ڈرگ مافیا بھی میدان میں آ گیا، ادویات کی مصنوعی قلت اور قیمتیں بڑھانے کا انکشاف

ڈرگ مافیا بھی میدان میں آ گیا، ادویات کی مصنوعی قلت اور قیمتیں بڑھانے کا ...
 ڈرگ مافیا بھی میدان میں آ گیا، ادویات کی مصنوعی قلت اور قیمتیں بڑھانے کا انکشاف

  

لاہور (جاوید اقبال سے )گیسٹرو ہیضہ اور ہیٹ سٹروک امراض کے تدراک کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے اور ان کی قیمتیں بڑھانے کا انکشاف ہوا ہے۔ڈرگ مافیا نے حکومت کی منظوری کے بغیر ہیں ان امراض کی Injectablesآئٹمز کی قیمتیں بڑھا لی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ امراض کی خطرناکی  روکنے کے لئے متاثرہ مریضوں میں زیادہ طور پر گلوکوز ڈرپ استعمال کی جاتی ہے  رنگر الیکٹیٹ پی  پیڈیا لائٹ او آر ایس  فلیجل نوویڈیٹ اور ڈیریامیں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سپرو فلوکساسین کے نام شامل ہیں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ امراض عام ہونے میں ان ادویات کے استعمال میں 200 فیصد اضافہ ہوگیا ہے اس بات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈرگ مافیا میدان میں آ گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈیریا  ہیضہ اور گیسٹرو کے مریضوں کو مرض کی شدت روکنے کے لیے سیپروفلوکساسین نامی اینٹی بائیوٹک استعمال کی جاتی ہے جو آنتوں کی انفیکشن کو ختم کرتا ہے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس اینٹی بائیوٹک میں اکثر مریضوں کو ری ایکشن ہو جاتا ہے روکنے کے لیے اور مریض کی جان بچانے کے لیے فوری طور پر اینٹی ڈوٹ کے طور پر Avilنامی  انجکشن اور solocartifانجکشن استعمال کیا جاتا ہے جو اس وقت  مارکیٹ سے غائب کر دیا گیا ہے اور بلیک میں فروخت ہو رہا ہے ایول  انجکشن کی قیمت 10 سے 12 روپے ہے لیکن اس وقت 200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اسی طرح اصولوں کا سولو کاٹیو انجیکشن کی قیمت 2 سے 250روپے ہے لیکن  جب موسمی بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں تو یہ انجیکشن جس کا شمار لائف سیونگ ڈرگ میں ہوتا ہے 1000 روپے  تک مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ گلوکوز ڈرپ اور اس سے متعلقہ دیگر ادویات کی قیمتوں میں بھی 50سے70فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے دوسری طرف لوگ  ان کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ادویات کی بلیک مارکیٹنگ میں آئندہ دنوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے سوال سے ڈریپ کے چیف سلیکٹر ڈاکٹر عاصم رو سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم نے پہلے ہی وفاقی ڈرگ انسپکٹروں کو حکم جاری کر دیا ہے کہ وہ بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے لوگوں کے خلاف کارروائی کریں جبکہ یہ سبجیکٹ صوبائی حکومتوں کا ہے انہیں ایکشن لینا چاہیے جس پر کنٹرولر نورحیات سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی اپنے ڈرگ انسپکٹر وں کو متحرک کر چکے ہیں.

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -