عالمی ہفتہ برائے روڈ سیفٹی

 عالمی ہفتہ برائے روڈ سیفٹی
 عالمی ہفتہ برائے روڈ سیفٹی

  

چھٹا عالمی ہفتہ برائے روڈ سیفٹی 17مئی سے 23مئی کے دوران منایا جا رہا ہے جس کا مقصد اقوام متحدہ کی 74/299کے تحت 2021سے 2030کے دوران دنیا بھر میں روڈ سیفٹی کو فروغ دینا ہے۔ عالمی روڈ سیفٹی کے لیے اگلے دس سال کا پلان بھی اس ہفتے میں جاری کیا جانے کا امکان ہے جس کو گذشتہ دس سال کے دوران روڈ حادثات کی روک تھام کیلئے کیے جانے والے اقدامات کی پیش نظر بنایا گیا تاکہ 2021سے 2030تک کم از کم 50فیصد روڈ ٹریفک حادثات میں کمی لائی جا سکے۔ بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کی وجہ سے روڈ سیفٹی اب عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکی ہے اور عالمی پلان کی روشنی میں 5بنیادی اقدامات پر کام کرتے ہوئے ممکنہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں ان اقدامات میں روڈ سیفٹی مینجمنٹ، محفوظ سڑکیں، محفوظ گاڑیاں، محفوظ سڑک استعمال کرنے والے اور حادثات کیلئے بروقت ایمرجنسی ریسپانس شامل ہیں۔ 

چھٹا عالمی ہفتہ برائے روڈسیفٹی "سٹریٹ فار لائف"کے سلوگن کے ساتھ منایا جا رہا ہے یعنی ڈرائیونگ کے دوران حد رفتار 30کلومیٹر فی گھنٹہ کم کرکے گنجان ٹریفک اور تنگ گلیوں میں بھی بہت سی قیمتی جانوں کو ٹریفک حادثات سے بچایا جا سکتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں 13لاکھ لوگ ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں جس میں 54فیصد کی اموات موٹر سائیکل، سائیکل اور پیدل چلنے والوں کی ہو رہی ہیں۔ کم آمدنی والے ممالک میں دنیا کی ایک فیصد گاڑیاں ہونے کے باوجود 13فیصد اموات ہوتی ہیں جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں دنیا کی 40فیصد گاڑیاں ہونے کے باوجود شرح اموات صرف 7فیصد ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر 24سیکنڈ میں کسی نہ کسی کی موت روڈ حادثے میں ہوتی ہے۔ 

پاکستان کے 70فیصد حصے میں ایمرجنسی سروس کا نظام ریسکیو 1122ایمرجنسی سروس کے قانون کے مطابق موجود ہے جس سے ٹریفک حادثات و سانحات کے متاثرین کو بروقت ایمرجنسی سروسز بلا تفریق رنگ و نسل مل رہی ہیں۔ ایمرجنسی سروسز کا اس مربوط و منظم نظام میں ایمبولینس، فائر، ریسکیو سروس اور کمیونٹی والنٹیرسروسز فراہم کی جاتی ہیں۔ ریسکیو 1122ایمرجنسی کئیر کا اس نظام کا آغاز 2004میں ہوا اور اب تک 92لاکھ سے زائد متاثرین کو بروقت ریسکیو کیا جا چکا ہے جس میں 28 لاکھ روڈ ٹریفک حادثات کے متاثرین بھی شامل ہیں۔ روڈ ٹریفک متاثرین کیلئے ریسکیو سروس نے موٹر بائیک ایمبولینس سروس بھی 2017میں شروع کی تاکہ زیادہ ٹریفک جام اور تنگ گلیوں میں جہاں ایمبولینس کا پہنچنے میں زیادہ وقت درکار ہو وہاں بروقت پہنچ کر روڈ ٹریفک کے متاثرین کو بچایا جا سکے۔ مزید برآں شدید چوٹوں والے روڈ حادثات کے شکار کو پرائمری ہیلتھ کیئر سے مخصوص بہتر ہیلتھ کیئر کی سہولت والے ہسپتال میں شفٹ کرنے کیلئے ریسکیو سروس پیشنٹ ٹرانسفر سروس فراہم کرتی ہے۔ ریسکیو سروس کے اس نظام کے تحت بڑے حادثات، قدرتی آفات حتی کے کروناجیسی وبا کے دوران بھی بروقت سروسز کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ ریسکیو1122ٹراما رجسٹری سسٹم میں تمام روڈ حادثات کے شکار متاثرین کا ممکنہ اعداد و شمار وجوہات کا ریکارڈ رکھتا ہے جس کی بنیاد پر پالیسی بنانے والے اداروں کو ریسرچ کے بعد سفارشات پیش کی جاتی ہیں تاکہ حادثات کی روک تھام کرکے سیفٹی کو فروغ دیا جا سکے۔ 

ایمرجنسی ریسکیو سروس1122کے اعداد و شمار کے مطابق 28لاکھ حادثات میں 80فیصد سے زائد روڈ حادثات موٹر سائیکل سے منسلک ہیں اور ہر دن 21سے 40سال کے عمر تقریباً970افراد روڈ ٹریفک حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ حادثات کے شکار افراد کا دکھ کرب تکلیف اور نقصان کا اندازہ الفاظ اور اعدادو شمار سے نہیں لگایا جا سکتا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ریسرچ کی بنیاد پر دی گئی سفارشات پر نافذالعمل ہوں اور عالمی ادارہ صحت نے ریسکیو سروس اور متعلقہ اداروں کے ساتھ ملکر روڈ ٹریفک حادثات کا جائزہ لیاتو یہ بات سامنے آئی کہ پنجاب میں ہر ایک منٹ 6سیکنڈ میں ایک حادثہ رونما ہو رہا ہے اور ریسکیو سروس 970سے زائد روڈ حادثات کو روزانہ ریسپانس کر رہی ہے زیادہ حادثات موٹر بائیک سے منسلک ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ موٹرسائیکل کو 50کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتا ر سے بائیں طرف مخصوص لائن میں چلانا،معیاری ہیلمٹ باقاعدہ سٹریپس  باندھ کر استعمال کرنا، محفوظ پبلک ٹرانسپورٹ اور معیاری ڈرائیونگ لائسنس پروگرام کا اجراء جیسے اقدامات سے حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح میں واضع کمی لائی جا سکتی ہے۔ 

عزیز قارئین!ہم سب کو ہر شعبہ میں سیفٹی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے خصوصاً روڈ سیفٹی کیونکہ مہذب قوموں کی پہنچان کسی ملک کے سڑک/ روڈ کے نظام سے ہو جاتی ہے۔ ہر شہری کو چاہیے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کرے۔ کم عمری ڈرائیونگ کی حوصلہ شکنی کرے۔ موٹر سائیکل بائیں لین میں چلائے دوران ڈرائیونگ ہرگز موبائل کا استعمال نہ کرے اورحد رفتارکے تحت گاڑی چلائیں۔ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل دوسری گاڑی یا موٹر سائیکل سے محفوظ فاصلہ رکھیں اور اوورسپیڈنگ اور اوور ٹیکنگ سے اجتناب کریں۔یہ مت بھولیں کہ کبھی نہ پہنچنا دیر سے نہ پہنچنے سے بہتر ہے۔ 

آئیے ہم سب عہد کریں کہ ہم سٹرک پر ذمہ دارانہ رویئے کا عملی مظاہرہ سے روڈ ٹریفک حادثات میں خاطر خواہ کمی لا کر پاکستان میں روڈ سیفٹی کو فروغ دیں گے۔ انشاء اللہ 

مزید :

رائے -کالم -