نیا مالی بجٹ اور زرعی شعبہ کی اولین تر جیحات

نیا مالی بجٹ اور زرعی شعبہ کی اولین تر جیحات

  

نئے مالی بجٹ برائے سال 2020-21ء کی آمد آمد ہے ہر شعبے کے تجزیہ نگاروں، اہم ملکی تنظیموں اور ماہرین کی جانب سے اپنے اپنے شعبہ کے حوالے سے سفارشات دینے کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ مگر ذرائع ابلاغ کی جانب سے زرعی شعبے کے بارے میں نئے بجٹ سے متعلق سفارشات کے حصول کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ خوراک و زراعت کے وسائل میں خود کفالت کسی بھی ملک کیلئے کتنی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اس کا اندازہ حالیہ کورونا کی مہلک وبا کے دوران خصوصاً ان ممالک کو ہوا جنھیں غذائی وسائل میں عدم تحفظ کے باعث سنگین دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک و زراعت نے اپنی حالیہ رپورٹس میں خبردار کیا کہ خدانخواستہ یہ عفریت طوالت اختیار کر گیا تو قومی فوڈ سیکورٹی پر توجہ نہ دینے والے ممالک کی بڑی آبادی خوراک کی کمی، غربت اور فاقہ کشی سے دوچار ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارہ خوراک نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے آئندہ ترقیاتی منصوبوں میں نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور خورا ک و زراعت کو درپیش مسائل اولیت سے حل کرتے ہوئے موئثر حکمت عملی اختیار کریں اور اس پر پوری طرح عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بھی کورونا کی مہلک وباء کے باعث بڑھتی ہوئی بے روزگاری، غربت اور فاقہ کشی پر قابو پانے کیلئے اپنے غذائی وسائل کے تحفظ کو یقینی بنانے پر آئندہ سال کے ترقیاتی منصوبوں میں اولین ترجیح دینا ہوگی، بالخصوص ایسی صورتحال میں کی کہ گزشتہ سال کے اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبہ کی شرح نمو 3.8فیصد کے مقررہ ہدف سے گر کر 0.85فیصد تک تنزلی کا شکار ہوئی۔ زرعی شعبے کا ایسا منفی گراف پہلی بار ہدف سے بہت نیچے نہیں آیا ہے۔ تین سال قبل تو اس شعبے کی شرح نمو صفر تک جاپہنچی تھی۔ زرعی شعبے کی تنزلی آج کا رونا نہیں یہ قصہ بہت پرانا ہے جس کا بغور جائزہ لے کر تمام سٹیک ہولڈرز کی رائے سے موثر پالیسیوں پر بھرپور عملدرآمد کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گزشتہ روز اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شعبہ زراعت کی ترقی اور کسان کی آسودہ حالی کیلئے اربوں روپے کے زرعی پیکج کا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق آئندہ مالی سال میں کھادوں پر 37ارب روپے کی سبسڈی، زرعی قرضوں کے مارک اپ میں کمی کیلئے 88ارب روپے کی زر تلافی، کپاس کے بیجوں اور سفید مکھی کو تلف کرنے کی پیسٹی سائیڈز پر 31ارب روپے سبسڈی اور ٹریکٹروں پر عائد سیلز ٹیکس کی چھوٹ کیلئے 25ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا گیا ہے جو بلاشبہ موجودہ حکومت کا کسان اور شعبہ زراعت کی خوشحالی کیلئے بڑا قابلِ تحسین اقدام ہے۔

تاہم زرعی ماہرین اور کسان تنظیموں کا مطالبہ یہ ہے کہ زرعی پیداوار کو سنبھالا دینے کیلئے ایک آدھ سال کیلئے ایسا عبوری اقدام کافی نہیں۔ ہمارے موجودہ حکمران بالخصوص ممتاز ترقی پسند کاشتکار و وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و زرعی تحقیق جناب فخر امام اور کاشتکار گھرانے کے چشم و چراغ جناب نعمان احمد لنگڑیال وزیر زراعت پنجاب اگر زرعی شعبے کی پیش رفت کو بہتر بناکر قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمیں کسان کی خوشحالی کیلئے طویل المدتی زرعی اصلاحات اور تمام سٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے قابل عمل و موثر زرعی پالیسی کے نفاذ کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنانا ہو گا۔ ہمیں ترقیاتی منصوبوں میں شعبہ زراعت کو نظر انداز کرنے کی روش ترک کر کے اس شعبہ کو اولین ترجیحات میں اہمیت دلوانا ہو گی۔ ہمیں جی ڈی پی میں اس شعبہ کے حصہ کے مطابق ترقیاتی وسائل کی فراہمی ممکن بنانا ہو گی۔ ہمیں پیداواری لاگت کم کر کے بھارت، چین، ترکی، ملائیشیا، برازیل اور دیگر بیشتر ممالک کی طرح ہر سال زرعی مداخل پر باقاعدگی سے سبسڈی دینا ہو گی۔ ہمیں اپنے کسان کے مفادات کو تحفظ دینے کیلئے بھارت جیسے ازلی دشمن کی زرعی اجناس کو درآمد کرنے سے گریز کرنا ہو گا۔

ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے زرعی تحقیق کے اداروں کو زیادہ وسائل فراہم کرنے کے علاوہ زرعی تحقیق کو سرکاری و نجی شعبے کے مابین اشتراک کو مزید مربوط بنانا ہو گا۔ ہمیں جدید زرعی ٹیکنالوجی کو کسان کے کھیت تک موثر انداز میں منتقل کرنے کیلئے ضلعی سطح پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے بہتر بنانا ہو گا۔ ہمیں کثیر زرمبادلہ کمانے کیلئے آرگینک فارمنگ سمیت زرعی اجناس کی برآمدات بڑھانے کی حکمت عملی اپنانے اور زرعی اجناس کی درآمدات کم کرنے کی پالیسی پر توجہ دینا ہو گی۔ ہمیں افغانستان سمیت زرعی اجناس کی بھارت کے ہاتھوں کھوئی ہوئی 40 فیصد بیرون ممالک منڈیوں کو دوبارہ حاصل کرنے اور عالمی مارکیٹ میں بہتر مقام بحال اور برقرار رکھنے کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہمیں قومی غذائی تحفظ کو درپیش سنگین چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے آبادی اور غذائی وسائل کے مابین توازن کی موثر حکمت عملی اپنانا ہو گی، ہمیں زرخیز زرعی رقبوں پر اندھا دھند ہاؤسنگ و صنعتی تعمیرات کو روکنے کیلئے جلد از جلد قانون سازی کر کے انہیں بنجر و بے آباد رقبوں تک محدود کرنا ہو گا۔

ہمیں آبپاشی کیلئے پانی کی کمی کو دور کرنے اور سیلابوں کی شدید تباہی سے بچنے کیلئے، پن بجلی سے سستی بجلی پیدا کرنے، اور سمندر برد ہونے والے کثیر میٹھے پانی کو محفوظ بنانے کیلئے بڑے چھوٹے ڈیمز کی جنگی بنیادوں پر تعمیر کو اورنج ٹرین جیسے منصوبہ سے زیادہ اہمیت دینا ہو گی۔ پانی کی تیزی سے واقع ہونے والی کمی دہشت گردی سے زیادہ ہولناک ہو سکتی ہے جس کیلئے ہمیں قومی واٹر پالیسی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی قومی پالیسی ہنگامی بنیادوں پر تشکیل دینا ہو گی۔ ہمیں زیر زمین پانی کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی سطح کو سنبھالا دینے کیلئے بارشوں کے پانی کو محفوظ بنانے کیلئے کثرت سے جھیلیں، تالاب اور منی ڈیمز بنانا ہوں گے۔ ہمیں چین جیسے عظیم دوست ملک سے اڑھائی تا تین کروڑ ایکڑ سیم تھور زدہ رقبہ کی بحالی، سمندری اور زیر زمین کھارے پانی کو آبپاشی کیلئے میٹھا بنانے کی ٹیکنالوجی اور چھوٹے کسانوں کی خوشحالی کیلئے چین کی تین ایکڑ مشترکہ کھیتی باڑی کے ماڈل کو اختیار کرنے میں معاونت حاصل کرنا چاہیے۔ ہمیں زرعی فصلوں اور دودھ کی 30 تا 40 فیصد پیداوار کے ضیاع کو کم کرنے کیلئے برازیل کے زیروھنگر پروگرام اور چینی و ملائیشین ٹیکنالوجی سے بھر پور استفادہ کرنا ہو گا۔ ہمیں ٹڈی دل جیسی مہلک آفات اور مختلف فصلوں کی بیماریوں و کیڑوں کے شدید حملہ سے بربادی پر کسان کے نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے زرعی انشورنس پالیسی حکومت کی جانب سے ادا کرنے کا نظام اپنانا ہو گا۔

ہمیں تصدیق شدہ بیج کے استعمال کو ترقی یافتہ اور بیشتر ترقی پذیر ممالک کے تناسب سے بہتر بنانے کے اقدامات کرنے کے ساتھ غیر معیاری و ناقص بیج کی فروخت پر سخت قوانین لاگو کر کے قابو پانا ہو گا۔ ہمیں کسان کو ان کی زرعی پیداوار کا معقول معاوضہ دلانے کیلئے چین، بھارت، ترکی، برازیل و دیگر ممالک کی طرح متعلقہ صنعتوں اور بنکوں کا کنشوزشیم بنا کر زرعی اجناس کی مارکیٹنگ کا موثر نظام قائم کرنا ہو گا۔ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے ہمیں دنیا بھر سے ترقی دادہ ٹیکنالوجی ملک میں لانے والے نجی شعبہ کے اداروں کی خصوصی مراعات سے حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔ ہمیں چھوٹے کسان کو خوشحال بنانے کیلئے اسے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی غرض سے کھیتی باڑی کے علاوہ لائیوسٹاک، پولٹری، فشریز اور چھوٹی گھریلو صنعتوں کے قیام کیلئے عملی و فنی تربیت کے ساتھ بلاسود یا آسان شرائط کے زیادہ سے زیادہ قرضے فراہم کرنا ہوں گے۔ ہمیں عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق فصلوں کی نئی زوننگ تشکیل دے کر اس پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا ہو گا ہمیں کپاس کے رقبہ پر گنے،

مکئی اور چاول کی بڑھتی ہوئی کاشت پر قابو پانا ہو گا۔ ہمیں زرعی اجناس کی مقامی ٹریڈنگ و ایکسپورٹ میں مڈل مین پر انحصار کم کرنا ہو گا۔ ہمیں ایکسپورٹ ہونے والی زرعی اجناس کی پیداوار بڑھانے اور ان ویلیو ایڈیشن کیلئے خصوصی مراعات اور حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ ہمیں سیڈ و پیسٹی سائیڈز ایکٹ پوری طرح نافذ نہ ہو سکنے میں صوبائی و وفاقی حکومتوں کے مابین تضادات کو فی الفور ختم کرنے پر توجہ دینا ہو گی۔ ہمیں اسمبلیوں کی قائمہ کمیٹیوں اور صوبائی و قومی سطح کی مشاورتی ٹاسک فورسز سے نان فارمرز ارکان کو فارغ کر کے صرف اور صرف کھیتی باڑی کا طویل تجربہ اور اعلیٰ تعلیمی اہلیت رکھنے والوں کو رکن بنانا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -