کیا ماسک پہننے سے آپ کا دم گھٹ سکتا ہے؟ اصل حقیقت جانئے

کیا ماسک پہننے سے آپ کا دم گھٹ سکتا ہے؟ اصل حقیقت جانئے
کیا ماسک پہننے سے آپ کا دم گھٹ سکتا ہے؟ اصل حقیقت جانئے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا سازشی نظریات کا گڑھ ہے جہاں آئے روز ایسی بے تکی سننے کو ملتی ہیں کہ آدمی سر پیٹ کر رہ جائے۔ اب وہاں ایک پروپیگنڈا یہ چل رہا تھا کہ فیس ماسک پہننا لوگوں کے صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس سے انسان کو آکسیجن نہیں ملتی، وہ اپنے ہی جسم سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ میں سانس لیتا رہتا ہے جو کہ جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ اب ایک ماہر نے اس پروپیگنڈے کی قلعی کھول دی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سنٹر کی ڈاکٹر ربیکا ڈائمنڈ کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ فیس ماسک پہننے سے جسم کو آکسیجن کی مقدار کم ملتی ہے۔

ثبوت کے طور پر ڈاکٹر ربیکا نے اپنے اوپر ایک تجربہ کیا۔ انہوں نے اپنے خون میں آکسیجن کے لیول کا ٹیسٹ کیا اور اس کی ایک تصویر بنا لی۔ پھر انہوں نے این 95ماسک کئی گھنٹے تک پہنا اور دوبارہ اپنے خون میں آکسیجن کے لیول کا ٹیسٹ کیا۔ ڈاکٹر ربیکا نے دونوں ٹیسٹس کی تصاویر آن لائن پوسٹ کیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان میں آکسیجن کے لیول میں فیس ماسک پہننے سے کوئی فرق نہیں آیا۔ انسانی جسم میں آکسیجن کی نارمل مقدار 35 سے 45ایم ایم ایچ جی ہوتی ہے۔ ربیکا کی پہلے ٹیسٹ میں 36.7ایم ایم ایچ جی تھی اور دوسرے میں 36.4ایم ایم ایچ جی۔میل آن لائن نے دیگر دو ماہرین سے بھی اس حوالے سے گفتگو کی اور ان کا بھی کہنا تھا کہ فیس ماسک پہننے سے جسم میں آکسیجن کے لیول میں کوئی فرق نہیں آیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -