سعودی عرب پر میزائل حملے ناقابل قبول،او آئی سی دہشت گرد گروہوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف واضح پالیسی کا اعلان کرے:تحفظ حرمین الشریفین کانفرنس

سعودی عرب پر میزائل حملے ناقابل قبول،او آئی سی دہشت گرد گروہوں اور ان کے ...
سعودی عرب پر میزائل حملے ناقابل قبول،او آئی سی دہشت گرد گروہوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف واضح پالیسی کا اعلان کرے:تحفظ حرمین الشریفین کانفرنس

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک کی مختلف مذہبی وسیاسی جماعتوں اور مختلف مکاتب فکر کے قائدین نے سعودی عرب اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہاء پسند اور دہشت گرد گروہوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف مسلم ممالک کو متفقہ حکمت عملی بنانی ہو گی ، مکۃ المکرمہ اور سعودی عرب کے دیگر شہروں پر میزائل اور ڈرون حملے نا قابل قبول ہیں،امت مسلمہ اپنے مقدسات کے تحفظ اور دفاع کیلئے سعودی عرب کی قیادت اور عوام کو مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے،او آئی سی  کا مکۃ المکرمہ میں ہونے والا اجلاس دہشت گرد گروہوں ، جماعتوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف واضح پالیسی کا اعلان کرے ، ایران اور عرب ممالک کے درمیان تنازعات کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ حوثی باغیوں اور دیگر دہشت گرد گروہوں اور جماعتوں کی معاونت ختم ہو، امت مسلمہ کی وحدت اور اتحاد سے ہی مسئلہ کشمیر و فلسطین حل ہوں گے، حضرت علی ہجویریؒ کے مزار ، مسجد اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی سازش تھی جسے ناکام بنایا گیا ہے، پاکستان علماء کونسل اور اس کی حلیف جماعتیں 20 رمضان تا 30 رمضان عشرہ تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصیٰ منائیں گی۔

یہ بات پاکستان علماء کونسل اسلام آباد کے زیر اہتمام تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصیٰ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہی ، کانفرنس کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد والمدارس پاکستان کے صدر علامہ طاہر محمود اشرفی نے کی ، کانفرنس سےسابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد، پیر نقیب الرحمن ، پروفیسر ذاکر الرحمن ، علامہ سجاد حسین شیرازی ، مولانا ابو بکر صابری ، علامہ سید محمد ہادی الحسینی، مولانا ضیاء الحق ، صدر اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر احمد یوسف الدرویش ، مولانا اسید الرحمن سعید، مولانا نعمان حاشر ، علامہ فاروق سعیدی، مولانا طاہر عقیل اعوان، قاری ممتاز ربانی ، مولانا اسد اللہ فاروق ، علامہ طاہر الحسن ، قاضی مطیع اللہ سعیدی، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا الیاس مسلم، مولانا قاسم قاسمی، علامہ زبیر زاہد نے بھی خطاب کیا ، کانفرنس میں مختلف اسلامی ممالک کے سفارتی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ خلیج میں پیدا ہونے والی صورتحال امت مسلمہ کیلئے تشویش کا سبب ہے ، سعودی عرب کی طرف سے ایران سے جنگ نہ کرنے اور سعودی عرب کا مکمل دفاع کرنے کا اعلان قابل ستائش ہے ، امت مسلمہ کے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہونے چاہئیں، مسلمانوں کے مقدسات کا دفاع ہر مسلمان پر فرض ہے ، سعودی عرب پر جارحیت کی کوششیںنا قابل قبول ہے، مسلم امۃ کسی ملک گروہ یا جماعت کو ارض حرمین شریفین کے امن و سلامتی سے نہیں کھیلنے دے گی۔ عراق ، شام ، یمن ، لیبیا کی تباہی کے بعد سعودی عرب اور پاکستان کو ہدف بنانے والے جان لیں کہ سعودی عرب اور پاکستان کا دفاع ،سلامتی اور استحکام ایک ہے ، فرقہ وارانہ بنیادوں پر اسلامی ممالک میں تشدد پھیلانے کا کھیل اب ختم ہونا چاہیے ، پاکستان میں کسی کو بھی فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے ، مکۃ المکرمہ ، جدہ ، طائف اور سعودی عرب کے دیگر شہروں پر حملوں نے امت مسلمہ کے دلوں کو زخمی کر دیا ہے، پاکستان اور سعوی عرب کے درمیان اخوت اورعقیدت کے رشتے ہیں جو لازوال ہیں، ارض حرمین شریفین کی سلامتی ، استحکام اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن ہی نہیں ہے۔مقررین نے کہا کہ خلیج کی صورتحال کی اصلاح کیلے پاکستان کی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

کانفرنس میں ا یک قرارداد کے ذریعے فلسطین اور کشمیر کی عوام سے مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیلی اور بھارتی مظالم کے خلاف امت مسلمہ کو باہمی اتحاد سے آواز بلند کرنی چاہیے اور فلسطین اور کشمیر پر اسرائیلی اور بھارتی تسلط ختم کرنے کیلئے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں، پاکستان علماء کونسل اور اس کی حلیف جماعتیں 20 رمضان تا 30 رمضان عشرہ تحفظ ارض الحرمین الشریفین والاقصیٰ منائیں گی، انتہاء پسندی ، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف جدوجہد کو مزید منظم کیا جائے گا، اس موقع پر ملک بھر میں اجتماعات، سیمینارز اور کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور ارض حرمین شریفین کے دفاع ،سلامتی ، استحکام کا عزم کیا جائےگا۔

ایک اور قرار داد میں مکۃ المکرمہ پرمیزائل حملوں کو ناکام بنانے پرسعودی عرب کی فوج اورسلامتی کےاداروں کو خراج تحسین پیش کرتےہوئے کہا گیا کہ امت مسلمہ کو سعودی عرب کی فوج اور سلامتی کی اداروں پر فخر اور اطمینان ہے،پاکستانی قوم کو فخر ہے کہ سعودی عرب کی فوج کی تربیت پاکستانی فوج نے کی ہے اور پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے حرمین شریفین کی سلامتی اور تحفظ کیلئے سعودی عرب کو مکمل تعاون کی یقین دہانی پاکستان کا اعزاز اور فخر ہے۔اسی طرح مختلف اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات کے خاتمے کیلئے پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ اور حکومت کا کردار قابل تحسین ہے جس کی پاکستانی قوم مکمل تائید کرتی ہے۔

ایک اور قرار داد میں اسلامی اور عرب ممالک سے مطالبہ کیا گیا کہ حج اور عمرہ مسلمانوں کی مقدس عبادات ہیں، حج و عمرہ پر سیاست سے گریز کیا جائے ، سعودی عرب کی طرف سے قطر کے حجاج اور زائرین کو ہر طرح کی سہولتیں دینے کا اعلان قابل تحسین ہے ،اسلامی عرب ممالک کے اختلافات سے اسلام اور مسلم دشمن قوتیں فائدہ اٹھا رہی ہیں،کانفرنس میں ایک قرار داد کے ذریعے او آئی سی کی طرف سے مرکزی چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو ایوارڈ کی مکمل تحسین کرتے ہوئے کہا گیا کہ او آئی سی کا علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو ایوارڈ دینا پاکستان کے علماء اور عوام کی اسلام کیلئے خدمات کا اعتراف ہے ۔ ایک اور قرار داد میں متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود میں تخریب کاری کی کوشش کی مذمت کی گئی اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔کانفرنس میں مدارس کی رجسٹریشن وزارت تعلیم کے ساتھ کرنے کے فیصلہ کی بھی مکمل توثیق کی گئی اور کہا گیا کہ موجودہ حکومت نے مدارس کا مطالبہ تسلیم کر کے درست سمت قدم اٹھایا ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد