شیخ رشید کی پیش گوئی اور پیر پگارو کی یادیں!

شیخ رشید کی پیش گوئی اور پیر پگارو کی یادیں!
شیخ رشید کی پیش گوئی اور پیر پگارو کی یادیں!

  

ہمارے پیر علی مردان شاہ پیر آف پگارو ایک باغ و بہار شخصیت اور باخبر سیاست دان تھے۔ وہ ایسی شخصیت کے طور پر آج بھی یاد ہیں،جنہوں نے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء والے دور کی سخت ترین پابندیوں کے دوران بات کا طریقہ نکالا، اجتماعات کی بھی سخت پابندی تھی، پیر محترم نے اپنی سالگرہ منانا شروع کر دی، وہ اہم اخبار نویسوں کو بھی بُلا لیا کرتے اور سالگرہ کا کیک کاٹتے ہوئے ذومعنی گفتگو کرتے جو چھپ بھی جاتی تھی۔یہ محافل مخدوم زادہ حسن محمود کی گلبرگ والی رہائش گاہ پر ہوتیں۔ پیر پگارو جب لاہور آتے تو یہیں ٹھہرتے۔بعدازاں انہوں نے ایف سی کالج یونیورسٹی کے عقب میں کوٹھی کرائے پر لے لی تھی، پیر پگارو حضرت علی مردان شاہ کی یاد فرزند ِ راولپنڈی شیخ رشید نے دِلا دی، جو ہر ہفتے لاہور میں رونق افروز ہوتے ہیں۔

ان کی وجہ سے ماضی میں جھانکنے کا یہ موقع یوں ملا کہ شیخ رشید اب انہی کی بات کے مطابق پیش گوئی کرنے لگے ہیں، وہ اس ہفتے بھی لاہور آئے، ریلوے پر معمول کے مطابق گفتگو کم اور سیاسی مخالفین کو ڈرانے والی پیش گوئی پر زیادہ بات کی۔وہ کہتے ہیں،جولائی کی آخری تاریخ(31جولائی) تک جھاڑو پھر جائے گا۔ شیخ رشید اپنی ذومعنی گفتگو کے حوالے سے مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر اور قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ وہ بار بار دہرا رہے ہیں کہ شہباز شریف لندن سے واپس آ کر پھنس گئے ہیں اور اب واپس نہیں جا سکیں گے۔ان کے مطابق ان کا بسیرا بھی اب جیل میں ہو گا۔ یاد رہے کہ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز قریباً ایک سال سے (جوڈیشل ریمانڈ) جیل میں ہیں۔انہوں (حمزہ) نے جسمانی ریمانڈ کی مدت نیب لاہور کی حوالات میں پوری کی تھی، اب شیخ رشید نے جھاڑو پھرنے کی بات شروع کر کے خوفزدہ کرنا شروع کر دیا، جب وہ نیب کے ٹارزن بننے کی بات کرتے ہیں تو اس کے عمل کو چاروں جانب چھا جانے کا اشارہ بھی کرتے ہیں شاید وہ حزبِ اقتدار کے ڈھلمل یقین اراکین کو ”ڈرانے“ کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ بہرحال وہ برملا، وزیراعظم عمران خان سے وفاداری کا چرچا بھی ضرور کرتے ہیں، حالانکہ ان کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ جب تک ایک صفحہ کی پالیسی چلے گی وہ بھی چلتے رہیں گے۔

بات پیر پگارو سے شروع کی،لیکن یہ بھی ضروری تھا کہ فرزند ِ راولپنڈی کی حالیہ مصروفیت کی جھلک دکھا دی جائے۔ہمارے ”دوست“ یا ”ان کے ہم دوست“ پیر پگارو کہا کرتے تھے جلد جھاڑو پھرنے والی ہے، اور جو بچے گا وہ سیاست کرے گا اور یہ بات وہ ہمیشہ دہراتے تھے۔ یہ سوئے اتفاق ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے اتنا بڑا آپریشن نہ ہوا،لیکن ان کی یہ بات سچ تھی کہ جو بچے گا وہ سیاست کرے گا کہ جنرل ضیاء الحق نے نوے روز میں انتخابات کا اعلان کیا اور آٹھ سال سے زیادہ حکومت کی، اگر زندہ رہتے تو اور بھی وقت حاصل کر لیتے کہ انہوں نے تو خود پیر؎ پگارو سے ادھار لئے شریف انسان محمد خان جونیجو مرحوم کو وزیراعظم بنا کر پھر خود ہی فارغ کر دیا تھا کہ جونیجو کچھ جمہوری اختیار استعمال کرنے لگے تھے۔پیر پگارو ایک اور بات بھی کرتے، جس کی بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی اور ہم دوستوں کو بتایا کہ ان کو غلط رپورٹ کیا جاتا ہے،ان سے منسوب بیانات میں یہ بھی کہا جاتا تھا ”ہم جی ایچ کیو کے بندے ہیں“ اس کی وضاحت انہوں نے یوں کی ”بھئی ہم نے یہ کب کہا، کہ ہم جی ایچ کیو کے بندے ہیں، ہم تو جی ایچ کیو کے ساتھ ہیں اور حر بٹالین اسی کا ایک حصہ ہے“ پیر علی مردان شاہ تو باقاعدہ پیر اور گدی نشین تھے، ان سے پیش گوئی کی توقع کی جا سکتی تھی، شیخ رشید تو گدی نشین بھی نہیں ہیں اگر پیر صاحب کی جھاڑو والی بات مکمل طور پر پوری نہ ہوئی، صرف جو بچے گا، والی پیش گوئی درست ثابت ہو گئی تھی تو شیخ رشید بہرحال اس گنتی میں تو نہیں ہیں، اب دیکھتے ہیں کیا بیتتی ہے قطرے کے گہر ہونے تک۔

یہ سب چل ہی رہا ہے کہ اور بھی دلچسپ باتیں منظر عام پر آنا شروع ہوئیں، اچانک پھر سے گورنر راج کی بات ہونے لگی،خبر تو یہ تھی کہ سندھ میں گورنر کی تبدیلی زیر غور ہے اور محترم آصف علی زرداری کے سابق دوست ذوالفقار مرزا اس تبدیلی کے حوالے سے پُرامید اور اسلام آباد میں ڈیرہ لگائے ہوئے ہیں، اسی خبر کی بناء پر سندھ میں گورنر راج کی بات پھر ہونے لگی،اس پر مرکزی پنجاب پیپلزپارٹی کے صدر قمر زمان کائرہ نے یہاں پریس کانفرنس کر ڈالی اور چیلنج کیا کہ وفاقی حکومت یہ شوق بھی پورا کر کے دیکھ لے، دراصل یہ سب18ویں ترمیم کا شاخسانہ ہے،جس پر بات ہو رہی ہے،کیونکہ اس ترمیم کے بعد اگر صدارتی اختیارات پارلیمینٹ اور اس حوالے سے وفاق کے سپرد ہوئے تھے تو صوبوں کوبھی بہت سے اختیارات دیئے گئے تھے، اس کی وجہ سے اب وفاق کو شکایت پیدا ہوئی اور اس ترمیم میں مزید ترامیم کی بات کی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ معتبر وزیر اسد عمر کی بات سے شروع ہوا تھا۔

اب یہ بھی سیاست ہے کہ تحریک انصاف کے بہت سے اہم رہنما ترمیم کی بات کرتے اور ان کا موقف ہے کہ آئین کوئی جامد شے نہیں اور نہ ہی صحیفہ ہے،اگر اس میں اب تک پچیس کے قریب ترامیم ہو سکتی ہیں تو18ویں ترمیم کی درستگی بھی کی جا سکتی،اب دوسری طرف بھی توجہ فرمائیں کہ یہ بھی سیاست ہی کا ایک پہلو ہے۔ افواہوں کے مطابق اگلے وزیراعظم کے امیدوار مخدوم شاہ محمود قریشی ایک طرف سندھ جانے کی دھمکی دیتے ہیں تو ساتھ ہی تردید کرتے ہیں اور فرماتے ہیں، 18ویں ترمیم کو نہیں چھیڑ رہے۔ دوسری طرف وزیر اطلاعات محترم شبلی فراز نے گورنر راج لگانے کی تردید کرنا مناسب جانا ہے، تو قارئین! آپ خودہی بتایئے کہ ہمیں پیر پگارو یاد نہ آئیں ت پھر کیا ہو گا کہ ہماری سیاست کے یہ چلن ہیں، اب سابق وزیر داخلہ اور سینیٹر چودھری اعتزاز احسن فرماتے ہیں کہ قومی اور پنجاب اسمبلیاں ٹوٹ سکتی ہیں یا توڑی جا سکتی ہیں یا آئینی طور پر ختم ہو سکتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -