نور بی بی ....اور....ہماری قوم

نور بی بی ....اور....ہماری قوم
نور بی بی ....اور....ہماری قوم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کہاوت ہے کہ ایک گاوں میں بدشکل خاتون رہتی تھی ، اس کا نام نور بی بی تھا حالانکہ اس کے چہرے پر نور کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہ تھا ۔ اس کی زندگی کی چار دہائیاں گزر چکی تھیں ۔دو چار رشتے آئے لیکن جس نے بھی اس کا چہرہ دیکھا ، شادی سے انکار کر دیا یوں کسی شخص سے شادی اس بدشکل نور بی بی کا خواب بن کر رہ گئی۔ نور بی بی میں ایک خوبی تھی کہ وہ بلا کی ذہین تھی ۔اسے جب یقین ہو گیا کہ اس کا جسمانی حسن ایسا ہے کہ کوئی مرد اس کی طرف راغب نہیں ہو سکتا تو اس نے اپنی ذہانت سے اپنے اس خواب کو پورا کرنے کی پلاننگ کی ۔ایک صبح فجر کی نماز پڑھانے کے بعد جب مسجد کے نابینا امام مسجد کے صحن میں فارغ بیٹھے تھے تو نور بی بی ان سے باقاعدہ اجازت لے کر ان کے پاس بیٹھ گئی ۔ نور بی بی نے امام صاحب سے جن کی آنکھوں کی روشنی بہت کم رہ گئی تھی ، اپنا مدعا تفصیل سے بیان کےا اور درخواست کی اگر آپ جیسا کوئی نیک ، خوبصورت اور خوب سیرت انسان ہو ، تو میرا شرعی عقد کرادیں ۔امام صاحب بھی آخر انسان تھے اپنی تعریف سنی اور دل مچل اٹھا ....کچھ دیر اندر ہی اندر سوچتے رہے ....اور وہ ساری خوبیاں جو نور بی بی اپنے خاوند میں دیکھنا چاہتی تھی اپنے وجود میں محسوس کرنے لگے ۔ نور بی بی کی ذہانت اور گفتگو نے امام صاحب کو بہت متاثر کےا اور انہیں یقین ہو گیا کہ جس عورت کی آواز اتنی اچھی ہے اور وہ اتنی اچھی باتیں کرتی ہے ، یقینا وہ خوبصورت بھی ہوگی ۔ نور بی بی سمجھ گئی کہ اس کا تیر نشانے پر لگ گیا ہے ۔کچھ دیر وقفے کے بعد امام صاحب نے ذرا شرماتے ہوئے نور بی بی سے کہا ۔۔۔کہ اگر مجھ جیسے انسان کی تلاش میں ہے ۔۔۔ تو کیا میں آپ کی سوچ کے مطابق ہوں نور بی بی نے فوراََ حامی بھر لی ۔۔۔اور کہا کہ یہ تو میری خوش نصیبی ہے کہ آپ جیسا نیک سیرت انسان میری زندگی کا ساتھی بن جائے ۔اس طرح نور بی بی امام صاحب کے عقد میں آگئی ۔یوں نور بی بی کا گھر بس گےا ۔ امام صاحب اپنے آپ کو دنیا کا خوش نصیب شخص سمجھنے لگے اور ان کی تاریک آنکھوں میں نور بی بی کاحسن ایک خیال کی طرح ترو تازہ رہتا ۔ نور بی بی اپنی اس کامیابی پر بہت خوش تھی ۔اس کے بدشکل ہونے کے باوجود اس کا خاوند اس کے حسن کا مداح ہے ۔

وقت گزرتا گےا اور نور بی بی اور امام صاحب کا گھر خوشیوں کا گہوارہ بنا رہا۔اچانک ایک دن دوسرے گاوں سے ایک حکیم صاحب آ گئے اور انہوں نے گلی میں آواز لگانا شروع کر دی کہ ان کے پاس آنکھوں کا ایک ایسا سرمہ ہے جس کی صرف ایک سلائی لگانے سے انسان کی کھوئی ہوئی بےنائی واپس آ سکتی ہے ۔اس حکیم کے دعوے کی کئی لوگوں نے تصدےق بھی کی ، نور بی بی کو جب اس حکیم کا پتہ چلا تو اس کا وجود ہل کر رہ گیا ۔اس نے فوراََ حکیم سے رابطہ کےا اورپوچھاکہ اس سرمی کی قیمت کیا ہے ۔حکیم نے جواب دیا کہ اس سرمی کی قیمت پچاس روپے ہے لیکن یہ گارنٹی ہے کہ آنکھوں میں سرمہ ڈالنے کے فوراََ بعد کھوئی ہوئی روشنی واپس آجائے گی ۔ نور بی بی حکیم کو ایک طرف لے گئی اور کہا کہ اگر وہ یہ سرمہ اس گاوں میں نہ بیچے تو وہ سو روپے کے حساب سے سرمہ کی قیمت ادا کرے گی۔ حکیم صاحب لالچ میں آ گئے اور سو روپے لئے اور چلے گئے۔

حکیم کو جب بھی پیسوں کی ضرورت ہوتی وہ آکر گاوں میں آواز لگاتے نور بی بی فوری طور پر کچھ دے دلا کر انہیں رخصت کر دیتی ۔۔۔۔اور اپنی اس کوشش میں کامیاب رہتی کہ نہ تو اس گاوں میں سرمہ آئے اور نہ ہی اس کے خاوند کی بینائی مل سکے کےونکہ اگر اس نے دیکھنا شروع کر دیا تو سب سے پہلے اس کی نظر میرے چہرے پر پڑے گی اور اس کا نقصان مجھے ہی ہوگا۔

یہ کہانی بہت پرانی ہے لیکن ہماری قوم کے مزاج کے مطابق بالکل نئی ہے ۔آج ہماری قوم میں جس کے پاس طاقت ہے جس کے پاس سرمایہ ہے ، سیاست پر کنٹرول ہے وہ اسی نور بی بی کی طرح ہے ۔۔۔۔اور اس ملک میں جو بھی روشنی لے کر آئے گا ۔۔۔وہ اسے کچھ دی دلا کر ےا ڈرا دھمکا کر رخصت کر دے گالےکن قوم کی آنکھےں روشن نہیں ہونے دے گا کےونکہ اگر قوم کی آنکھوں میں روشنی آ گئی اور با اختےار لوگوں کے چہرے کی حقےقت کھل گئی تو پھر ان کا ٹھکانا کہےں نہےں رہے گا۔

محوری نظام بھی قوموں کے لئے روشنی کی طرح ہے۔ اس سسٹم مےں سب کچھ نظر آتا ہے ۔ اقتدار سے رعاےا تک تمام اعمال چھپائے نہےں جا سکتے ۔ مےڈےا آزاد ہوتا ہے ، حق کی بات وزن رکھتی ہے ۔ عدلےہ کی بالادستی ہوتی ہے اور عدل ہو رہا ہو ۔۔۔ تو کسی کو دےکھنے کے حق سے محروم نہےں رکھا جاسکتا ۔کسی سرمے کو نابےناکی آنکھوں سے دور نہےں کےا جاسکتا ۔سب سے بڑھ کر پارلےمنٹ ، جو جمہوری نظام اور جمہوری رواےات کی امےن ہوتی ہے مضبوط اور مستحکم ہو تو عوام کے مسائل کو ان کی دہلےز پر جا کر حل کےا سکتا ہے ۔

دیکھنا یہ ہے کہ کس ادارے میں ، اور کہاں کہاں نور بی بی بےٹھی ہے جس کا مفاد صرف اس کی ذات تک محدود ہے اور وہ کبھی بھی نہیں چاہتی کہ کوئی اس کے بدنما چہرے کو دیکھ لے ۔روشنی پھےلانے والے جب بھی اس کے علم میں آئیں گے ، تو وہ انہیں کسی بھی طریقے سے بھگا دے گی۔ قوم کو مل کر اس طاقت کا مقابلہ کرنا ہے کہ جس کا نام نور بی بی ہے لیکن کام جہالت کے اندھیروں کو فروع دےنا ہے ۔    ٭

مزید : کالم