کورونا وائرس نے فٹ بالر کو محنت مزدوری پر مجبور کر دیا

کورونا وائرس نے فٹ بالر کو محنت مزدوری پر مجبور کر دیا
کورونا وائرس نے فٹ بالر کو محنت مزدوری پر مجبور کر دیا

  

قاہرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) کورونا وائرس کی وجہ سے عائد کئے گئے لاک ڈاﺅن کے باعث 28 سالہ مصری فٹ بالر محمود محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور اخراجات پورے کرنے کیلئے روزانہ 7 ڈالر کما رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مختلف ممالک کی طرح مصر میں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے کرفیو نافذ ہے جس کے باعث وہاں کاروباری اور کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہیں۔ ان حالات میں مصر میں بھی متعدد افراد بے روزگاری کا شکار ہوئے جن میں 28 سالہ مصری فٹ بالر محمود بھی شامل ہیں۔فٹ بالر محمود ہر ماہ فٹ بال کھیل کے 200 ڈالر کماتے تھے جس سے وہ اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتے تھے۔

محمود اپنے گھر میں سب سے بڑے بھائی ہیں جن کے والد ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اور دل کے مرض میں بھی مبتلا ہیں تاہم والد سمیت والدہ اور چھوٹے بھائی کی ذمہ داری محمود ہی نبھا رہے ہیں جنہوں نے بتایا کہ مصر میں جیسے ہی کورونا کے باعث کرفیو نافذ کیا گیا تو ان کی کلب انتظامیہ نے ان کے ساتھ تمام ساتھیوں کو گھر میں رہنے کی ہدایت کردی جس پر وہ بے حد پریشان ہوئے اور سوچا گھر بیٹھے توگھر کے اخراجات نہیں اٹھائے جاسکتے۔

اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے محمود نے کوئی بھی کام کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اس وقت وہ مصر کے شہر منفلوط میں ہیں جہاں انہوں نے سب سے پہلے مزدوری کی جس سے روزانہ 7 ڈالر کماتے ہیں۔محمود کا کہنا ہے کہ ’مزدوری بھی روز نہیں ملتی،صرف ہفتے میں دو بار لیکن یہ بھی ملنا میں نے اپنی خوش قسمتی سمجھی، اس کے بعد رمضان آ گیا اور میں پھر ایک پیسٹری بنانے والے سٹال میں کام کرنے لگا‘۔محمود اب چھوٹے پین کیکس جسے عربی میں قطائف کہتے ہیں، ان کو روزانہ کی بنیاد پر بناتے ہیں جو مصر میں رمضان کی پسندیدہ میٹھی ڈش ہے۔

مزید :

کھیل -کورونا وائرس -