شیریں مزاری کو دراصل کس کیس میں گرفتار کیا گیا ؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں

شیریں مزاری کو دراصل کس کیس میں گرفتار کیا گیا ؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم ...
شیریں مزاری کو دراصل کس کیس میں گرفتار کیا گیا ؟ وہ بات جو شاید آپ کو معلوم نہیں

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کی رہنماء اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کو اینٹی کرپشن پنجاب نے تحویل میں لے لیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ انہیں لاہور منتقل کیاجارہاہے لیکن دراصل انہیں کس کیس میں گرفتار کیاگیا، اس بارے میں کچھ ہفتے قبل سینئر کالم نویس جاوید چودھری نے تفصیلاً اپنے قارئین کو آگاہ کیا تھا ۔

 جاوید چودھری نے شیریں مزاری کے خاندان کی طرف سے زمین پر قبضے کی کہانی لکھی تھی جن میں سے سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق کو بھی حصہ ملا۔اپنے کالم میں جاوید چودھری نے لکھا کہ "شیریں مزاری کے والد سردار عاشق محمود خان مزاری پنجاب کے آخری ضلع راجن پور کی تحصیل روجھان کے بڑے فیوڈل لارڈ تھے‘ یہ ہزاروں ایکڑ زمین کے مالک تھے۔ذوالفقار علی بھٹو  کی  لینڈ ریفارمز کے دوران  فیوڈل لارڈز سے زمینیں لے کر مزارعوں اورہاریوں میں تقسیم کر دیں گئیں تو سردار عاشق مزاری کی زمین بھی تقسیم ہو گئی۔ لینڈ ریفارمز کو پتا چلا موضع کچہ میانوالی کی40 ہزار کنال زمین کی جمع بندی اور پرت سرکار دونوں ملی بھگت سے غائب کر دی گئی ہیں‘اس زمانے میں   سردار کو جب بھی ریکارڈ کی ضرورت پڑتی تھی تو اہلکار پورا محکمہ مال اٹھا کر سائیں کے گھر لے آتے تھے‘ 1971میں بھی یہی ہوا‘ محکمہ مال کے اہلکار عاشق مزاری کا ریکارڈ بھی ان کے ڈیرے پر لے آئے اور جعلی ریکارڈ بنا دیاگیا ‘ اس پر ڈپٹی کمشنر کی جعلی مہریں تک لگا دیں‘ اصل ریکارڈ کا صندوق سردار کے وفادار پٹواری کے گھر رکھوا دیا گیا جس کا مقصد   چھاپے سے بچنا تھا۔ پٹواری بھی خوف زدہ تھا‘ اس نے اپنے نائب قاصد کو اعتماد میں لیا اور صندوق اس کے گھر میں چھپا دیا ‘بہرحال قصہ مختصر 40 ہزار کنال زمین کا نیا ریکارڈ بنایاگیا‘ مختلف کمپنیاں بنائی گئیں اور وہ زمینیں ان کمپنیوں کے نام منتقل ہو گئیں"۔

انہوں نے مزید لکھا کہ " عاشق مزاری  کے خلاف کیس شروع ہوا اور فیڈرل لینڈ کمیشن نے 1975میں کمپنیوں کو جعلی قرار دے دیا‘ مزاری فیملی کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم جاری ہو گیا اور یہ مقدمہ 50 سال چلتا رہا‘ عاشق مزاری کا دعویٰ تھا زمینیں اگر محکمہ مال کی ملکیت ہیں تو یہ ریکارڈ لے کر آئے‘ عدالت محکمہ مال کو ریکارڈ لانے کا حکم دیتی تھی اور اصل ریکارڈ غائب تھا‘ زمینیں اس دوران اربوں روپے کی بھی ہو گئیں اور تقسیم بھی ہوتی رہیں اور فروخت بھی‘ سردار عاشق مزاری کا انتقال ہو گیا اور یوں شیریں مزاری‘ ان کے بھائی سردار ولی محمد مزاری اور ان کی والدہ درشہوار مزاری اس پراپرٹی کے ’’بینی فیشری‘‘ ہو گئے،  وقت گزرتے گزرتے یہ  معاملہ فیڈرل لینڈ کمیشن اور عدالتوں سے ہوتا ہوا اینٹی کرپشن پنجاب پہنچ گیا"۔

کالم نویس کے مطابق "مزاری فیملی کے خلاف تفتیش شروع ہوئی اوریہ چلتی رہی‘ اس دوران ریکارڈ غائب کرنے والا پٹواری گرداور ہوا‘ ریٹائر ہوا اور فوت ہو گیا‘ وہ نائب قاصد جس کے گھر میں اصل ریکارڈ کا صندوق تھا وہ بھی دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن کیس عدالتوں اور اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان کبھی اِدھر ہو جاتا تھا اور کبھی اُدھر‘ شیریں مزاری 2008میں سیاست میں آگئیں۔پھر وزیراعظم کے مشیر احتساب  شہزاد اکبر کیس میں ان کی سپورٹ کرنے لگے‘ ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس شہزاد اکبر کے دست راست تھے لہٰذا روجھان کی زمینوں کی تفتیش الماریوں میں بند کر دی گئی لیکن آپ بدقسمتی دیکھیے‘ شہزاد اکبر کے بعد گوہر نفیس تبدیل ہو گئے اور ان کی جگہ رائے منظور آگئے ، ان کے پروفائل میں درجنوں ہائی پروفائل کیس موجود ہیں، یہ مار کھا کر بھی پیچھے نہیں ہٹتا لہٰذا ہر حکومت اس کے خلاف ہو جاتی ہے‘ بہرحال رائے منظور نے چارج سنبھالا تو وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے انھیں بلا کر شیریں مزاری کی سفارش کی لیکن یہ سفارش الٹی پڑ گئی"۔

انہوں نے مزید بتایا کہ "عثمان بزدار اگر ڈی جی کو نہ کہتے تو شاید یہ کیس مزید کچھ عرصہ فائلوں میں دبا رہ جاتا لیکن جوں ہی صوبے کے چیف ایگزیکٹو نے سفارش کی تو رائے منظور نے فائل کھولی اور 40 ہزار کنال کی  تفتیش شروع کر دی ،50 سال بعد ریکارڈ کے اصل صندوق تک پہنچ گیا‘ صندوق تاحال نائب قاصد کے گھر پر پڑا تھا۔اینٹی کرپشن کی ٹیم اس کے گھر تک پہنچی اور اصل ریکارڈ قبضے میں لے لیا ‘ یہ بڑا بریک تھرو تھا‘ رائے منظور نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دے دیا‘ یہ خبر وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچی تو عثمان بزدار نے ڈی جی کو طلب کر لیا‘ وہ  حالت بیماری میں سی ایم آفس پہنچے‘ وزیراعلیٰ نے انھیں ایف آئی آر سے روک دیا لیکن انہوں نے انکار کردیا اور کہاکہ  آپ میرا تبادلہ کر دیں مگر میں ایف آئی آر سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا‘وزیراعلیٰ نے رائے منظور کے تبادلے کا حکم دیا مگر عدم اعتماد کی وجہ سے حالات بدل گئے اور یہ تبادلہ نہ ہو سکا‘ دوسری طرف رائے منظور نے پہلی فرصت میں ’’کچہ میانوالی‘‘ زمین کی ایف آئی آر بھی درج کرا دی اور لگے ہاتھوں مکمل تفتیش کا حکم بھی جاری کر دیا"۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -