امریکی صدر جو بائیڈن کا دورہ جنوبی کوریا 

امریکی صدر جو بائیڈن کا دورہ جنوبی کوریا 
امریکی صدر جو بائیڈن کا دورہ جنوبی کوریا 

  

سیول (رضا شاہ) جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول اور امریکی صدر جو بائیڈن نے ہفتے کے روز سیول میں اپنی پہلی سربراہی ملاقات میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خطرات سمیت متعدد امور پر بات چیت کی ۔ بائیڈن کے دارالحکومت سیول کے مرکزی ضلع یونگسان میں نئے صدارتی دفتر پہنچنے پرکوریا کے صدر نے اُن کا استقبال کیا۔ سربراہی اجلاس پہلے ایک چھوٹے گروپ کی صورت میں منعقد کیا گیا لیکن بعد میں دونوں رہنما ایک نجی ملاقات بھی کریں گے اور اس کے بعد ان کے معاونین ایک توسیعی ملاقات کے لیے شامل ہوں گے۔ سربراہی اجلاس صدارتی دفتر کی عمارت کے اندر ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے ساتھ ختم ہوا۔ جنوبی کوریا کا نیا صدارتی دفتر پہلے وزارت دفاع کا ہیڈ کوارٹر تھا اور ابھی تک وہاں تزئین و آرائش کا کام جاری ہے۔ صدارتی آفس  پہنچنے سے پہلےبائیڈن نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے سیول کے قومی قبرستان کا دورہ کیا۔ توقع ہے کہ یون اور بائیڈن اتحادیوں اور خطے کو درپیش سیکیورٹی اور اقتصادی چیلنجوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کریں گے کیونکہ دونوں ممالک نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری یا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ قریب آ رہا ہے۔ صدارتی دفتر کے مطابق اگر امریکی صدر بائیڈن کے کوریا  قیام کے دوران شمالی کوریا نے ہتھیاروں کا تجربہ کیا تو دونوں رہنما فوری طور پر دونوں ممالک کی مشترکہ افواج کی کمان سنبھال لیں گے۔

مزید :

بین الاقوامی -