بے احتیاطی عید ہی نہیں اپنوں سے بھی دور لے جا سکتی ہے

بے احتیاطی عید ہی نہیں اپنوں سے بھی دور لے جا سکتی ہے
بے احتیاطی عید ہی نہیں اپنوں سے بھی دور لے جا سکتی ہے

  

ملتان کے تاجر جنید کی موت میں بھی کئی سبق پوشیدہ ہیں لاک ڈاؤن کے دنوں میں اپنے دوستوں کو فون کر کے کہتا تھا یہ لاک ڈاؤن ہمیں بھوکوں مار دے گا، میری دکان میں پڑا سامان خراب ہو رہا ہے، عید کے دنوں میں بھی دکانیں کھولنے کی اجازت نہ ملی تو میں اپنے تین بچوں اور بیوی کی کفالت کیسے کروں گا پھر یوں ہوا کہ حکومت کو ترس آ گیا، اس نے ہفتے میں چار دن دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی۔ جنید نے بھی خوشی خوشی دکان کھولی پہلے ہی دن گاہکوں کا رش لگ گیا اس نے کسی احتیاطی تدبیر پر عمل نہ کیا، خود ماسک پہنا، نہ گاہکوں کو مجبور کیا کہ وہ ماسک پہنیں، دکان چھوٹی تھی گاہکوں سے کھچا کھچ بھری رہنے لگی۔ چند روز پہلے جنید کو اچانک یوں لگا کہ جیسے اس کا دم گھٹ رہا ہے، سانس لینے میں دشواری محسوس ہو رہی تھی، اسے فوراً ہسپتال لے جایا گیا وہاں جا کر یہ روح فرسا انکشاف ہوا کہ اسے کورونا لاحق ہو چکا ہے

حملہ اس قدر شدید تھا کہ صرف چار دن ہسپتال میں رہنے کے بعد جنید زندگی کی قید سے آزاد ہو گیا۔ اس کی وجہ سے بھابھی بھی کورونا میں مبتلا ہوئی اور وہ بھی زندگی کی بازی ہار گئی۔ اپنے ان تین بچوں کو جنید بے یارو مدد گار یتیمی کا داغ دے کر رخصت ہو گیا، جن کے بارے میں وہ بہت فکر مند تھا کہ دکان نہ کھلی تو وہ بھوکوں مر جائیں گے۔ زندہ رہتا تو کم از کم اس کے بچے یتیم نہ ہوتے لیکن اس کی جلد بازی نے کورونا کے لئے اسے ایک آسان شکار بنا دیا۔ انہی دنوں شجاع آباد کے سینئر صحافی حاجی صادق انیس بھی کورونا میں مبتلا ہو کر رحلت فرما گئے انہوں نے بھی احتیاط نہیں کی، اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ علامات ظاہر ہونے پر بھی احتیاط نہ کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اہلیہ بھی کورونا میں مبتلا ہو گئیں۔ طبیعت جب بگڑ گئی تو انہیں ہسپتال متنقل کیا گیا، مگر اب دیر ہو چکی تھی۔ ان کے بچے عید سے چند دن پہلے یتیم ہو گئے۔

مجھے یہ دونوں واقعات اس لئے یاد آئے کہ آج کل بازاروں میں ہوشربہ مناظر دیکھتے میں آ رہے ہیں اتنا رش ہے کہ الامان الحفیظ، کسی کو یہ تک یاد نہیں کہ ہم ایک وبا کی زد میں ہیں، ایسی وبا جس نے دنیا میں تباہی مچا دی ہے اور جو اب ہمارے ہاں بھی بڑی تیزی سے اموات کا باعث بن رہی ہے عید پر خریداری کا ایک ایسا جنون دیکھنے میں آ رہا ہے کہ جس میں عوام بھی مبتلا ہو چکے ہیں اور دکاندار بھی سب کچھ بھول کر آمدنی بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں جب سے سپریم کورٹ نے یہ حکم دیا ہے کہ مارکیٹیں اور شاپنگ مالز ہفتے میں سات دن کے لئے کھول دیئے جائیں، تب سے یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ کیا سپریم کورٹ کو اس معاملے میں پڑنا چاہئے تھا، سینئر وکیل اعتزاز احسن نے تو ایک ٹی وی چینل پر اسے عدالت عظمیٰ کا بے جا عمل قرار دیا۔ شاید اسی وجہ سے از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے اگلے دن چیف جسٹس کو یہ کہنا پڑا کہ ہمارے فیصلے پر سوچے سمجھے بغیر تنقید کی جا رہی ہے، ہم نے شاپنگ مالز کھولنے کا حکم صرف عید تک دیا ہے، اس پر اٹارنی جنرل نے یہ دل ہلا دینے والا بیان دیا کہ جون میں کورونا ایک بڑی تباہی لا سکتا ہے اس وقت یہ بحث بھی جاری ہے کہ ہماری بے احتیاطی کی وجہ سے اگر کورونا قابو سے باہر ہو گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر ڈالی جائے گی۔

کیا حکومتیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی آڑ لے کر اپنی ذمہ داری سے بڑی الذمہ ہو جائیں گی۔ کیا سپریم کورٹ نے یہ کہا ہے کہ حکومتیں ہاتھ دھرے بیٹھی رہیں اور کورونا کو پھیلنے دیں ظاہر ہے، حکومتوں نے کورونا کے حوالے سے جو ایس او پیز بنائے ہیں، ان پر عمل کرانا تو ان کی اپنی ذمہ داری ہے سپریم کورٹ کی طرف سے یہ ایس او پیز تو معطل نہیں کئے گئے۔

جس رفتار سے کورونا کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اسی مئی میں ہم پچاس ہزار کا ہندسہ کراس کر جائیں گے اور اگر عید کے یہ دن احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر گزارے گئے تو شاید یہ تعداد اس سے بھی آگے بڑھ جائے۔ اب حکومتوں کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے، مگر فیصلے ایسے کئے جا رہے ہیں، جن میں بے تدبیری کا عنصر زیادہ نمایاں ہے۔ پنجاب کو لگتا ہے کھول دو کے معاملے میں سب پر بازی لے جانا چاہتا ہے۔ ایس او پیز کی پخ لگا کر ہر چیز کھولی جا رہی ہے۔ حتیٰ کہ یہ تک بھی نہیں کہا جا رہا کہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کیا گیا تو لاک ڈاؤن سخت کر دیا جائے گا۔ بلوچستان حکومت یہ دہائی دے رہی ہے کہ عید کے دنوں میں کورونا کیسز بڑھنے کا شدید خطرہ ہے۔ عوام نے احتیاط نہ کی تو لاک ڈاؤن پھر سختی کے ساتھ لگانا پڑے گا۔

ادھر آزاد کشمیر کے وزیر اعظم نے دو ہفتے کے لئے سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ حالانکہ وہاں کیسز دیگر صوبوں کے مقا بلے میں بہت کم ہیں۔ لیکن بڑھنے کے خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان بھی اس پریشانی کا اظہار کر چکے ہیں کہ بے احتیاطی کی وجہ سے کورونا کیسز کی تعداد تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔ سندھ حکومت تو پہلے ہی لاک ڈاؤن میں نرمی کے خلاف ہے۔ ہم اٹلی اور اسپین میں کورونا پھیلنے کا رجحان دیکھ چکے ہیں وہاں جب کورونا کیسوں کی تعداد پچاس ہزار سے زیادہ ہوئی تھی تو اس کے بعد آنے والی تیزی نے ان کے پورے سسٹم کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ دنیا میں کہیں بھی لاک ڈاؤن کو بے لگام نرم کرنے کی مثال نظر نہیں آتی۔ اس وقت سب کی پہلی ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ عید اپنوں کے ساتھ بخیر و عافیت گھر میں گزاریں۔ خدانخواسطہ گھر کے کسی ایک فرد کو بھی کورونا کی وجہ سے ہسپتال یا قرنطینہ مرکز میں عید گزاری پڑی تو باقی اہل خانہ کی عید برباد ہو جائے گی۔ پاگلوں اور دیوانوں کی طرح احتیاطی تدابیر اختیار کئے بغیر بازاروں میں غول در غول نکلنے کی بجائے اپنا اور دوسروں کا خیال کریں۔ بہت پرانا مقولہ ہے کہ جان ہے تو جہان ہے صحت و سلامتی کے ساتھ دن گزرے تو وہی عید ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا پر سیاست نہیں کرنی چاہئے، یہ تو ہم بھی ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں مگر اس وقت معاملہ سیاست کرنے کا نہیں بلکہ درست سمت متعین کرنے کا ہے حالات اس طرف جا رہے ہیں کہ شاید عید کے بعد ہمیں ایک سخت لاک ڈاؤن کرنا پڑے کیا حکومتوں نے جس جن کو آزاد کر دیا ہے اسے دوبارہ بوتل میں بند کرنا ممکن ہوگا۔ کمزور اور مبہم فیصلوں سے عوام کے اندر کورونا کے حوالے سے جو غیر سنجیدگی پیدا ہوئی ہے کیا اسے ختم کیا جا سکے گا۔ عوام کے اندر تو بس اتنا شعور ہے کہ کسی طرح عید کی خریداری کرنے میں کامیاب ہو جائیں انہیں اس بات کی قطعاً پروا نہیں کہ اگر کورونا چمٹ گیا تو کہاں کی عید اور کہاں کی خوشی۔ اس وقت 45 ہزار سے زیادہ کورونا کیسز کا شکار ہمارے بہت بھائی کہیں قرنطینہ اور کہیں وینٹی لیٹرز پر ہیں، کوئی ان سے اور ان کے لواحقین سے پوچھے کہ اصل عید کیا ہوتی ہے اور سلامتی کے بغیر عید منانے کے مصنوعی حربے کس قدر بھونڈے محسوس ہوتے ہیں۔ اس وقت عوام کے پاس دو ہی راستے ہیں، احتیاط کریں یا پھر اس خطرے کا ہدف بن جائیں جو ہمارے اردگرد ہی کہیں منڈلا رہا ہے۔ اب گیند حکومتوں کے کنٹرول سے نکل کر عوام کے کورٹ میں آ گئی ہے ذرا سی غفلت عید تو کیا انہیں اپنے پیاروں سے بھی بہت دور لے جا سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -