جنوبی کوریا میں امریکی خفیہ سروس کے ایجنٹ ملک بدر کر دئیے گئے  

جنوبی کوریا میں امریکی خفیہ سروس کے ایجنٹ ملک بدر کر دئیے گئے  
جنوبی کوریا میں امریکی خفیہ سروس کے ایجنٹ ملک بدر کر دئیے گئے  

  

سیول (رضا شاہ) جنوبی کوریا کے حکام نے بتایا ہے کہ امریکی خفیہ سروس کے دو ایجنٹ جو امریکی صدر جو بائیڈن کے ایشیا کے دورے پر کام کر رہے تھے انہیں واپس امریکہ بھیج دیا گیا ہے۔ ایک ایجنٹ پر امریکی صدر بائیڈن کے جنوبی کوریا پہنچنے سے ایک دن قبل ایک جنوبی کوریا کے شہری پر نشے میں دھت حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق امریکی ایجنٹوں سے کسی بھی طرح کی تفتیش نہیں کی گئی۔ امریکی ایجنسی کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے کہا "خفیہ سروس کو ایک آف ڈیوٹی واقعے کے بارے میں علم ہے جس میں دو ملازمین شامل ہیں جو ممکنہ پالیسی کی خلاف ورزی کا باعث ہو سکتے ہیں۔ یہ واقعہ گرینڈ حیات ہوٹل کے باہر پیش آیا جہاں امریکی صدر بائیڈن کو جنوبی کوریا کے دوارن قیام کرنا تھا۔ جنوبی کوریا کے پولیس اہلکار نے مشتبہ شخص کا نام یا دیگر معلومات نہیں بتائیں۔ سیکرٹ سروس امریکی ایجنسی ہے جو صدر اور وائٹ ہاؤس کی حفاظت کرتی ہے۔ سیکرٹ سروس کے ارکان ماضی میں بھی وقتاً فوقتاً بیرون ملک بد سلوکی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔2012 میں بھی 11 خفیہ سروس ایجنٹوں کو کولمبیا سے مبینہ طور پر "بدتمیزی" کرنے پر امریکہ واپس بھیج دیا گیا تھا۔ جنوبی کوریا کے ایک براڈکاسٹر "ٹی وی چوسن" جس نے سب سے پہلے سیول میں اس واقعے کی اطلاع دی تھی بتایا کہ مشتبہ شخص کی عمر 30 سال تھی اور اسے ہوٹل میں رہنے والے ایک شخص کی جانب سے پولیس کو بلانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -