آئین آ باد اور ششکٹ آہستہ آہستہ پانی میں ڈوب رہے تھے

 آئین آ باد اور ششکٹ آہستہ آہستہ پانی میں ڈوب رہے تھے
 آئین آ باد اور ششکٹ آہستہ آہستہ پانی میں ڈوب رہے تھے

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :81

اردو تھا جس کا نام!

 بائیں ہاتھ دریا کنارے چینی معماروں کی بستیاں تھیں جن کے باہر اوراندر دیواروں یا تختوں پرچینی زبان میں ہدایات لکھی نظر آ تی تھیں جنہیں ہم پڑھنے اور سمجھنے سے قا صر تھے۔ اس کے مقابلے میں مقا می لوگو ں کی راہ نمائی کے لیے کہیں کہیں انگریزی میں لکھی تحریریں بھی دکھائی پڑتی تھیں۔ اردو البتہ کہیں نہیں تھی۔ میں نے غور کیا تو یاد آیا کہ اردو تو شاہراہ ِ ریشم سے بحیرہ¿ عرب کے ساحلوں تک پو رے پاکستان میں کہیں نہیں ہے۔

عطا ءآباد جھیل سے ذرا پہلے ایک یاد گار زیر ِ تعمیر تھی، جس پرFWO.. 141 ROAD MAINT BN دھاتی حروف سے تحریر تھا۔ وہاں گاڑی روکی گئی۔ یہ ایک سادہ سی سرمئی پتھر سے بنی یاد گار تھی جس کے دائیں بائیں سیاہ تختیوں پر عطا ءآباد جھیل بننے کے حا دثے کی روداد بز بان ِ اردو اور انگریزی تحریر تھی۔ سامنے دریا پار وہ پہا ڑ تھا جس پر کبھی غارئیٹ نامی گاو ¿ ں آباد تھا اور اس کے نیچے دریا کنارے سارئیٹ ہوتا تھا۔ ایک روز وہ پہاڑ کا ٹکرا جس پرغارئیٹ آباد تھا،اپنے وجود سے الگ ہوا اور۔۔۔ اس پر آباد لوگوں پر قیامت اور نیچے سارئیٹ کے لوگو ں پرآسمان ٹوٹ پڑا۔ مٹی کی اس قبر نے دیوار بن کر دریا کا راستہ روک لیا۔ 

زندگی اچانک بے اعتباری اور غیر یقینی ہو گئی۔ کیا ہورہا ہے؟ کیا ہوگا؟ کہاں جائیں گے؟ آئین آ باد اور ششکٹ آہستہ آہستہ پانی میں ڈوب رہے تھے۔پانی زہر کی طرح بستیوں کے جسم کو چڑھ رہا تھا۔ لوگ اپنے آ شیانے چھوڑ چھو ڑ کر جا رہے تھے، سامان ساتھ اٹھایا جا سکتا تھا لیکن وہ گھر، جہاں یادیں جنمیں تھیں، جہاں دالانوں میںوقت کی شاخوں پر مو سموں کے پھول کھلے اور مرجھائے تھے، جن بل کھاتی کچی گلیوں میں سیب اور خو بانی کے پھولوں کے ساتھ سانسوں میں آرزو کے شگو فے چٹکے تھے وہاں اب بے گیاہ پہا ڑ کی ڈھلوان تھی اور ویرانی۔ میں اس پہا ڑی ڈھلوان کو دیکھتا رہا جو کتنے ہی گھرانوں کا مسکن ہوا کرتی تھی۔ کتنی پر سکون اور آباد بستیاں تھیں جو خس و خا شاک ہو گئیں۔ کیسے خوب صورت اور مہربان لوگ تھے جو رزق ِ خاک ہو گئے۔ اور اب یہ بے طور سی پہا ڑی ڈھلوان تھی زندگی کی کسی رمق سے محروم۔ ایک نیم مند مل زخم کی طرح، جس کے داغ میں رہ رہ کر درد بھری یادوںکی ٹیس اٹھتی تھی۔

عطا ءآباد جھیل؟؟

عطا ءآباد جھیل کو دیکھ کر مجھے سب سے پہلے فیروزے سے بنے سنگی فرش کا خیال آیا۔ ویسا ہی فیروزی رنگ جو آنکھوں کو حیران کرتا تھا۔ اتنا گہرا اور شوخ رنگ میں نے آج تک کسی پانی کا نہیں دیکھا تھا۔ ملکہ ¿ سباءکو حضرت سلیمانؑ کے محل میں شیشے کے فرش پر پانی کا گمان ہوا تھا ، میری آ نکھوں کو پانی پر شیشے کا گمان ہو رہاتھا۔ جھیل کا فی نیچے تھی اور دور بھورے پہاڑوں میں گم ہورہی تھی۔ اس کا پرلا کنارہ پہاڑوں کے تہ در تہ سلسلے کے پیچھے کہیں تھا۔ جھیل کی دائیں جانب پہا ڑ کے سینے پر نئی سڑک بن رہی تھی جو ایک زیر ِ تعمیر سرنگ میںداخل ہوتی تھی۔ چینی جلد از جلد یہ نیا راستہ بنا نے میں مصروف تھے۔جھیل کی طر ف اترنے والے کچے لہریے راستے پر بہت سے ٹرک، مسافر ویگنیں اور جیپیں کھڑی تھیں۔ مسافروں اور ڈرائی وروں کی بھیڑ تھی، بے تر تیبی تھی اور ہوا میں ڈیزل کی بوجھل بُو تھی۔ اس منظر میںدریا کے سبز فیروزی رنگ کے علاوہ ایسی کوئی خوب صورتی یا دل کشی نہیں تھی جس کی آپ ایک اصل اور حقیقی جھیل سے توقع کر تے ہیں۔ شاید اس لیے کہ یہ ایک حقیقی جھیل تھی بھی نہیں یہ تو ایک حا دثے کا شا خسانہ، ایک سانحے کا حا صل تھی۔ جسے جفا کش اور خوش امید ہنزائیوں نے تجارت اور سیا حت کا ذریعہ بنا لیا تھا۔کو ئی اور ہوتا تو نسلوں تک اس حادثے کے سوگ میں ڈوباوقت کے ایک کونے میں پڑا کراہتا رہتا (جیسے ہمارے ہاں سیلاب سے متاثرہ لوگ سال ہا سال سرکاری امداد کے انتظار میں ایڑیاں رگڑتے رہتے ہیں)لیکن ہنزہ کے رہنے والے زندگی کی صعوبتوں اورچیلنجوں سے ہمیشہ نبرد آزما رہے ہیں۔ ان کی تاریخ اس اعتبار سے بڑی سنسنی خیز ہے۔ سرد مہر مو سموں، سنگ دل پہا ڑوں اور تڑ ختی ٹو ٹتی زمین کے ساتھ یہ محبتی اور کشادہ دل لوگ زندگی گزارتے آئے ہیں۔(جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -