پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اتحاد سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ،احتجاج کرنا اپوزیشن کا حق ،غیر قانونی کام ہوا تو قانون کے مطابق نمٹیں گے:نعیم الحق

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اتحاد سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ،احتجاج کرنا ...
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اتحاد سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ،احتجاج کرنا اپوزیشن کا حق ،غیر قانونی کام ہوا تو قانون کے مطابق نمٹیں گے:نعیم الحق

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے کہا ہے کہوزیراعظم اپنےاصولوں پرکسی قسم کاسمجھوتہ نہیں کریں گے،احتجاج کرنا اپوزیشن کا حق ہے،وہ ضرور احتجاج کرے مگر آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر،ہم قانون کی حکمرانی لے کر آئے ہیں ہمیں کوئی فکر نہیں،احتجاج کی آڑ میں کوئی غیر قانونی کام ہوا تو قانون کے مطابق ان سا نمٹا جائے گا،مولانافضل الرحمان ہمارےلیےکوئی خطرہ نہیں،پاکستان کے نظام انصاف میں بہت سی خامیاں ہیں جنہیں بدلنے کی ضرورت ہے،نواز شریف اور آصف زرداری کی اولادیں سیاسی میدان میں آگے بڑھنے کے لئے پر تول رہی ہیں لیکن عوام بیوقوف نہیں ہیں،بجٹ سے پہلےپٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام ’’پرائم ٹائم وِد ٹی ایم‘‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نعیم الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے   کس طرح سے پاکستان کو لوٹا اور  پاکستان کو کیا نقصان پہنچایا ؟سب جانتے ہیں،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اتحاد سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے، جمہوری معاشروں میں حزب اختلاف اگر احتجاج کرنا چاہے تو اس کے مختلف طریقے ہوتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جماعتیں ضرور جمع ہوں لیکن قانون سے تجاوز نہیں کریں،ان کے زمانے میں حکمرانوں کا قانون چلتا تھا ، بے نظیر اور نواز شریف کے زمانے میں ہم حکمرانوں کا قانون ختم کرکے قانون کی حکمرانی لیکر آئے تو ہمیں کوئی فکر نہیں ہے ،اپوزیشن ضرور احتجاج کرے اور سڑکوں پر آئے لیکن قانون کے دائرے میں رہ کر، اگر انھوں نے کوئی تخریب کاری کی اور کوئی  غیر قانونی حربے استعمال کیے تو پھر ان سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

نعیم الحق کا کہنا تھا کہہماری حکومت کے آنے سے پہلے بھی دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین پر کرپشن کے مقدمات قائم ہوچکے تھے ،اپوزیشن کے  مقدمات ،خالی خزانہ اور شدید مالی بحران ہمیں ورثے میں ملا،جب ہم حکومت میں آئے تو ہر طرف قرضے اور ڈاکے تھے،آڈیٹر جنرل سندھ کی رپورٹ میں دیکھ لیں ایک سال 2016-17 میں چھ سو ارب روپے کے بجٹ میں سے 3 سو ارب روپے کا حساب ہی نہیں ہے،اسی طرح  پنجاب میں بھی اربوں روپے کی خردبرد ہوئی،اب یہ لوگ جو مل رہے ہیں تو ان کو پتہ ہے کہ ان کا انجام قریب ہے اور نیب کیسز اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں،ابھی تو یہ ضمانت پر کام چلا رہے ہیں،نواز شریف کو تو جیل ہو ہی گئی ہے،جعلی اکاؤنٹس میں زرداری کو بھی جیل ہونے والی ہے،ان کو شرم نہیں آتی کہ انھوں نے قوم کی دولت لوٹ کر اپنی جیب میں ڈالی،انھوں نے قوم کے لیے کچھ کیا ہی نہیں ۔

ایک سوال کے جواب میں نعیم الحق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی سوچ ہے کہ سیاست میں وراثت کا ایک اہم مقام ہے،یہ اپنے بچوں اور ان کے بچوں کو  بھی سیاست میں لانا چاہتے ہیں، ان کے ذہن میں نقلی بادشات کا ایک تصور ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی بقا کے لیے ضروری ہے ، ہم نہیں سمجھتے کہ یہ چیز زیادہ آگے چل پائی گی، اس وقت نواز شریف اور زرداری کی اولادیںسیاسی میدان میں آگے بڑھنےکے  لئے  پرتول رہی ہیں  لیکن عوام اتنی بیوقوف نہیں ہے،اب ان پارٹیوں کو وہ مقبولیت حاصل نہیں ہوگی جو کسی زمانے میں تھی۔

ایک اور سوال کے جواب میں نعیم الحق نے کہا کہپاکستان کے نظام انصاف  میں بہت خامیاں اور کمزوریاں ہیں،مثال کے طورپر نیب کے قانون میں لکھا ہوا ہے کہ تمام مقدمات کا فیصلہ تیس دن میں ہوجائے گا  لیکن آپ دیکھ لیں 6 مہینے ، سال ہوجاتا ہے کیسز چلتے رہتے ہیں، عدالتوں میں بیس ، بیس سال سے کیسز چل رہے ہیں،ہمارے وزیر قانون کوشش کر رہے ہیں نئے قوانین بنا رہے ہیں،ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کسی بھی مقدمے کا کسی بھی عدالت میں زیادہ سے زیادہ ایک سال تک فیصلہ ہوجانا چاہیے ۔

انہوں نے کہا کہ مولانافضل الرحمان ہمارےلیےکوئی خطرہ نہیں،مولانافضل الرحمان کوہمارےایک امیدوارنےشکست دی اور ان کے کردارسے متعلق بڑےسوالات اٹھتےرہےہیں،ان کاذریعہ معاش کیاہے؟ کشمیر کمیٹی چیئرمین کی حیثیت سے  مولانافضل الرحمان نےکشمیرکیلئے کوئی قابل قدرقدم نہیں اٹھایا،ان کی اہمیت ان کےوالدمفتی محمودکی وجہ سےہےاور اگر وہ احتجاج کریں تو  ہمیں ان سےکوئی خطرہ نہیں ہے،عمران خان نےوزراء پرکرپشن سےمتعلق نظررکھی ہوئی ہے اور وزیراعظم اپنےاصولوں پرکسی قسم کاسمجھوتہ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ معیشت کےحوالےسےسخت اقدامات کرنےپڑیں گے،عوام کوبھی تھوڑی بہت قربانی دینی پڑے گی،بجٹ سے پہلےپٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں،پٹرول پرغیرضروری ٹیکسزکاجائزہ لےرہےہیں۔ 

مزید : قومی