اللہ ہم پر رحم فرمائے

اللہ ہم پر رحم فرمائے
 اللہ ہم پر رحم فرمائے

  

ماضی میں مختلف قوموں پر آنے والے عذاب ایسے عذاب تھے جن سے ان کی جڑ کاٹ دی گئی، ان قوموں کا نام و نشان مٹا دیا گیا کوئی ان کا نام لیوا تک نہ بچ سکا، ان قوموں کے علاوہ نوع انسانی مجموعی طور پر محفوظ و مامون رہی۔کوئی مانے نہ مانے، کورونا بھی قدرت کی طرف سے ایک عذاب ہے مگر نوع انسانی اس کا ادراک کرنے میں اب بھی بخل سے کام لے رہی ہے، سوال یہ ہے کہ جن عذابوں کا قراٰن پاک میں تذکرہ ہے وہ ایک مخصوص قوم پر آئے اور کورونا کی زد میں آج تمام عالم انسانی ہے،یہ اس حقیقت کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے کہ آقائے دوجہاں خاتم النبین حضرت محمد صلعم قیامت تک تمام نوع انسانی کے نبی او ررسول ہیں،اب دنیا قومیتوں میں تقسیم نہیں کوئی یہ بھی مانے نہ مانے مگر آنحضرت پر ایمان لا نا پڑے گا، اگر چہ غیر مسلم دنیا نے کورونا کو عذاب الٰہی تسلیم کر لیا، یہی وجہ ہے کہ سپین کی فضائیں صدیوں بعد اللہ اکبر کی صدا سے گونج اٹھیں،وہ یورپی ممالک جہاں توہین رسالت پر فخر کیا جاتا تھا کی شاہراہیں اور چوک نبی پاک کے آفات، وباؤں اور صفائی کے بارے میں فرامین عالیشان کے ہورڈنگز سے سج گئیں۔ ایک اہل اسلام ہی ہیں جو اب بھی اس بحث میں الجھے ہیں کہ نماز، تراویح، جمعہ و عیدین کے اجتماعات،اسلاف کے نام پر ماتمی جلوس اور مجالس کا انعقاد ہونا چاہئے یا نہیں، جبکہ اب یہ کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں کہ کورونا کے پھیلاؤ میں تبلیغی جماعت کے کارکنوں اور ایران سے آنے والے زائرین کی بے احتیاطی کا سب سے زیادہ عمل دخل ہے، اس پر بھی ہمارے علماء و ذاکرین جن کا بنیادی کام عوام کو شعور دینا ہے و ہ مذہبی اجتماعات پر مصر ہیں۔

جن ممالک نے اس آسمانی آفت کو اپنے لئے الارمنگ سمجھا اور ایسے اقدامات بروئے کار لائے جس سے اس کا پھیلاؤ روکا جا سکے وہاں آج بھی صورتحال کنٹرول میں ہے، جنہوں نے اس کو مذاق کے طور پر لیا وہاں ہلاکت اور تباہی و بربادی بال کھولے ناچ رہی ہے۔ اللہ کا شکر، ہمارا ملک بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں متاثرین اور ہلاکتیں ابھی خوفناک حد کو نہیں پہنچ پائیں مگر ہماری قوم اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا چلن دیکھتے ہوئے اس صورتحال پر تا دیر اطمینان کا اظہار ممکن نہیں، گزشتہ دوماہ سے زائد عرصہ کینیڈا میں گزار کر چند روز پہلے واپس آیا ہوں،کینیڈا بھی کورونا سے متاثر ہے، مگر وہاں کے عوام اور حکومت کی طرف سے اختیار کئے گئے حفاظتی اور رفاعی اقدامات بے مثال ہیں جن کو دیکھتے ہوئے گمان نہیں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ کورونا امریکہ، فرانس، اٹلی اور سپین کی طرح یہاں اس انداز سے بربادی نہیں پھیلا سکے گا،کینیڈین عوام نے رضاکارانہ خود کو گھروں تک محدود کر کے ازخود قرنطینہ لے لیا ہے،اشد ضرورت کے تحت لوگ باہر نکلتے ہیں،صبح کی سیر کیلئے نکلتے وقت بھی سماجی فاصلے برقرار رکھے جاتے ہیں، ماسک اور سینیٹائزرکا استعمال معمول بنا لیا گیا ہے، دفاتر مارکیٹیں بند ہیں،صرف میڈیکل اور گروسری سٹورز کھلے ہیں،سرکاری ملازمین کو تو حکومت خود تنخواہ باقاعدگی سے ادا کر رہی ہے، نجی ملازمین کو بھی تنخواہ یقینی بنانے کا اہتمام کیا گیا ہے اور 30فیصد تنخواہ آجر ادا کرے گا باقی 70فیصد حکومت ادا کر رہی ہے، حکومت کے پاس شہریوں کا مکمل ڈیٹا موجود ہے جس کے باعث بیروزگار ہونے والوں کو امداد ان کے گھروں میں پہنچائی جا رہی ہے، ضروری سروس کے ملازمین کو 50ڈالر یومیہ خصوصی الاؤنس دیکر ڈیوٹی پر بلایا جاتا ہے پورے حفاظتی اہتمام کیساتھ، طلبا تک کو گرانٹ دی جا رہی ہے تا کہ ان کا تعلیمی ہرج نہ ہو اور سلسلہ تعلیم جاری رہے۔

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے

اس صورتحال میں اگر ہم اپنی کردار و عمل کا جائزہ لیں تو ہمارے اور زمانہ قدیم کی جاہل قوموں میں فرق کرنا مشکل ہے،اگر چہ کورونا عذاب ہے مگر اس کے بطن سے ہم بہتری کی صورت بھی نکال سکتے ہیں، جدید دنیا کے لوگ سورج کی روشنی اور حرارت سے بھر پور استفادہ کرتے رہے مگر ہم نے لوڈ شیڈنگ کا عذاب برداشت کر لیا لیکن قدرتی روشنی سے فائدہ نہ اٹھایا،اللہ پاک نے قراٰن پاک میں فرمایا کہ ”ہم نے دن بنایا مشقت اور رات ا?رام کیلئے“مگر ہم نے راتوں کو جاگنا اور دن کو سونا معمول بنا لیا، فطرت کے خلاف اس اقدام کے نتائج قوم کی اکثریت بھگت رہی ہے،بچے تعلیم سے اچاٹ ہیں، صحت گرتی جا رہی ہے، بیماریاں ہمیں گھیر چکی ہیں،ترقی معکوس ہمارا مقدر بن چکا ہے مگر جدید دنیا نے”eary to bed early to rise,make you healthy wealthy and wise“کے فارمولے کو اپنا کر ترقی کی منازل طے کیں ہم جن کے صرف خواب دیکھتے رہے، اب ہمارے پاس موقع ہے اپنی اوقات کو تبدیل کرنے اور معمولات زندگی کو بدلنے کا،مگر ہم اس کیلئے بھی تیار نہیں، ہمارے مشاغل اور مصروفیات وہی ہیں کرونا کو پھیلنے میں مدد دینے والے۔

دوسری طرف اس عالم گیر عذاب میں بھی ہماری بد عنوانی اور دوسروں کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کی صفت بھی دیدہ دلیری سے برقرار ہے، ہم اب بھی سبق سیکھنے اور اپنے معاملات کو درست کرنے پر تیار نہیں،پوری دنیا دیگر ممالک میں پھنسے اپنے شہریوں کو واپس لانے کیلئے سہولیات دے رہی ہے،کئی ممالک بلا معاوضہ خصوصی پروازوں کے ذریعے اپنے شہریوں کو یہ سہولت دے رہے ہیں مگر ہمارے ہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے، دیگر ممالک میں پھنسے اکثر لوگوں کے ویزے کی معیاد ختم ہو گئی کئی کے پاس کھانا کھانے کو رقم نہیں بچی، مگر ان کی مشکلات اور مسائل بارے سوچنے کی کوئی زحمت گوارا نہیں کی گئی اور پی آئی کے ٹکٹ بھی مہنگے کر دئیے جبکہ دیگر فضائی کمپنیوں کی پروازیں بھی بند ہیں اب پی آئی سے آنا اور مہنگا ٹکٹ خریدنامجبوری ہے،یہ سلوک صرف بیرون ملک سے آنے والوں سے ہی روا نہیں رکھا جا رہا اندرون ملک بھی لوگ منافع خور مافیا کی لوٹ مار کا شکار ہیں،جبکہ دنیا بھر میں شہریوں کو سہولیات دی جا رہی ہیں،کئی ممالک میں گروسری مفت فراہم کی جا رہی ہے،کئی ممالک میں ادویہ کی قیمتیں رضا کارانہ گھٹا دی گئی ہیں،مگر یہاں نہ وباء کا خوف اور نہ مقدس مہینے کا احترام، جس کا داؤ لگتا ہے لگا کر غریب کی جیب کاٹ کر اپنی جیب بھر رہا ہے۔

قدرت نے فطرت کے مخالف چلتی قوموں کو موقع دیا ہے کہ وہ اپنے معمو لات درست کریں، صفائی جسے اسلام نے نصف ایمان قرار دیا ہے کو اپنائیں،ہم نے ہاتھ بار بار دھونے کی عادت بھی نہیں اپنائی، ہمارا رویہ نہیں بدلا،ہم آج بھی گھر کا کوڑا کرکٹ گلیوں اور سڑکوں میں پھینک رہے ہیں جبکہ معلوم نہیں کس میں کورونا وائرس فعال اور محرک ہے اور یہ وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے،لیکن احتیاطی تدابیر نہ اپنانے والی قوم نہ خود بچنے کو تیار ہے نہ دوسروں کو بچانے پر آمادہ، ذرا سو چیے ہم کیا کر رہے ہیں ، اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔

مزید :

رائے -کالم -