ایک نظر میٹرو ٹرین پر بھی  

 ایک نظر میٹرو ٹرین پر بھی  
 ایک نظر میٹرو ٹرین پر بھی  

  

 میٹرو بس،سپیڈو بس، انٹرسٹی بس، مونوریل، اورنج لائن میٹرو ٹرین یا کوئی بھی نام لے لیں  یہ منصوبہ جات حکومت کی طرف سے عوام کو بہتر سستی اور باعزت سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں اس کے ساتھ ان منصوبہ جات کا سب سے اہم مقصد بڑے شہروں میں ٹریفک کے بہاؤ میں کمی لانا ہوتا ہے یہ منصوبے ترقی یافتہ ممالک میں بنائے جاتے ہیں اتفاق سے مجھے سنگاپور، تھائی لینڈ اور ملائیشیا میں مختلف ریپڈ ٹرین اور بس سروس میں سفر کرنے کا موقع میسر آیا اس وقت پاکستان میں میٹرو بس اور ٹرین کا دور داور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا جس وقت میں نے ملائیشیا کی مونو ریل میں سفر کیا تو دل میں ایک خواہش نے کروٹ لی کہ کاش ہمارے ملک میں بھی ایسی سہولیات میسر آجائیں سال 2018 میں مسلم لیگ برسر اقتدار آئی اور انہوں نے پہلے میٹرو بس اور پھر اورنج لائن میٹروٹرین کا منصوبہ شروع کیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی مجھے لگتا تھا کہ انشاء  اللہ بہت جلد میرے دیس باسیوں کو اچھی باعزت اور سستی سفری سہولیات مل جائیں گی خیر جب ٹرین کا افتتاح ہوا تو اس وقت مسلم لیگ کی حکومت نہیں تھی بلکہ اس کا افتتاح تبدیلی سرکار نے کیا سروس شروع ہونے کے چند دن بعد میں اپنی فیملی کے ساتھ ٹرین کا سفر کرنے اور مشاہدہ کرنے کی غرض سے گیا بلاشبہ یہ منصوبہ کسی بھی طرح انٹرنیشنل معیار سے کم نہیں تھا ہم نے سفر انجوائے بھی کیا اور لوگوں کو اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب بھی دی  جنوری 2020 میں  مجھے پھر سے ٹرین میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا میں نے علی ٹاؤن اسٹیشن سے سفر شروع کیا جب میں اسٹیشن میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا کہ اسٹیشن کی چھت اور سیڑھیوں پر جالے لٹک رہے تھے جیسے کسی سو سال پرانے کھنڈر میں لٹک رہے ہو ں آگے بڑھا تو دیکھا دیواروں پر پان تھوکنے کے ان گنت نشانات اس قوم کی ذہنی پسماندگی کی گواہی دے رہے تھے ٹکٹ خریدی آگے بڑھا تو پلیٹ فارم پر لیز کے خالی لفافے، ٹافیوں کے ریپر،جوس کے خالی ڈبے،ڈسپوزیبل کپ، شاپر،کاغذ،بوتلیں،شوارمے کے پیکنگ پیپر،کیچپ کے خا لی پیکٹ،سگریٹ کے ٹوٹے اور خالی ڈبیاں،گنیریوں کے چھلکے،آندھیوں سے آنے والے گردوغبار دیواروں اور شیشوں پر اشتہارات دیکھ کر یقین ہو گیا کہ یہ ہجوم اس قابل ہرگز نہیں تھا جو انہیں ملا ریلوے اسٹیشن کی حالت تبدیلی سرکار کا ماتم کر رہی تھی ہر ذی شعور شخص یہ بخوبی اندازہ کر سکتا تھا کہ اس وقت ملک میں کس طرح کے لوگ حکمران ہیں ہمارے ملک کی بد بختی کا عالم ملاحظہ فرمائیے یہاں پر آنے والی ہر حکومت سابقہ حکومت کے منصوبوں کو فیل کرنے میں اپنی عزت سمجھتی ہے جیسا کہ تبدیلی سرکار نے سمجھا حالانکہ یہ سب جانتے ہیں کہ جب کسی روٹ پر ٹرین یا کوئی ریپڈ بس سروس چلائی جاتی ہے تو اس کے نیچے یا ساتھ چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کردیا جاتا ہے ظاہری بات ہے اگر ٹرین کے ساتھ بس،ویگن، چینگچی،رکشہ، موٹر سائیکل ٹیکسی یا کوئی دوسری ٹرانسپورٹ چل رہی ہوگی تو لوگ ٹرین استعمال کرنے سے گریز کریں گے اور سڑکوں کا رش بھی ویسے ہی رہے گا جس سے کروڑوں روپے لاگت کا منصوبہ برباد ہو جائے گا پی ٹی آئی نے بھی ایسا ہی کیا میٹرو ٹرین منصوبے کو فیل منصوبہ ثابت کرنے کے لیے نیچے چلنے والی ٹرانسپورٹ کو بند نہیں کیا ان کی بے حسی،اور کینہ پروری کا عالم یہ تھا کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے کچھ چوانی چودھری روزانہ کی بنیاد پر حساب کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر ڈیوٹی کر رہے تھے جو قوم کو روزانہ کی بنیاد پر بتاتے تھے کہ آج ٹرین نے چھ لاکھ روپے کمائے اور آ ٹھ لاکھ کی بجلی استعمال کی اب ان عقل کے اندھوں کو کون بتائے کہ پبلک ٹرانسپورٹ سے حکومتیں کمای نہیں کرتیں بلکہ  اپنی عوام کو سہولتیں مہیا کرنے کے لیے مفت ٹرینیں،بسیں یا سستے کرائے والی بس سروس چلاتی ہیں خیر اس بحث سے اجتناب کرنا چاہیئے کیونکہ قوم یوتھ کچھ بھی ایسا سننے کو تیار نہیں جو ان کے لیڈر کی اوقات ان کے سامنے لائے  میری وزیراعظم صاحب سے اپیل ہے کہ برائے کرم ایک چکر اورنج ٹرین کا بھی ہو جائے اس کی مینٹیننس،اسٹیشنوں کی صفائی اور عملے کی غفلت کا بھی نوٹس لے لیں تاکہ قوم کے اربوں روپے برباد ہونے سے بچ جائیں اور جن مقاصد کے لئے اورنج لائن ٹرین بنائی گئی تھی وہ مقاصد بھی حاصل کئے جا سکیں میری پاکستانی قوم سے پرزور اپیل ہے کہ برائے کرم قوم بن جائیں یہ ٹرینیں آپ کی ہیں انہیں صاف رکھیں ریلوے اسٹیشنز کو اپنے گھروں کی طرح سمجھیں یہ چیزیں زندگی میں بار بار نہیں بنتیں انہیں سنبھال لیں ہم غریب اور مقروض ملک ہیں یہ ساری چیزیں بہت مشکل سے بنی ہے جنہوں نے آپ کو یہ سہولتیں دی ہیں ان کا بھی شکریہ ادا کریں ورنہ اس ملک میں تو عمران خان جیسے لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے ریکارڈ قرضے لینے کے باوجود بھی کوئی بڑا پروجیکٹ نہیں بنایااللہ کریم میرے دیس کو رہتی دنیا تک آباد اور شاد رکھے آمین۔

مزید :

رائے -کالم -