کہ چارلین نومبر 2003ءمیں 14سال کی عمر میں لاپتہ ہوئی تھی۔ اس کے اغواءکے الزام میں دو مقامی ٹیک اوے ورکرز کو گرفتار کیا گیا اور 2007ءمیں انہیں سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے اعتراف کر لیا تھا کہ انہوں نے چارلین کو اغواءکرکے جسم فروشی کروانے والے ایک گینگ کے ہاتھوں فروخت کر دیا تھا۔ عدالت میں پراسیکیوشن نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ گینگ نے قحبہ خانے سے بھاگنے کی سزا کے طور پر چارلین کو قتل کرکے اس کے گوشت کے کباب بنا ڈالے تھے اور اس کی ہڈیاں ٹائلیں رگڑنے والی مشین کے ذریعے رگڑ کر ختم کر دی تھیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ