تاجر برادری کی تجاویز پر چیئرپرسن ایف بی آر نوشین جاویدبھی کھل کر بول پڑیں

تاجر برادری کی تجاویز پر چیئرپرسن ایف بی آر نوشین جاویدبھی کھل کر بول پڑیں
تاجر برادری کی تجاویز پر چیئرپرسن ایف بی آر نوشین جاویدبھی کھل کر بول پڑیں

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی چیئرپرسن نوشین جاوید امجد نے کہا ہے کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کی ارسال کردہ بجٹ تجاویز پر غور کیا جائے گا کیونکہ تاجر برادری کی تجاویز نئے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔

انہوں نے یہ بات اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے یو بی جی، ایف پی سی سی آئی کے چیف کوآرڈینیٹر ملک سہیل حسین کے ہمراہ ایف بی آر ہاؤس میں ان سے ملاقات کی نوشین جاوید امجد نے یقین دلایا کہ تاجر برادری کے لیکویڈیٹی ایشوز کو حل کرنے کے لئے ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کے عمل میں تیزی لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی ترقی میں کاروباری برادری کا کردار اہم ہے اور ایف بی آر ان کو کاروبار کے فروغ کے لئے ٹیکس کے معاملات میں سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرے گا۔اس موقع پر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید نے بزنس کمیونٹی کے ٹیکس مسائل سے چیئرپرسن ایف بی آر کو آگاہ کیا ان ان کے ازالے کے لئے ضروری اقدامات لینے کی ضرورت زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کروناوائرس وبا سے پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے کاروباروں اور صنعتوں کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور ان حالات میں ایف بی آر کو چاہیے کہ ٹیکس معاملات میں ایسے اقدامات لے جن سے کاروباری سرگرمیوں کی بحالی میں سہولت ہو۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اسٹیل، کوکنگ آئل اینڈ گھی، سٹیل ری رولنگ، رئیل سٹیٹ، فرنیچر اور دیگر مختلف شعبوں کی مشاورت سے ایف بی آر کو جامع اور سیکٹر وائز بجٹ تجاویز ارسال کیں جن کو حتمی بجٹ میں شامل کیا جانا چاہئے تا کہ تاجروصنعتکار برادری کے ٹیکس مسائل بہتر انداز میں حل ہوں۔ محمد احمد وحید نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مد میں ایک بڑی رقم ایف بی آر کے پاس زیر التوا ہے جس کی وجہ سے بزنس کمیونٹی کو لیکویڈیٹی ایشوز کا سامنا کرنا پڑا ہے اور تجویز دی کہ ایف بی آر ریفنڈز کی ادائیگی کے عمل کو تیز کرے یا قابل ادائیگی ٹیکس کے خلاف ان کی ایڈجسٹمنٹ کی اجازت دے۔ انہوں نے کہا کہ قابل ادائیگی ٹیکسوں کے خلاف ٹیکس ریفنڈز کی ایڈجسٹمنٹ سے بزنس کمیونٹی کو خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب کہ وہ کروناوائرس کے اثرات کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہیں ان کو کافی ریلیف ملے گا۔

مزید :

بزنس -