سیاسی کھیل کون جیتا کون ہارا

سیاسی کھیل کون جیتا کون ہارا
سیاسی کھیل کون جیتا کون ہارا

  

 2020 ء جہاں کرونا کی تباہ کاریوں کے ساتھ ہم سے بہت کچھ چھین کر لے کر گیا وہاں سیاست کے میدان میں  بھی ایک ہلچل مچی رہی۔اپوزیشن  نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر متحرک ہو کر چند ماہ میں سیاست کا سارا توازن بدل کر رکھ دیا۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ اس کھیل میں کس نے اپنے سیاسی مقاصد میں کامیابی حاصل کی اور کون ناکام رہا۔مسلم لیگ ن کو پچھلے پیتیس سال کے دوران کبھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں ہوا کہ پنجاب میں اس کے خلااف اتنی بڑی تعداد میں ووٹ پڑیں اور کوئی جماعت اسے اتنا بڑا جھٹکا دے کہ پنجاب اس کے ہاتھ سے جاتا دکھائی دے۔مشرف دور میں ق لیگ نے بھی کامیابی حاصل کی تھی لیکن سب ہی اس بات پر متفق تھے کہ یہ مسلم لیگ کا ہی ووٹ ہے اور جونہی شریف برادران واپس اآئیں  گے یہ سب ووٹ اور امیدوار میاں برداران کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے اور ایسا ہی ہوا لیکن 2018 ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے مسلم لیگ کے ووٹ بینک کے مقابلے میں اپنے ووٹ بینک سے پنجاب میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا۔مسلم لیگ ن کی قیادت کو انتخابات میں شکست کے ساتھ ساتھ نیب مقدمات میں قید وبند کی صعوبتوں کا مرحلہ درپیش ہوا جس سے اس کے ووٹ بینک اور امیدواروں کو یکجا رکھنا  بہت بڑا سیاسی چیلنج تھا۔

مسلم لیگ ن کی قیادت اور خصوصی طور پر محترمہ مریم نواز شریف نے اس چیلنج کو جس بہادری سے قبول کیا وہ تعریف کے قابل ہے۔پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مسلم لیگ ن نے انتہائی جارحانہ کھیل کھیلا اور حکومت کے چھکے چھڑا دئیے۔حکومت کی ناقص کارکردگی اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ووٹ بینک کو متحد رکھا اور اپنے کارکنوں کو مسلسل متحرک رکھ کر ہر ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کرکے اپنے ممبران اسمبلی کو بھی ادھر اُدھر دیکھنے کی بجائے مسلم لیگ ن کے ساتھ جڑے رہنے کا حوصلہ دیا۔مسلم لیگ نے حالیہ سیاسی تحریک میں اپنا ووٹ بینک پہلے سے زیادہ بڑھا لیا ہے۔ضمنی انتخابات میں ووٹر کا مسلم لیگ ن کے حق میں فیصلہ  اور عوامی رحجان دیکھتے ہوئے یہ پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ اگلے عام انتخابات  سے پہلے اگر ہماری سیاست میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آتی  اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت دوسال میں کوئی معاشی انقلاب کا معجزہ رقم نہیں کر تی جو  کپتان اور اس کی ٹیم کی  تین سالہ کارکردگی دیکھتے ہوئے دیوانے کا خواب ہی لگتا ہے تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگلے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) ہی کامیاب ہو گی۔

پیپلز پارٹی کے پاس ماضی قریب میں زرداری گورنمنٹ کا کوئی کارنامہ تھا نہ ان کی سندھ میں نمایاں کارکردگی تھی۔ کتے کاٹنے سے لے کر بیڈ گورننس، اس پر بہت تنقید ہو رہی تھی لیکن پی پی پی نے بیڈ گورننس کا سارا ملبہ وفاقی حکومت پر ڈال کر خود پر ہوتی تنقید کا رخ اسلام آباد کی طرف موڑ دیا اور بہت سے ایسے معاملات جن کی ذمہ داری  اٹھارہویں ترمیم کے بعد سندھ حکومت پر آتی تھی  اس سب کا ملبہ وفاقی حکومت پر ڈال دیا اور خود اپنی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات سے بچ گئی جس کا فائدہ یہ ہوا کہ سندھ میں بری کارکردگی کے باوجود کراچی جیسے شہر میں وہ تحریک انصاف کی سیٹ ان سے چھیننے میں کامیاب رہی۔پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بھرپور پرفارمنس دکھاتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کو مرکز کی سیٹ پر سینٹر بنوا لیا جو اس کے اپنے ووٹوں سے ناممکن تھا اور پھر سینٹ کے چئیرمین کے انتخابات میں بھی بھرپور مقابلہ کرکے سیاسی میدان میں اپنا بھرپور کردار اداکیا جو اکیلے اگر اس کو ادا کرنا پڑتا تو وہ بری طرح پٹ جاتی۔پیپلز پارٹی کے پاس سندھ حکومت تھی  اور اگر وہ اس لمحے پر استعفے دے دیتی تو اس کے ہاتھ سے سندھ حکومت بھی جاتی اور ووٹر کا رحجان دیکھ کر صاف لگ رہا تھا کہ اسے وفاق کی سطح پر کامیابی نہیں مل سکتی اس لئے اس نے استعفوں کے معاملے پر یوٹرن لے کر مزید سیاسی  ہلچل مچانے کی بجائے سکون اختیار کیا۔

مولانا فضل الرحمان کئی دہائیوں کے بعد اقتدار کی راہداریوں میں اجنبی بنے۔ایک عام تاثر یہ پایا جا رہا تھا کہ اب کے پی کے میں مولانا کا ووٹ بینک کم ہور ہا ہے اور اس کی جگہ تحریک انصاف لے چکی ہے۔ مولانا نے اس تاثر کو مضبوط ہونے اور اپنے ووٹر کو دل برداشتہ ہونے سے بچانے کے لئے بھرپورکردار ادا کیا اور پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے میلہ لوٹ لیا۔بظاہر مولانا کو فی الوقت کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن اگلے عام انتخابات میں مولانا ماضی کی طرح کنگ میکر کا کردار حاصل کرتے نظر آرہے ہیں  اور وفاق میں حکومت بناتی کوئی بھی جماعت انہیں نظر انداز نہیں کر سکے گی۔

اس ساری تحریک میں حکومت کو بہت بڑا ڈینٹ پڑا ہے۔حکومتی کارکردگی کو اپوزیشن جماعتوں نے جارحانہ تنقید سے نشانہ بناکر اس کے پاؤں اکھاڑ دئیے۔تحریک انصاف کے کھوکھلے نعروں کا بھی چرچا رہا بلکہ جگتوں میں بدل گئے۔مہنگائی کا سونامی  تحریک انصاف کے سونامی سے کئی گنا بڑا ثابت ہوا جس سے تحریک انصاف کی حکومت بری طرح لڑکھڑا گئی اور سنبھل نہیں پارہی۔ہر ضمنی انتخاب میں عوام نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف بھر پور ری ایکشن دیا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی بھی حکومت کو ضمنی انتخابات میں پے درپے شکستوں کا ریکارڈ قائم ہوا۔سیاست کے طالب علم کی حیثیت سے یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ جو جماعت بلدیاتی الیکشن کرا کر یونین کونسل کی سطح پر اپنے مضبوط دھڑے قائم نہیں کر لیتی وہ اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی  اورایک عام سی جماعت بن کر رہ جاتی ہے۔ عمران خان تین سال گزرنے کے باوجود بھی بلدیاتی انتخابات کرانے سے گریزاں ہیں اور اس کی وجہ ان کی ناقص حکومتی کارکردگی اور پنجاب کو بزدار حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہے۔ تحریک انصاف کواگلے عام انتخابات میں اب کوئی معجزہ دکھانے پر ہی  کامیابی مل سکتی ہے۔پی ڈی ایم کی تحریک کے بعد پاکستان تحریک انصاف کواب اندرونی طور پر بھی بہت بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔

کے پی کے میں پرویز خٹک گروپ،پنجاب میں جہانگیر ترین گروپ اور سندھ میں اس کے لوگوں کے پی پی پی سے بڑھتے رابطے کوئی بھی بحران پیدا کر سکتے ہیں جن سے بچ نکلنا آسان نہیں ہوگا۔دوسرا موجودہ اتحادی ق لیگ بھی اگلے عام انتخابات میں پی پی پی سے قربت بڑھاتی نظر آرہی ہے اور زردارری صاحب جہانگیر ترین اور پرویز الہی سے مل کر پنجاب سے سیٹیں حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کرتے نظر آرہے ہیں جس کا خسارا تحریک انصاف کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔پاکستان تحریک انصاف کے پاس اب وقت بہت کم رہ گیا ہے اور اس کی کارکردگی سے عوام ناخوش ہیں  بلکہ مایوس زیادہ مناسب لفظ ہوگا۔ضمنی انتخابات کے نتائج،، پچھلی تین سالہ کارکردگی سامنے رکھتے ہوئے اور ساتھ عمران خان کی موجودہ ٹیم دیکھتے ہوئے سچی بات ہے دل سے ایک  آہ  ہی نکل رہی ہے  کہ کاش کپتان نے  اپنے دعووں کے مطابق حکومت میں آنے سے پہلے زندگی کے ہر شعبے کے ماہرین کی کوئی شیڈو کابینہ بنائی ہوتی تو  اس کے پاس نظام میں تبدیلی کا پورا ماڈل ہوتا جس سے اس نے نظام تبدیل کر دیا ہوتا  لیکن ہر چھ ماہ بعد نان پروفیشنل لوگوں کو کبھی ایک محکمے کا وزیر اور کبھی دوسرے محکمے کا وزیر بنایا جاتا رہا اور نظام تبدیل کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ ا ور  پروفیشنلز کی ٹیم نہ ہونے سے بری طرح ناکامی سے دوچار ہورہا ہے جس سے اب عوام کے پاس اس کی حکومت تبدیل کرنے کا ہی آپشن باقی رہ گیا ہے جو اگلے عام انتخابات میں عوام کرنے کا ارادہ بناتے نظر آرہے ہیں۔ عمران کی تبدیلی کا نعرہ  اگر 2023ء  تک عمل کے سانچے میں ڈھلتا تو پھر اسے عوام کی طرف سے تبدیلی کے فیصلے کے لئے تیار رہنا چاہئے جس کی جھلک ہر ضمنی الیکشن میں عوام دکھا کر اسے خوش فہمی سے نکلنے کے لئے جھٹکے لگا رہے ہیں۔    

مزید :

رائے -کالم -