دہشت گرد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں

دہشت گرد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں

  

صوبہ خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ثنا اللہ عباسی نے کہا ہے کہ افغانستان سے تربیت یافتہ دہشت گرد سوات میں دوبارہ منظم ہو رہے ہیں دس برس قبل 2009ء میں آپریشن کے وقت یہ لوگ فرار ہو کر ہمسایہ ملک چلے گئے تھے انہوں نے بتایا کہ سوات میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں گرفتار چار دہشت گردوں نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں تربیت حاصل کی۔ صوبے کے پولیس سربراہ نے مزید انکشاف کیا ہے کہ دہشت گردوں نے افغانستان کی جانب سے مالا کنڈ میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے ناکام بنا دیا۔ حالیہ دنوں میں پشاور اور دوسرے شہروں کے تاجروں کو افغان ٹیلی فونوں سے دھمکی آمیز کالیں آ رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لئے افغان سرزمین کا استعمال نا قابل برداشت ہے۔

چند ہفتوں سے تاثر ایسا بن رہا ہے کہ دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے تازہ ترین دو واقعات بلوچستان کے اضلاع مچھ اور کیچ میں ہوئے ہیں جہاں پیر غائب میں ایف سی کی گاڑی دہشت گردوں کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی جس میں جے سی او سمیت چھ جوان شہید ہو گئے جبکہ کیچ میں جھڑپ کے دوران ایک سپاہی شہید ہوا۔ کیچ ہی میں چند روز قبل بھی بارودی سرنگ پھٹنے سے شہادتیں ہوئی تھیں، بلوچستان کے علاوہ کے پی کے بھی دہشت گردانہ کارروائیوں کا ہدف ہے، صوبے کے پولیس چیف کے سوات میں دہشت گردوں کے دوبارہ منظم ہونے کے انکشاف سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ نیٹ ورک افغانستان میں موجود تھا جس نے دوبارہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں، سوات میں وسیع پیمانے پر آپریشن کے بعد اسے دہشت گردوں سے صاف کیا گیا تھا جو دہشت گرد کسی نہ کسی وجہ سے بچ گئے یا گرفتار نہ ہو سکے وہ افغانستان فرار ہو گئے تھے جہاں انہوں نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اب دوبارہ پاکستان میں وارداتیں کر رہے یا اس کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اس وقت جبکہ پوری دنیا کورونا کی وبا سے نپٹنے میں مصروف ہے پاکستان میں بھی ساری توجہ اسی پر مرکوز ہے تو دہشت گردوں نے دوبارہ اپنی موجودگی کا ثبوت دینا شروع کر دیا ہے بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف جو کارروائیاں ہو رہی ہیں ان میں بارودی سرنگوں کا استعمال بڑھ گیا ہے۔

بلوچستان کے بارے میں بھارتی عزائم کبھی ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ کلبھوشن کی گرفتاری اور اس کے انکشافات کے بعد تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ در اندازی کہاں سے ہو رہی ہے، حال ہی میں سندھ پولیس کے دو ایسے افسروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن کے ”را“ سے تعلقات کا انکشاف ہوا، اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ را کے مزید ایجنٹ بھی موجود ہوں یہ بھی اپنی پوزیشن کو استعمال کر کے کسی نہ کسی انداز کی دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہے ہوں یہ گرفتاریاں اگرچہ حال ہی میں ہوئی ہیں لیکن اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ طویل عرصے میں انہوں نے کہاں کہاں وارداتیں نہیں کی ہوں گی، سندھ پولیس میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں ہوتی رہی ہیں واٹر بورڈ سمیت پبلک سروس کے کئی دفتروں میں سیاسی کارکنوں کو افسر بھرتی کیا گیا یہ لوگ طویل عرصے تک سرکاری نوازشات سے بھی لطف اندوز ہوتے رہے اور اپنے سیاسی سرپرستوں کی خواہشات بھی پوری کرتے رہے، اب بھی ان میں سے بعض کی ہمدردیاں تو ہوں گی البتہ انہوں نے مصلحتوں کا دامن تھام کر فی الحال خاموشی اختیار کر لی ہے ان سے چوکنا رہنے کی بھی ضرورت ہے کلبھوشن یادیو نے گرفتاری کے بعد بتایا تھا کہ اس کا خصوصی ہدف بلوچستان اور سندھ میں دہشت گردی کی وارداتوں کو منظم کرنا تھا یہ وارداتیں فرقہ واریت کے پردے میں بھی کی جاتی تھیں اور افغانستان کے ساتھ بھی اس کے خفیہ روابط تھے۔

سوات میں اس وقت جو دہشت گرد منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں بھی بھارت کی بالواسطہ یا براہ راست سرپرستی حاصل ہے افغانستان میں بھارتی قونصل خانے پاکستان میں دہشت گردوں کو منظم کرتے ہیں یہ سلسلہ کئی عشروں سے جاری ہے اور کے پی کے کی بیشتر وارداتوں کے ڈانڈے افغانستان کے نیٹ ورک ہی سے ملتے ہیں سوات میں جو چار دہشت گرد گرفتار ہوئے ہیں ان سے تفتیش کی روشنی میں اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جس زمانے میں سوات دہشت گردی کا مرکز تھا یہ وہیں تک محدود نہیں تھی وہاں سے دہشت گرد پورے ملک میں وارداتیں کرنے کے لئے بھیجے جاتے تھے لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی یہی گروہ وارداتیں کرتے تھے۔ ان کے سہولت کار ہر شہر میں موجود تھے آرمی پبلک سکول پشاور اور ولی خان یونیورسٹی مردان میں دہشت گردی بھی اسی نیٹ ورک نے کرائی سرحد سے پاکستان میں آمد اور ٹارگٹ کے مقام تک پہنچنے میں ان دہشت گردوں کو سہولت کاروں کا تعاون حاصل تھا پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے جانوں کے نذرانے پیش کر کے یہ نیٹ ورک توڑنے میں کامیابی حاصل کی تھی اس کے ثبوت افغان حکام کو بھی پیش کئے گئے تھے جو اب تک دہشت گردوں کو کنٹرول نہیں کر سکا۔پاکستان میں دہشت گردی بڑی حد تک ختم ہو چکی تھی اور کبھی کبھار کی اِکا دکا وارداتوں کے سوا بڑی دہشت گردی کا سلسلہ رک گیا تھا لیکن بلوچستان کے پے در پے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ دہشت گردوں نے اب سیکیورٹی فورسز کو اپنا خصوصی ہدف بنا لیا ہے، پولیس بھی ان کے نشانے پر ہے اور ایف سی بھی، افغانستان میں داعش کی کارروائیاں بھی سامنے آتی رہتی ہیں بعید نہیں یہ تنظیم دہشت گردوں کی تنظیم نو میں بھی شریک ہو کیونکہ شام اور عراق میں اس کے ٹھکانوں کا صفایا کیا جا چکا ہے جہاں سے فرار ہوکر اس نے یا تو افغانستان کا رخ کیا یا پھر بھارت کی حکومت کی آشیر باد سے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کے خلاف فوج کی کارروائیوں میں اس کا ساتھ دے رہی ہے چند ہفتوں سے کشمیری مجاہدین کے کئی نامور رہنما بھارتی فوج کی کارروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ داعش بھارتی حکومت کی اس کارروائی پر بہت شاداں ہے اس تنظیم کی خصوصیت یہ رہی ہے کہ اس کا خصوصی ہدف مسلمان ملک اور عام مسلمان ہی بنتے ہیں شام اور عراق میں اس نے یہی کچھ کیا اب افغانستان میں ایسی سنگین وارداتیں کر رہی ہے جن سے طالبان لا تعلقی ظاہر کر رہے ہیں داعش کی سرپرستی سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کی حکومت خود دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہی ہے جبکہ پروپیگنڈہ یہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کرا رہا ہے۔ پاکستان کو اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں اور اس کے پیچیدہ طریق کار پر گہری نظر رکھنے اور ان کی حکمت عملی کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ جعلی فلیگ آپریشن جس کا وزیر اعظم اور وزیر خارجہ بھی ذکر کر چکے ہیں بھی بھارتی سکیم کا حصہ ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -