دعا زہرہ کیس، نکاح خواں کے بعد گواہ بھی پولیس کے ہاتھ لگ گیا

دعا زہرہ کیس، نکاح خواں کے بعد گواہ بھی پولیس کے ہاتھ لگ گیا
دعا زہرہ کیس، نکاح خواں کے بعد گواہ بھی پولیس کے ہاتھ لگ گیا

  

 کراچی (ویب ڈیسک) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے دعا زہرہ کے اغوا کے مقدمے میں نکاح خواں اور گواہ کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔شاہ فیصل کی رہائشی دعا زہرا کا کیس اس وقت دلچسپ موڑ اختیار کرگیا جب دعا اور ظہیر کا نکاح نامہ جعلی قرار دیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے دعا زہرا کے اغوا کے مقدمے میں گرفتار نکاح خواں اور گواہ کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ کراچی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت کے روبرو دعا زہرہ کے اغوا کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جس میں نکاح خواں ملزم نے انکشاف کیا کہ نکاح میں نے نہیں پڑھایا میرا نام استعمال ہوا۔

سماعت کیلئے پولیس نے گرفتار نکاح خواں اور گواہ کو پیش کیا، جہاں ملزم غلام مصطفیٰ نے اہم انکشافات کیے، ملزم نے عدالت کو بتایا کہ میں نے نکاح نہیں پڑھایا، میرا نام استعمال کیا گیا جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ نکاح پڑھانے کا طریقہ کار بتایا جائے۔

عدالت نے ملزم اصغر سے استفسار کیا کہ نکاح میں وکیل کا کیا کردار ہوتا ہے۔ ملزم اصغر نے کہا کہ مجھے گواہ بنایا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی افسر نے بتایا کہ مزید تین ملزمان کو گرفتار کرنا ہے، تفتیش کرنی ہے کہ واقعی ملزم نے نکاح پڑھایا بھی ہے یا نہیں۔

عدالت نے دونوں ملزمان کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -