سقراط اپنے عہد کے تمام لوگوں سے منفرد انسان تھا

سقراط اپنے عہد کے تمام لوگوں سے منفرد انسان تھا
سقراط اپنے عہد کے تمام لوگوں سے منفرد انسان تھا

  

مصنف : ملک اشفاق

 قسط : 5

 ہاتف (Oracle)غیبی کی آواز:

سقراط کی عمر پچاس سال ہو چکی تھی۔ کسی معاشرے میں اتنا وقت گزارنے کے بعد اس شخص کے کردار، شخصیت اور معاملات کے بارے میں لوگ اسے مکمل طور پر جان جاتے ہیں۔سقراط بھی ایسا ہی شخص تھا جس کی عادات و کردار کے بارے میں اس معاشرے کے لوگ اس کے بارے میں متفق رائے رکھتے تھے کہ سقراط کردار، گفتار، عقل و خرد اور اخلاقی حوالے سے بہترین انسان ہے۔وہ لوگوں کو انصاف اور سچ بولنے کی تعلیم دیتا تھا۔ اس کے ساتھ جو بھی گفتگو کرتا وہ خوشی اور لطف محسوس کرتا تھا۔اس کی روح کی بالیدگی اور ذوق جمالیات نے اس کے گفتار و کردار میں ایک خاص جاذبیت اور حلاوت پیدا کر دی تھی۔سقراط کا کہنا تھا کہ خوبصورتی کے ساتھ کی گئی گفتگو میں بہت زیادہ لذت ہوتی ہے لوگ اس کی سچائی سے بہت زیادہ متاثر تھے۔

افلاطون اپنے مکالمہ ”دعوت“ میں ایلسی بیادیز کے حوالے سے لکھتا ہے کہ سقراط ”سائی لیونس“ بن مانس ہے، لیکن اس کی ذات کے اندر دیوتاﺅں کی حسین وجمیل روح ہے۔سقراط اپنے عہد کے تمام لوگوں سے منفرد انسان تھا۔ وہ دولت و حشمت اور شہرت کی خواہشات سے مبرّا تھا۔سقراط عدل، خیر،شجاعت اور نیکی کو انسانوں کے لیے مستقل اعمال قرار دیتا ہے۔سقراط کا کہنا تھا نیکی اور اچھائی زمان و مکاں کی تبدیلی سے اپنی صفات اور جوہر تبدیل نہیں کرتی۔ نیکی اور اچھائی ہر جگہ پر ایک مستقل مثبت اثرات کی حامل ہے۔سقراط کو اس کے معاشرے کے افراد نے علم اخلاقیات کا بانی قرار دیا تھا۔ سقراط کے دوستوں اور شاگروں کو مکمل یقین تھا کہ سقراط دیوتاﺅں کی جانب سے خاص پیغام لے کر آیا ہے۔

کیرے فن ایک پرجوش نوجوان تھا، وہ ہر وقت سقراط کے ساتھ رہتا تھا۔ کیرے فن نے انتہائی جرا¿ت سے کام لیتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ سقراط تمام انسانوں سے زیادہ دانا اور خردمند ہے۔اس لیے کیرے فن ڈیلفی گیا وہاں اپالو دیوتا کا مندر تھا۔ ڈیلفی کے مندر میں لوگ جا کر ہاتفِ غیبی سے اپنے سوالات کے جوابات پوچھا کرتے تھے۔ اپالو دیوتا کی پجارن تمام یونان سے آنے والے لوگوں کے جواب ہاتفِ غیبی سے پوچھ کر دیا کرتی تھی۔مثلاً کچھ لوگ پوچھتے تھے کہ ان کا کاروبار کیسا رہے گا؟ کچھ پوچھتے تھے کہ آنے والا سال ان کے لیے کیسا رہے گا؟

روایت ہے ڈیلفی میں اپالو دیوتا کے مندر میں صرف یونان سے ہی نہیں بلکہ مشرقی ممالک کے بادشاہ بھی ایسے سوالات پوچھنے کو آتے تھے۔

ایتھنز کا معروف ترین دانشور اور ڈراما نگار سوفوکلیز نے اپنے ڈراموںمیں ثابت کیا تھاکہ اپالو دیوتا کے ہاتفِ غیبی کی بات ہمیشہ سچ ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے ہاتفِ غیبی کی باتوں پر شک کرنا گناہ تھا۔

جب تک یونانیوں کا دیوتاﺅں پر اعتقاد رہا، وہ ڈیلفی کے ہاتفِ غیبی کو معتبر سمجھتے رہے۔خود سقراط نے بھی ایک دفعہ اپنے دوست کو مشورہ دیا تھا کہ جنگ پر جانے سے پہلے ڈیلفی کے اپالو دیوتا کے ہاتفِ غیبی کی رائے معلوم کرے۔کیرے فن (Chaerephon) بھی اپنے سوال کا جواب لینے ڈیلفی گیا تھا۔ ڈیلفی ایتھنز کی شمال مغربی پہاڑیوں پر واقع ہے اور یہ پہاڑ بہت مقدس خیال کیا جاتا ہے۔ڈیلفی کے مندر میں اپالو دیوتاکا مندر پایہ¿ تخت تھا۔ اپالو ایک حق گو دیوتا تھا۔اس کی پجارن اپالو کی ایما پر ہی سوالوں کے جواب دیتی تھی۔

کیرے فن (Chaerephon) ہاتفِ غیبی کا ذکر بچپن سے ہی سنتے آیا تھا اب وہ ڈیلفی کے شاندار اور عظیم الشان مندر کے بالکل سامنے تھا۔ دراصل جب تک کوئی ڈیلفی کے اپالو دیوتا کے مندر کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھتا تھا تو اس کو اس کی عظمت کا احساس نہ ہو سکتا تھا۔کیرے فن (Chaerephon) نے مندر کے پجاری کو نذر پیش کی اور دستور کے مطابق اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔اپنی باری پر جب کیرے فن نے اپنے سوال کا جواب پوچھا تو پجارن نے بلندآواز سے جواب دیا۔ کیرے فن جب مندر سے باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں چمڑے کے ٹکڑے پر لکھا ہوا جواب تھا۔کیرے فن (Chaerephon) کا سوال تھا کہ کیا ایتھنز میں کوئی شخص سقراط سے زیادہ عقل مند ہے؟

اس سوال کا واضح جواب تحریر تھا کہ کوئی شخص ایتھنز میں سقراط سے زیادہ عقلمند نہیں ہے۔کیرے فن سے جس قدر ممکن ہو سکا جلد ہی شہر کو لوٹ آیا۔ شہر آ کر ا س نے لوگوں کو اپالو دیوتا کے ہاتفِ غیبی کا جواب بتایا۔

کچھ لوگوں نے کہا ہاتفِ غیبی کی بات ہمیشہ صحیح نہیں ہوتی جب اس بارے میں لوگوں نے سقراط سے پوچھا تو اس نے انکساری سے کہا کہ دیوتا نے اس کا نام مثال کے لیے لیا ہو گا۔لیکن کیرے فن (Chaerephon) نے ہر جگہ کہا یہ ہاتفِ غیبی نے کہاہے کہ ایتھنز میں سقراط سے زیادہ خردمند کوئی نہیں۔ اس سے سقراط کے حلقہ احباب میں اضافہ بھی ہوا، لیکن حاسد اور دشمن بھی زیادہ ہو گئے۔ (جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -