روشن خیالی کا غلط استعمال

روشن خیالی کا غلط استعمال
روشن خیالی کا غلط استعمال

  

حوا کی بیٹی قابل عزت ہے اور عزت کروانا اس کے بس میں ہے عورت کا کردار سوچا جائے تو معاشرے کو بگاڑنے اور سنوارنے میں سو فیصد ہی سمجھا جاتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ عورت ماں ہے، بیٹی ہے، بہو ہے، بیوی ہے، اس کا ہر رول اس طرح کا ہے کہ اس نے ہر روپ میں اسلامی نُقطہ نظر کو مد نظر رکھنا ہے، اگر نہیں رکھ پاتی تو رشتے بدنام ہو جاتے ہیں، دیکھا یہ جاتا ہے کہ لڑکی کتنی قابل ہے کتنی سگھڑ ہے، اس کا کردار کیا ہے۔ اور پھر اس کو بہو کا روپ دیا جاتا ہے، ان سب باتوں کے ہونے سے بہو مکمل ہو جاتی ہے اور پھر وہ بیٹی بہو بن کر ماں باپ کا گھر چھوڑ جاتی ہے، جب وہ پیا گھر جاتی ہے تو اس نے اجنبی معاشرے میں اوپر دی ہوئی تمام خوبیوں کو اپنا فرض سمجھ کر نبھانا ہے، وہ اچھی بیوی کہلائے گی، اور جب وہ بچے کو جنم دے گی، جنم دینے کے بعد اسے پال پوس کربڑا کرے گی، اپنے کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے اچھی تربیت دے گی تو بہترین ماں کہلائے گی کیونکہ اس کے پاﺅں کے نیچے جنت ہے۔ ایک اچھی ماں جب بیٹی کو جنم دیتی ہے تو پھر اسے دینی و دنیاوی دونوںطرح کی تربیت بھی دیتی ہے۔ اس کی تعلیم مکمل ہوجاتی ہے تو پھر وہ باہر نوکری یا بزنس کے لئے نکل پڑتی ہے اور ماں کی دی ہوئی تربیت اس کا ساتھ دیتی ہے، وہ اپنے خاندان کا بھی دھیان رکھتی ہے۔ اور جس جنت نے اس کو جنم دیا ہوتا ہے اس کا بھی خیال رکھتی ہے یہ وہ لڑکی ہے جو بہترین ماں کی تربیت لے کر بڑی ہوتی ہے یہ تو صنف نازک ہے کوئی دل توڑے تو جلدی ٹوٹ جاتی ہے مگر دلیر ماں کی تربیت اس کے کام آتی ہے، یہ اپنے پاﺅں پر کھڑی رہتی ہے اور معاشرے کا مقابلہ کرتی ہے، سابقہ صدر پرویز مشرف کو یاد رکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ پاکستان میں عورت کو روشن خیال رہنے کی ابتدا مشرف صاحب نے ہی کی، انہوں نے اسمبلی میں 33 فیصد نشستیں دینے کا بل منظور کروادیا، مشرف صاحب نے تو اچھا کیا عورت کو اس کا حق دیا اور حق لینے کا راستہ بتا دیا مگر مجھے افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ صنف نازک نے اس کا مطلب غلط لیا، اس نے نمودو نمائش پر زیادہ توجہ دی، ترقی کے شارٹ راستے ڈھونڈنے میں ہمت بڑھا لی، ندامت کی جگہ بے باکی بڑھنے لگی اور غلط پروپیگنڈہ کروا کر خوش ہونے لگی، نوکری کے لئے باہر نکلی تو جس محکمے میں گئی وہاں ہلچل مچا دی بنکوں میں دیکھیں، موبائیل کمپنیوں میں دیکھیں اور پھر گورنمنٹ کے محکموں میں دیکھیں، یہ سفارشوں سے آنے والی لڑکیاں اور خواتین معاشرے کو کیا ڈلیور کریں گی، ان کو تو خود نہیں پتہ کہ ان کا انجام کیا ہے، دو ماہ سے میں مختلف کمپینوں اور بنکوں میں جا رہی تھی، میں نے جو دیکھا وہ معاشرے کی تباہی کے سوا کچھ نہیں، ایک تو انہیں کام نہیں آتا، پرانے لوگوں سے کام کرواتی ہیں، اور اگر وہ پرانے لوگ انکار کر دیں تو ان کی ٹرانسفر کروا دیتی ہیں کیونکہ ان کے رابطے اوپر تک ہوتے ہیں، کہتے ہیں جس معاشرے میں سینئر کی عزت نہ کی جائے اور کرپشن بڑھتی جائے اس معاشرے کی تباہی انہی لوگوں کے ہاتھ ہوتی ہے جو دنیا میں امیر ہونے کے مختصر راستے ڈھونڈتے ہیں، ایک تو اپنے آپ کو برباد کرتی ہیں دوسرا ان کمپنیوں، بنکوں، اداروں اور سیاست میں رہ کر اس نسل کی خواتین کئی گھر برباد کرتی ہیں، یہ روشن خیالی نہیں یہ تو تباہی کے راستے ہیں، ایک ڈاکٹر کو بجلی کے محکمے میں لگا دیا جائے تو اس کو قابل نہیں کہتے، وہ تو محکمے کو برباد کر دے گا یا پھر ایک انجینئر کو ایم ایس لگا دیا جائے تو وہ ہسپتال کیا چلائے گا وہ تو لاشوں کا ڈھیر لگائے گا، محکمے چلانے والے قابل اور اسی شعبے کے لوگوں کو لگانے سے چلتے ہیں، صنفِ نازک کو بعض جگہ سفارشوں پہ لگایا جا رہا ہے وہ تو محکمے کی تباہی کی نشانی ہے، بنکوں میں دیکھیں! بڑے بنکوں میں سفارشوں پہ آئی ہوئی عورتیں یا تو لا کر چوری کروا دیتی ہیں یا پھر جعلی سائن سے کیش غائب کروا دیتی ہیں اور پھر وہ روشن خیالی کو غلط استعمال کرتی ہیں، موبائل کمپنیوں میں دیکھیں ایک موبائل کان سے لگائے ہوئے اور دوسرے سے میسج دینے اور پڑھنے میں وقت گزار دیتی ہیں۔ ہائے اوئے کر کے ماحول خراب کرتی ہیں پھر آپ بتائیں کہ معاشرہ کہاں سے سدھر جائے گا، سیاست میں دیکھیں تو زیادہ تر گھر خراب کر لیتی ہیں اپنا ہی نہیں بلکہ دوسروں کا بھی برباد کر دیتی ہیں۔

یہ سوچنے والی بات ہے کہ حوا کی بیٹی کو کون اس طرف لا رہا ہے، کتنی ملالہ ہیں جو علاج کو ترس رہی ہیں، اور کتنی ملالہ دنیا سے ڈرون حملوں میں دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، میں پھر بھی یہی کہوں گی کہ ہم نے روشن خیالی کو غلط استعمال کیا ہے، موجودہ حکومت نے روشن خیالی کو طول تو دے دیا اور عورت کو بڑے بڑے عہدوں پر بھی لگا دیا مگریہ نہیں سوچا کہ اپنی بہو، بیٹی، بہن، بیوی کو معاشرے میں کیسے عزت کا مقام دلوانا ہے، مردوں کی سفارشیں تو ہوا کرتی تھیں مگر خواتین کی نوکریوں میں سفارش کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔  ٭

مزید : کالم