پاکستانی پھر بدھو بن گئے ، حکومت کورونا وائرس فنڈ میں جمع ہونے والے پیسوں کا کیا کرے گی ؟ انتہائی شرمناک خبر منظر عام پر آ گئی

پاکستانی پھر بدھو بن گئے ، حکومت کورونا وائرس فنڈ میں جمع ہونے والے پیسوں کا ...
پاکستانی پھر بدھو بن گئے ، حکومت کورونا وائرس فنڈ میں جمع ہونے والے پیسوں کا کیا کرے گی ؟ انتہائی شرمناک خبر منظر عام پر آ گئی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی حکومت نے گردشی قرضے کو ختم کرنے کیلئے لیے گئے قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے کورونا وائرس امدادی فنڈ میں سے 10 ارب روپے استعمال کرنے کی اجازت دیدی ہے اور بجلی کے نرخوں کو کم کرنے کے لئے قرضوں کی تنظیم نو کے لئے مذاکرات کی شرائط کی منظوری دے دی ہے ۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق سودے کی شرائط پر دوبارہ بات چیت کرکے وزیر اعظم کی بجلی کے نرخوں کو کم کرنے کی خواہش کے برخلاف، سرکاری دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ کوئی معنی خیز ریلیف نہیں ملے گا اور اس کی بجائے طویل مدت میں صارفین پر دباﺅ ڈالا جائے گا ۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی حفیظ شیخ کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایک مرتبہ پھر سے ” سپیشل اکنامک زون “ کے قیام کیلئے اضافی مالی مراعات کی منظوری موخر کر دی ہے ۔سپیشل اکنامک زون کیلئے اضافی مالی پیکج گزشتہ پانچ سالوں سے زیر التواءہے جس کے باعث چین پاکستان اکنامک زونز کے زیر سایہ ہونے والی چینی سرمایہ کاری کو بھی تاخیر کا شکار کر دیاہے ۔سینٹرل بینک کی جانب سے کیے جانے والے مشاہدا ت کو حل کرنے کے بعد سمری دوبارہ ای سی سی کے سامنے پیش کی جائے گی ،امید ہے کہ آئندہ مہینے اس پیکج کو حتمی شکل دیدی جائے گی ۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اصولی طور پر وزارت برائے اقتصادی امور کو جی 20 قرض ریلیف سے فائدہ اٹھانے کیلئے ایم او یو پر دستخط کی اجازت دیدی ہے ۔

وزارت خزانہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ای سی سی نے وزیراعظم کے کورونا ریلیف فنڈ سے 10 ارب روپے عارضی انتظام کے طور پر 6 ماہ کے عرصے کے لیے پاکستان انرجی سکوک دوئم کے سود کی ادائیگی یا نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے لیے مختص کرنے کی اجازت دے دی ہے، جہاں پہلے ضرورت پڑے۔

گردشی قرضوں سے چھٹکارا پانے کے لیے حکومت نے انرجی سکوک دوئم سے بمشکل 200 ارب روپے جمع کیے ہیں لیکن قانونی بندشوں کی وجہ سے حکومت بار قرض کی لاگت بجلی کے صارفین سے وصول نہیں کر سکتی۔ تاہم حکومت نیپرا ایکٹ میں ترمیم کرکے بار قرض کی لاگت صارفین پر لاگو کرنے اور ان سے وصول کرنے کا تہیہ کر چکی ہے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -