ملکی ترقی میں یونیورسٹیز کیسے کردار ادا کر سکتی ہیں؟

ملکی ترقی میں یونیورسٹیز کیسے کردار ادا کر سکتی ہیں؟
ملکی ترقی میں یونیورسٹیز کیسے کردار ادا کر سکتی ہیں؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 تحریر:پروفیسر ڈاکٹر شہزاد مرتضیٰ، وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان
یہ سوال زبان زد عام ہے کہ کیا پاکستانی جامعات ملکی ترقی میں اپنا کردار احسن طریقے سے نبھا سکتی ہیں؟ میرے نزدیک یہ سوال خود اس کا جواب ہے کہ  یہ شعور جامعات کی وجہ سے ہی ہے۔ جامعات کےکردار کی حقیقت کو پرکھنے کے لیے پس منظر میں جھانکنا ضروری ہے۔  سنہ 2000ء سے قبل پاکستان میں جامعات کی تعداد 35 تھی۔ ریسرچ کلچر نہ ہونے کےبرابر تھا۔ یونیورسٹی کا ایک تعلیمی ادارے سے زیادہ کوئی کردار نہیں تھا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد سے  پاکستان میں جامعات نے  اعلیٰ تعلیم  کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی۔ ایچ ای سی کے بانی چیئرمین پروفیسرڈاکٹر عطاء الرحمان کےچھ سالہ دور (2002۔2008) میں پاکستانی جامعات کی  تعمیر و ترقی کے لیے سمت کا تعین ہوا تو جہاں تعلیمی معیار  بہتر ہوا،جامعات تک رسائی بڑھی  وہیں اعلیٰ  تعلیم کوقومی ضروریات اور بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے۔ پہلے فیز میں یونیورسٹیز کا قیام اور ریسرچ کلچر کا فروغ اہم ترین مقاصد تھے۔ جس کے نتیجے میں  ایچ ای سی کے قیام کے پانچ سالوں کے اندر پاکستان میں متعدد جامعات  بنیں ۔جب کہ پاکستانی جامعات   ٹائمز ہائر ایجوکیشن اور کیو ایس  ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں دنیا کی 500بہترین جامعات  میں شامل ہو گئیں۔اس دوران جو اصلاحات ہوئیں ان سے پاکستان میں معیاری تحقیقی مقالوں کی اشاعت میں اس قدر تیزی سے اضافہ   ہوا کہ پاکستان نے فی کس تحقیقی مقالوں میں بھارت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ سنہ 2000ء میں، پاکستان کے پاس فی ایک کروڑ آبادی کے مقابلے میں صرف 44  جب کہ بھارت کی 172 بین الاقوامی تحقیقی اشاعتیں تھیں۔  "ویب آف سائنس" کے اعداد و شمار کے مطابق  سنہ 2017ء تک پاکستانی جامعات نے اعلیٰ معیار کی تحقیق میں 400 فیصد اضافے کے ساتھ بھارت کو پیچھے چھوڑدیا اور دنیا میں ایک مثال قائم کی۔ یہ اعداد وشمار جہاں امید افزا ثابت ہوئے وہیں اعلیٰ تعلیم سے منسلک اساتذہ کے کی حوصلہ افزائی کا بھی باعث بنے ۔ 
دوسرے فیز میںریسرچ کلچر اور مقالہ جات  کے معاشرے پر اثرات مرتب ہونا ضروری تھے  اور اس پر دس برس قبل  ہی کام شروع ہوجانا چاہیے تھا۔ اتنی بڑی تعداد میں تحقیقی مقالہ جات کی اشاعت کے ثمرات معاشرے تک منتقل ہونے کی شرح نسبتا حوصلہ افزا نہیں ہے تو یہ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ کیا یہ تحقیقی مقالہ جات بے کار ہیں؟ ، کیا یہ مقالہ جات اپلائیڈ نیچرکے نہیں ہیں؟ جس طرح  ریسرچ پبلی کیشنز کا ماحول پیدا ہوا اور اسے ملازمت کے حصول کے  لیے مرکزی شرط قرار دیا گیا اس وقت وہ پالیسی اور حالات سے ہم آہنگ تھا۔  مگر  اتنا طویل عرصے تک صرف پبلی کیشنز پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا۔بیسک ریسرچ ہو یا اپلائیڈ دونوں لازم ملزوم ہیں تاہم وقت آگیا ہے کہ اپلائیڈ ریسرچ کوبھی  Selection Criteria میں لایا جائے۔ایم ایس اور پی ایچ ڈی ریسرچ ورک میں مقامی مسائل ، صنعتی مسائل کو حل کرنے پر توجہ دی جائے اور ان پر عملدرآمد کے لیے جدت اور انوویشن لائی جائے۔ اس کے علاوہ قومی سطح پر بھی  انٹریونیورسٹی Collaboration اور Joint Venture، اساتذہ کا ایکسچینج پروگرام، طلبہ کا ایکسچینج پروگرام  عام کرنے کی ضرورت ہے۔ 

ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور پروفیسرزکے لیے لازمی کیا جائے کہ وہ اپلائیڈ نیچر کی ریسرچ سے منسلک ہوں۔ عملی ریسرچ کے لیے انڈسٹری کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پالیسی متعارف کروانی چاہیے۔انڈسٹری اکیڈیمیا لنکجز کے حوالے سے شاندار کارکردگی دکھانے والوں کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دینی چاہیے۔ وقت آگیا ہے کہ طلبہ کو صرف لیبارٹریوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں عملی تربیت کے لیے صنعتوں سے بھی منسلک کرنا چاہیے۔ طلبہ کو اپنے آرام دہ ماحول سے نکال  کر عملی کام کے لیے راغب کرنا ہوگا۔ بامقصد  ریسرچ کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور آلات کو اپنانا ہوگا۔ یونیورسٹی کی سطح پر کنسورشیم اور کلسٹر بنانے ہوں گے، ہائی ٹیک مشینری اور ٹولز تک طلبہ کی رسائی کو فروغ دینا ہوگااوراسے آسان بنانا ہوگا۔ ضلع یا ریجن کی سطح پر پی سی ایس آئی آر لیول کی لیبارٹریوں کا قیام عمل میں لاکر اور جامعات کے ساتھ اس کا الحاق کر کے بھی ترقی کی رفتار کو تیز کیا جاسکتا ہے۔ انہیں بھرپور وسائل دینے چاہئیں تاکہ ریسرچ کو وسعت دے کر نئی جہتوں تک پہنچایا جاسکے۔ٹارگٹڈ ریسرچ کے لیے گروپ تشکیل دینے چاہیئں جہاں ایک جیسی تحقیق کرنے والے تمام محققین متعلقہ گروپ میں شامل ہوکر اس سے مستفید ہوسکیں پھر  ان گروپس سے پراجیکٹس کی بنیاد پر کام لیا جائے جس سے  صنعت اور معاشرے کو درپیش مسائل کا حل ملے اورنت نئی ایجادات سامنے آئیں ۔  Isolationمیں کام کرنے والوں کو کلسٹر میں لایا جائے  جہاں انہیں تمام تر سہولیات میسر ہوں تاکہ وہ کسی بھی پراڈکٹ کی تیاری پر فوکس کرسکیں ۔ انٹرنیشنل لیول پر جامعات کی پہچان (رینکنگز) کو مثبت طریقے سے کیش کروانے کی ضرورت ہے ۔ یونیورسٹیوں کی  عالمگیریت کا بھی فقدان  ہے۔جامعات کی انٹرنیشنلائزیشن  کو فوری اور بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تعلیم و تحقیق کے لیے عالمی جامعات سے طلبہ کےتبادلوں کے لیے اقدامات کرنے چاہیئں۔ اساتذہ کو بھی مختلف ممالک سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کے مواقع دینے چاہیئں۔ اس سے  پاکستانی جامعات میں ہونے والے کام کا دنیا کی دیگر جامعات میں ہونے والے کام سے موازانہ ہو سکے گا اور اس میں بہتری کے امکانات روشن ہوں گے۔

  پاکستانی جامعات عالمی سطح پر   متعارف ہوں گی اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر سے قومی ترقی کا سفربھی تیز تر ہوگا۔  دنیا نےبھی ترقی کے لیےاپلائیڈ ریسرچ کا فارمولہ اپناکرتیز رفتار صنعتی ترقی کا حصول ممکن بنایا پاکستان میں بھی  ضرورت اس امر کی ہے کہ محض مقالوں کی اشاعت کے بجائے قومی ضروریات اور بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق اپلائیڈ نیچر کی ریسرچ پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت تیارہو جو ملک و قوم کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل سائنسز کے حوالے سے محققین کو سماجی مسائل  کو حل کرنے کے لیے جامع اورپرکشش تجاویز دینی چاہیئں جس کے لیے ڈائیلاگ کے کلچر کو فروغ دیا جائے۔اختلاف رائے کے اظہار کا طریقہ اور اس کے احترام کے درس کو بھی عام کرنے کی ضرورت ہے۔  مندرجہ بالا گزارشات پر عملدرآمد سے  جامعات کی استعداد کار بڑھے گی۔ صنعتوں کے مسائل کا حل نکلے گا۔ عملی اقدامات سماجی فلاح و بہبود کا سبب بنیں گے۔  قومی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوگااورمحققین کی  صلاحیتوں  میں نکھارسےنسل نو کی تربیت کا ایک نظام قائم ہوگا جس کے ثمرات وقت کے ساتھ بڑھتے چلے جائیں گے۔

۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -