شیطان اگر حقدار ہو…………

شیطان اگر حقدار ہو…………
شیطان اگر حقدار ہو…………

  

انگریزی زبان کا ایک معروف محاورہ ہے کہ:”اگر حق دار ہو تو شیطان کو بھی اس کا حق ضرور دیں۔“……اس کو مزید جامع بنا کر یوں بھی پیش کیا جا سکتا ہے:”اگر حق دار ہو تو شیطان کو اس کا حق ضرور دیں خواہ ایسا کرنے میں خود آپ کی سبکی ہی کیوں نہ ہو“۔

میں آج کل کورونا رُت میں انڈین میڈیا کے بعض حصوں کو دیکھ کر اس محاورے کے موخر الذکر ورشن کو بار بار یاد کرتا ہوں۔قصہ یوں ہے کہ ہم پاکستانی اہل ِ ہند کو بالعموم اور ہندوؤں کو بالخصوص بات بات پر کوستے رہتے ہیں۔ ان کی مسلم دشمنی اور ہندوتوا پر تنقید کرتے نہیں تھکتے،ان کو شرفِ انسانیت سے عاری مخلوق گردانتے اور اخلاقی اقدار سے بیگانہئ محض خیال کرتے ہیں۔لیکن میں نے جہاں ان کی مسلم دشمنی کے مظاہر جا بجا دیکھے ہیں، وہاں ان کو بعض اخلاقی اور تہذیبی روایات کا اپنے سے بہتر مقلد بھی پایا ہے۔

کل حکومت کی طرف پاکستان بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی اور ساتھ ہی کہا گیا کہ کاروبار کھولا جائے لیکن ان شرائط کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے جو کورونا وائرس کے انتشار (پھیلاؤ) کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان شرائط میں سماجی فاصلہ سب سے زیادہ مقدم تھا۔ ہمیں تین چار ماہ سے بتایا جا رہا ہے کہ کورونا کس طرح پھیلتا ہے، ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل کیسے ہوتا ہے اور8،10 دِنوں تک اندر ہی اندر دِل و جگر کو کیسے چھلنی کر دیتا ہے۔

لیکن ہم نے یہ بھی دیکھا کہ حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن جونہی نرم ہوا، گلیوں اور بازاروں میں لوگوں کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ گئے۔ بڑی بڑی شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام کے مناظر تخلیق ہو گئے۔ راولپنڈی میں راجہ بازار اور ہاتھی چوک، پشاور میں قصہ خوانی بازار اور کوچی بازار، کوئٹہ میں سورج گنج بازار اور لیاقت بازار، لاہور میں انار کلی بازار، لاہوری اور بھاٹی گیٹ پر خلق ِ خدا کا ایک سمندر اُبل پڑا۔ اور کراچی کا تو نام ہی نہ لیں …… کس کس بازار کا ذکر کیا جائے اور کس کس علاقے کا حوالہ دیا جائے۔…… بہت سے پا پا رازی(شوقیہ فوٹو گرافرز) کسی اونچی جگہ کھڑے ہوئے اور کیمرے جب بجانب کوچہ و بازار فوکس کئے تو کالے برقعوں کی ٹوپیاں اور مرد حضرات کے سیاہ سر ہی سر نظر آئے۔ بعض نے تو معصوم بچوں کو گود میں اٹھایا ہوا تھا۔ ہمارا میڈیا اس کی تعبیر یہ کرتا رہا کہ یہ سارا رش عید کی خریداری کی وجہ سے ہے۔ عیدالفطر چونکہ سر پر آئی ہے اس لئے بی بیوں نے بھی سر پر کفن باندھ کر گھروں سے نکلنا فرضِ عین سمجھ لیا ہے۔ کیا یہ میڈیا سات آٹھ ہفتوں سے کورونا کی عالمگیر تباہی اور ہزاروں لاکھوں اموات کے مناظر ناظرین کو نہیں دکھا رہا؟…… کیا ان خریداروں اور خریدارنیوں کے گھروں میں ٹی وی سیٹ موجود نہیں؟…… کیا کسی کے پرس یا جیب میں موبائل فون نہیں؟…… کیا یہ مخلوق ان تمام ٹی وی پروگراموں کو دیکھ اور سُن کر بھی عید کی خریداری کو اپنی زندگی سے زیادہ عزیز سمجھتی ہے؟…… مَیں سوچ رہا تھا کہ اگر ان خواتین و حضرات میں سے10فیصد لوگ بھی کورونا کا شکار ہو گئے اور عین عیدالفطر کے روز چارپائی سے لگ گئے تو ان کے عید کی خریداری کے اس ذوق کا کیا بنے گا؟……کتنے ہسپتال ان کو سنبھالیں گے اور کتنے ڈاکٹر ان کو ٹیسٹ کر کے قرنطینہ میں ڈالنے یا نہ ڈالنے کا فیصلہ کریں گے۔

دو روز پہلے سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے شاپنگ مالز کو عیدالفطر تک کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان شاپنگ سنٹروں پر شائد زیادہ مالدار اور کلچرڈ لوگ آتے ہیں اور شاید اسی وجہ سے سماجی فاصلوں کا کچھ نہ کچھ احترام کرتے ہیں،لیکن ایک سوال جو میرے ذہن میں بار بار آیا ہے وہ یہ ہے کہ آیا یہ خریداری گھر کا سربراہ (بمعہ اہلیہ محترمہ) نہیں کر سکتا؟…… کیا ضروری ہے کہ جوان اور نو عمر بچوں اور بچیوں کو بھی ساتھ لایا جائے؟…… اور آپ دیکھتے جایئے ابھی چاند رات آنی ہے۔ اس روز بازاروں میں مہندی لگانے والیوں اور والوں کی چاندی ہو گی۔اتنا رش ہو گا کہ اگلے پچھلے ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے۔سپریم کورٹ نے شاپنگ مالز کھولنے کی جو اجازت دی ہے اس پر میڈیا کی طرف سے سوال اٹھنے تو ابھی سے شروع ہو گئے ہیں۔ خدانخواستہ اگر اس ہفتہ کے اواخر تک کورونا مریضوں کی تعداد ناقابل ِ کنٹرول ہو گئی تو سارا ملبہ فاضل عدالت پر جا گرے گا۔ لوگ یہ نہیں سمجھیں گے کہ اپنا فیصلہ خود کریں اور حتیٰ الوسع باہر نہ نکلیں۔کیا گھر میں زنانہ اور مردانہ لباسوں کی کمی ہے؟……کیا ان کو دھو دھلا کر اس”ایک عید“ پر زیب ِ تن کرنے سے قیامت ٹوٹ پڑے گی؟……میرا خیال ہے ہم پاکستانیوں نے قیامت کو خود دعوت دی ہے کہ آجاؤ اور دیکھو ہمیں جو دیدہئ عبرت نگاہ ہو۔

کل سے ریل گاڑیاں بھی چلائی جا رہی ہیں، مسافروں کے لئے جو شرائط مقرر کی گئی ہیں ان کا حشر شیخ رشید سمیت سب لوگ دیکھ لیں گے۔ جہاں یہ درست ہے کہ ”پردیسی“ ایک عرصے سے اپنے ”دیس“ جانے کو بے تاب تھے اب کم از کم عیدالفطر تو اپنے گھروں میں جا کر منانے کی آرزو پوری ہو جائے گی۔ لیکن محکمہ ریلوے کی سخت ہدایات کے باوجود آپ دیکھیں گے کہ پاک وطن کی یہ پاک قوم اس پاک تہوار پر اپنے پاک شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی زیارت کے ساتھ اور کیا کیا ”لچھن“ کرتی ہے۔

اب آیئے ”ناپاک“ ہمسائے کی طرف۔…… میں نے کالم کی ابتدا میں جس محاورے کا ذکر کیا تھا اس کی طرف قارئین کی توجہ بارِ دگر مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ ہندو بڑی متعصب قوم ہے، مسلم دشمنی میں تمام حدود پار کر جاتی ہے، احترامِ انسانیت سے عاری ہے اور تہذیبی اقدار سے نابلد ہے۔……لیکن اگر یہ کہوں کہ وہ قوم ہم پاکستانیوں سے زیادہ باشعور، زیادہ پڑھی لکھی، قواعد و ضوابط کی زیادہ پابند، بین الاقوامی حالات واقعات سے زیادہ باخبر اور زیادہ بیدار مغز ہے تو کچھ بے جا نہ ہو گا!……

انڈیا کا رقبہ ہم سے پانچ گنا زیادہ ہے، آبادی چھ گنا بڑی ہے، غربت ہم سے کم از کم دگنی ہے۔ ممبئی اور کول کتہ کے فٹ پاتھوں پر کئی نسلیں پیدا ہوئیں، جوان ہوئیں اور وہیں مر گئیں۔ ان کا لباس میلا کچیلا ضرور ہے لیکن دماغ ہم سے اُجلا ہے، ان کے اذہان متعصب سہی لیکن اعمال و افعال میں توازن ہے، زبان درشت اور غیر مہذب سہی لیکن اپنے جمہوری قائدین کے وہ احکامات بھی تسلیم کرتی ہے جو بادی النظر میں غیر جمہوری اور ناقابل ِ عمل نظر آتے ہیں۔ وہاں ایک سپریم کورٹ بھی ہے جس کو از خود نوٹس لیتے کم کم دیکھا گیا ہے۔ وہ عدالتیں اپنے عدالتی کاموں سے کام رکھتی ہیں اور انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کرتیں۔ ایک ارب35کروڑ کی آبادی کو جب ان کا مودی لاک ڈاؤن کا حکم دیتا ہے تو پوری قوم اس کا احترام کرتی ہے۔ لوگ دہلی سے پیدل نکلتے ہیں تو اپنے شہر میرٹھ تک پہنچتے پہنچتے ان کے پاؤں فگار ہو جاتے ہیں۔ وہ اگر شدتِ تکان کے زیر اثر ریل کی ہموار چوبی پٹڑیوں پر کچھ دیر کو سو جاتے ہیں تو ٹرین ان خوابیدہ بدنصیبوں کے اوپر سے گزر جاتی ہے اور وہ درجن بھر قسمت کے مارے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں تو وہاں کی کوئی عدالت عالیہ یا عظمیٰ اس دلدوز سانحے کا از خود نوٹس نہیں لیتی اور سرکار کو یہ نہیں کہتی کہ لاک ڈاؤن کھول دو، ہم ان غریبوں کے بنیادی انسانی حقوق کے پاسبان ہیں۔

انڈیا کی41فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے لیکن وزراء کو کبھی یہ کہتے نہیں سنا گیا کہ اس طبقہ ئ آبادی کو کسی ”احساس“ پروگرام کی نوید درکار ہے۔ وہاں کے مخیر حضرات اور ادارے خود اس کا اہتمام کرتے ہیں،خود اپنی ٹائیگر فورس بناتے اور اس کو کام میں لاتے ہیں۔دو ماہ سے بند سڑکیں اب بھی ویران ہیں۔ بازار اور شاپنگ مال بند ہیں اور اگر لاک ڈاؤن نرم بھی کرنا ہے تو مودی نے کرنا ہے۔ ایسا نہیں کہ ان کا عمران خان لاک ڈاؤن نرم کرے اور ان کا کوئی مراد علی شاہ اس حکم کو تسلیم نہ کرے۔ وہاں کا میڈیا حق و باطل میں خود تمیز کرتا ہے۔ ایسا نہیں کرتا کہ ایک طرف بی جے پی کے وزیر کو بٹھاتا ہے تو دوسری طرف راہول گاندھی یا من موہن سنگھ کو دعوتِ سخن دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اس طرح ناظر و سامع جنتا خود حق و باطل میں تمیز کر لے گی، ہم سکے کے دونوں رُخ دکھائیں گے۔ پبلک خود دودھ کا دودھ ا

ور پانی کا پانی کرے گی۔ وہاں کا عمران خان ہر تیسرے دن اپنی لاک ڈاؤن(یا لاک اپ) ٹیم کے ساتھ میڈیا پر جلوہ گر ہو کر ایسے بیانات جاری نہیں کرتا جو ان کے اپنے سابقہ ارشادات کی نفی کریں ……

قوموں پر برا وقت بھی آتا ہے۔…… خلیج بنگال میں جو طوفانِ آب، کل سے انڈیا کی ریاست اڑیسہ کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور بنگلہ دیش کی جنوبی سرحدوں پر بھی چڑھ دوڑا ہے، وہ طوفانِ آب امفان (Amphan) کورونا وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اندیشہ ہے کہ ہزاروں لوگ موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔لیکن جس طرح انڈیا نے خاموشی سے ساحلی آبادیوں کو عقبی علاقوں میں منتقل کیا اور جس سکوت و سکون سے مودی نے اپنی ٹویٹ میں دُعا کی ہے کہ یہ جلد ہماری(اور بنگلہ دیشی) جنتا سے نکل جائے، وہ قابل ِ ستائش ہے۔وہاں کا میڈیا اس طوفان کی بات کو بتنگڑ بنانے کا عادی نہیں۔

میں ایک عرصے سے پاکستانی آبادی کو بھی دیکھ رہا ہوں۔جب مشکل وقت اس پر آن پڑتا ہے تو اس کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔ ہمارے تعلیم یافتہ طبقاتِ آبادی، آفاتِ ارضی و سماوی و نباتاتی کو کس طرح جھیلتے ہیں اور اپنی سیاسی قیادت کے احکامات اور اس کی ہدایات پر کس طرح عمل پیرا ہوتے ہیں اور دوسری طرف انڈیا کی جنتا کو بھی دیکھتا ہوں تو سچی بات ہے میرا جی چاہتا ہے کہ شیطان کو اس کا حق ضرور دوں!

مزید :

رائے -کالم -