کورونا وائرس پر شور مچانے کی چین نے آسٹریلیا کو سخت سزا دے دی

کورونا وائرس پر شور مچانے کی چین نے آسٹریلیا کو سخت سزا دے دی
کورونا وائرس پر شور مچانے کی چین نے آسٹریلیا کو سخت سزا دے دی

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) کرونا وائرس کے معاملے میں چین کے خلاف تحقیقات کے مطالبے میں شامل ہونا آسٹریلیا کو مہنگا پڑ گیا ہے اور چینی حکومت ایک کے بعد دوسری آسٹریلوی اشیاءپر ٹیرف بڑھا رہی ہے اور ان پر نئی بندشیں لگا رہی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سب سے پہلے چین کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ امریکہ کی طرف سے کیا گیا، پھر برطانیہ بھی امریکہ کا ہم آواز بن گیا اور چند دن قبل آسٹریلیا نے بھی اپنا وزن امریکہ کے پلڑے میں ڈال دیا جس کے بعد چین نے آسٹریلیا کے خلاف تجارتی جنگ چھیڑ دی۔ چند روز قبل چین نے کئی آسٹریلوی مصنوعات کے ٹیرف میں 80فیصد سے زائد اضافہ کر دیا اور بیف اور چند دیگر اشیاءکی چین درآمد پر پابندی عائد کر دی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز چین نے آسٹریلیا سے خام آئرن کی درآمد پر نئی قدغنیں لگا دی ہیں۔ باقی ممالک سے خام آئرن کی درآمد چینی حکومت نے آسان بنانے کے لیے ان پر کئی طرح کے لاگو چیکس ختم کر دیئے ہیں، تاکہ دیگر ممالک سے خام آئرن کی چین درآمد آسان اور تیزتر ہو سکے، لیکن دوسری طرف آسٹریلوی خام آئرن پر کئی اضافی چیکس لگا دیئے جس کے بعد خام آئرن کی آسٹریلوی مصنوعات کی اضافی نگرانی ہو گی اور خام آئرن کے آسٹریلوی برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔آسٹریلیا 63ارب ڈالر کا خام آئرن برآمد کرتا ہے اور چین اس کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ چنانچہ اس نئی پابندی سے آسٹریلیا کواربوں ڈالر کا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -