پلاسی کی لڑائی۔۔۔۔ (1757)

پلاسی کی لڑائی۔۔۔۔ (1757)
پلاسی کی لڑائی۔۔۔۔ (1757)

  

مصنف : ای مارسڈن 

 1756ءمیں یورپ میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے درمیان پھر جنگ شروع ہو گئی۔ اس سے ذرا ہی پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی نے کرنل کلائیو کو جو تندرست ہو چکا تھا۔ اپنی فوج کا سپہ سالار بنا کر ہند کی طرف روانہ کیا تھا۔ کلائیو مدراس پہنچا ہی تھا کہ خبر آئی کہ کلکتہ انگریزوں کے ہاتھ سے جاتا رہا۔

 اس خبر کو سننے سے مدراس کے انگریزوں کو بڑا رنج ہوا۔ غصے اور انتقام کی آگ ان کے سینوں میں بھڑک اٹھی کرنل کلائیو نے بری فوج کی سپہ سالاری کی۔ امیر البحر واٹسن نے بحری بڑا سنبھالا۔ تین مہینے کے سفر کے بعد کلکتے پہنچے، پہنچتے ہی اس خوبی اور آسانی سے کلکتہ لے لیا کہ اپنا ایک آدمی تک ضائع نہ ہونے دیا۔ پھر ہگلی کی طرف بڑھا اور اس کو بھی لے لیا۔

 اب تو سراج الدولہ کو خوف پیدا ہوا۔ انگریز قیدیوں کو رہا کر دیا اور صلح کا ملتجی ہوا۔ انگریزوں سے کہا کہ جو نقصان آپ لوگوں کا ہوا ہے اسکی تلافی کی جائے گی مگر ساتھ ہی ساتھ چندرنگر کے فرانسیسیوں کو بھی خط لکھ دیا کہ آپ آئیں اور میری حمایت کریں۔ کرنل کلائیو نے نواب کی دورنگی کا حال جلد ہی معلوم کر لیا اور چندرنگر پر چڑھائی کر کے اسے فتح کر لیا۔

 سراج الدولہ کو گدی پر بیٹھے سال بھر سے بھی کم ہوا تھا مگر اس قلیل عرصے میں اس کی بدنظمی اور بے رحمی نے رعایا کو بیزار کر دیا۔ وہ چاہتی تھی کہ اس سے نجات ملے تو اچھا ہے۔ اس کے بڑے بڑے افسروں اور درباریوں نے سازش کی کہ اسے گدی سے اتار کر سپہ سالار میر جعفر کو اس کی جگہ نواب بنائیں۔ میر جعفر نے کلائیو کو لکھا اور مدد کی درخواست کی اور یہ تجویز پیش کی کہ آپ سراج الدولہ پر حملہ کریں تو میں سپاہیوں کی ایک قوی جماعت لے کر آپ کے ساتھ حملے میں شریک ہوں گا۔

 کرنل کلائیو اپنی فوج لے کر شمال کی جانب روانہ ہوا۔ سراج الدولہ کے ڈیرے موضع پلاسی میں پڑے تھے جو کلکتہ اور مرشد آباد کے بیچ میں واقع ہے۔ پچاس ہزار پیادے، اٹھارہ ہزار سوار، پچاس توپیں اور کچھ فرانسیسی سپاہی سراج الدولہ کے ساتھ تھے۔ کلائیو کے پاس صرف گیارہ سو گورے اور دو ہزار ہندوستانی سپاہی اور دس چھوٹی چھوٹی توپیں تھیں۔ 23 جون 1757ءکو لڑائی کا میدان گرم ہوا۔ میر جعفر اپنے وعدے پر پکا نہ رہا مگر اس خیال سے پاس ہی پاس لگا رہا کہ دیکھئے کون فتح یاب ہوتا ہے؟ دن بھر انگریزوں نے گولہ باری کی۔ سہ پہر کے قریب تین بجے جب کلائیو کے کچھ سپاہی دشمن کی آتش بازی سے مر چکے تھے تو اس نے اپنی فوج کو دھاوا کرنے کا حکم دیا۔ نواب اور اسکے سپاہی بھاگ نکلے اور انگریزوں کی فتح ہوئی۔ 

 سراج الدولہ بھاگا تو تھا ہی مگر ایک ایسے آدمی کے ہاتھ سے پکڑا گیا جس کی کبھی اس نے ناک کٹوا دی تھی۔ وہ میر جعفر کے بیٹے میرن کے سامنے گرفتار ہو کر آیا۔ اس نے اسے فوراً مروا دیا۔ انگریزوں کی خدمات کے صلے میں نئے نواب نے ان کو ان کے کل نقصانوں کا ہرجانہ ادا کر دیا اور کلائیو اور دیگر افسروں کو بڑی بڑی نذریں دیں اور کلکتہ کے گرد کا علاقہ جو چوبیس پرگنہ کے نام سے مشہور ہے، ایسٹ انڈیا کمپنی کو بخش دیا۔ اور دو سال کے بعد اس علاقہ کا کل لگان جو کمپنی کی طرف سے واجب الادا تھا کلائیو کو انعام میں دیا۔ اس سے کلائیو بڑا دولت مند ہو گیا۔ یہ کلائیو کی جاگیر کہلاتی تھی۔ کمپنی کلائیو کے جیتے جی اس کا لگان کلائیو کو ادا کرتی رہی۔ یہ پہلی قلمرو تھی جو کمپنی نے ہند میں حاصل کی۔ بنگال احاطہ کی بنیاد اسی سے پڑی تھی۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -