معاشی بحران کا مستقل حل۔۔۔!

معاشی بحران کا مستقل حل۔۔۔!
معاشی بحران کا مستقل حل۔۔۔!
سورس: Pixabay

  

 پاکستان ان دنوں شدید  معاشی  بحران کا شکار ہے، ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گر چکے ہیں۔ ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ سٹاک مارکیٹ تیزی سے گر رہی ہے،  اس ساری بحرانی کیفیت کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام بھی ہے کیونکہ جب مارکیٹ میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو سرمایہ کار خوف کا شکار ہوتا ہے اور کوئی بھی بولڈ قدم اٹھانے سے گریز کرتا ہے، اگرچہ ہماری موجودہ حکومت بھی بڑے  اور مشکل فیصلوں سے گریز ہی کر رہی ہے لیکن ہمارے بحران کی وجہ صرف سیاسی عدم استحکام نہیں ہے۔ پاکستان کے موجودہ بحران کی اصل اور سب سے بڑی وجہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو   ہمارے فیصل ساز  کوئی بڑا مسئلہ سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ اور اگر وہ اس کو ایک بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں بھی تو اس کے حل سے بالکل بھی واقف نہیں ہیں ۔ آپ یہاں پر دنیا کا بہترین معیشت دان بھی لا کر بٹھا دیں تو مسئلہ جوں کا توں رہے گا جب تک کہ آپ پاکستان کے متحرکات سے واقف نہ ہوں گے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت اس کی زراعت پر انحصار کرتی ہے ، ہماری ایک تہائی سے بھی زیادہ آبادی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر زراعت سے منسلک ہے۔ اور اس شعبے میں جو ترقی ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہو سکی۔ ہم زرعی تحقیق اور پیداوار میں دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہم نے کبھی توجہ ہی نہیں دی بلکہ اس کو اتنا اہم ہی نہیں سمجھا۔ ملک بھر میں محض 10 کے قریب زرعی یونیورسٹیاں ہیں جہاں تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے یا محققین تو موجود ہیں لیکن ان کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔ ہم زراعت کے شعبے میں اپنے پڑوسی اور ہر موسم کے دوست چین سے  بہت سی مدد  لے  سکتے ہیں، اس کے ماہرین نے اس شعبے میں وہ کرشمے کر دکھائے ہیں کہ دنیا حیرت کا اظہار کرتی ہے۔

ہم چینی ماہرین  سے اپنے زراعت کے شعبے کی کیس سٹڈی کرواسکتے ہیں جس سے بہت سے مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل سامنے آجائے گا۔ مثال کے طور پر چین سے  ماہرین کو بلائیں اور ان کو ٹاسک دیں کہ پاکستان بھر میں زراعت کے شعبے کا ایک سروے کریں کہ  کیا وجہ ہے ہم دنیا کی بہترین قابل کاشت زمین رکھنے کے باوجود فی ایکڑ پیداوار بڑھانے میں ناکام ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک مہینے میں پوری "کیس سٹڈی"  مکمل ہو جائے گی اور تمام کمزوریاں سامنے آجائیں گی۔ پھر چین ہی سے مدد لیں کہ اب اس کا حل کیا کیا جائے۔ وہ آپ کو حل بھی بتائیں گے، ٹریننگ بھی دیں گے اور اس کو عملی جامہ پہنانے میں مدد بھی فراہم کریں گے۔ اس سے نہ صرف ہمارے کسان کو فائدہ ہوگا بلکہ ہماری برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

سال 2020-21 میں پاکستان کی برآمدات 25 ارب ڈالر اور درآمدات 56 ارب ڈالر کی تھیں۔ یعنی ہمیں 31 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا تھا، عام زبان میں ہمیں سال کا 31 ارب ڈالر صرف اس مد میں چاہیے جو ہمیں قرض لینا پڑ رہا ہے۔ اسی سال میں چین نے 40 ارب ڈالر کا صرف سویابین برازیل سے درآمد کیا جو کہ پاکستان میں بآسانی پیدا کیا جا سکتا ہے۔ اور پاکستان برازیل کی نسبت چین کو بہت قریب بھی پڑتا ہے۔ آپ تصور کریں کہ اگر پاکستان سویابین کی کاشت کر کے چین کی ضرورت کو پورا کرے اور 40 میں سے صرف ایک چوتھائی یعنی صرف 10 ارب ڈالر کی سویابین کی تجارت کا شیئر حاصل کر لے تو ہماری آمدنی میں قابل ذکر اضافہ ہو سکتا ہے۔

لیکن اس ساری پلاننگ کے لئے آپ کو ایک تگڑا اور ایسا وزیرِ خواراک و زراعت چاہیے جس کے پاس اس شعبے کی مہارت موجود ہو، وژن ہو، تجربہ ہو اور اسے کام کرنے کی آزادی ہو۔  اگر صرف ہماری زراعت پر توجہ مرکوز کرلی جائے اور ہنگامی بنیادوں پر اس شعبے کی بہتری کے اقدامات کیے جائیں تو نہ صرف ہم خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہوجائیں گے بلکہ دوسرے ملکوں کیلئے بھی ناگزیر حیثیت اختیار کرجائیں گے، اس سے عالمی سطح پر نہ صرف ہماری قدر میں اضافہ ہوگا بلکہ خوشحالی کا ایک ایسا دور شروع ہوگا جو نسلوں کو فائدہ دے گا۔

نوٹ:یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -