شادی خانہ آبادی:معاشرے کا ایک گھمبیر مسئلہ

شادی خانہ آبادی:معاشرے کا ایک گھمبیر مسئلہ
شادی خانہ آبادی:معاشرے کا ایک گھمبیر مسئلہ

  

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے سورئہ نور نمبر24آیات نمبر32اور 33میں فرمایا ہے....آیت نمبر 32ترجمہ: ”اور نکاح کردیا کرو،جو بے نکاح ہیں ۔ تم میں سے اور جو نیک ہیںتمہارے غلاموں اور کنیزوں میں سے۔اگر وہ تنگ دست ہیں تو فکر نہ کرو ،غنی کردے گا انہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا ہمہ دان ہے“۔ آیت نمبر33ترجمہ:”اور چاہیے کہ پاک دامن بنے رہیں، وہ لوگ جو نہیں پاتے شادی کرنے کی قدرت۔ یہاں تک کہ غنی کردے انہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے....یعنی اسلام دین فطرت ہے، وہ معاشرے کو پاکیزہ رکھنے اور بے حیائی سے بچانے کے متعلق عملی تجاویز اور مشکلات کا صحیح حل بتاتا ہے۔مقام غور ہے، جس معاشرے میں بن بیاہی عورتیں بکثرت ہوں گی۔شدت جنسی جذبات سے مجبور ہوکرشیطانی مکرو فریب میں مبتلا ہو سکتی ہیں۔اسلام نے اس طرح کی صورت حال کے نتائج و عواقب سے ہرگز اغماض نہیں برتا،بلکہ نکاح پر سخت تاکید فرمائی ،تاکہ معاشرہ جنسی بے راہ روی سے بچ سکے۔اس حقیقت کی رسول اکرم نے اس طرح وضاحت فرمائی ہے:”اے جوانو! جو تم میں سے طاقت رکھتا ہو، وہ ضرور شادی کرے،کیونکہ شادی کرنا اس کی نظر کو پاک کردے گا اور جو شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اسے چاہیے کہ وہ روزے رکھے، تاکہ شہوت غلبہ نہ پا سکے اور اخلاقی برائیوں سے بچ سکے۔ شادی خانہ آبادی :معاشرے کا ایک گھمبیر مسئلہ

اکثر لوگ افلاس اور غربت کو شادی نہ کرنے کی وجہ بنائے رکھتے ہیں۔لڑکے والے چاہتے ہیں کہ لڑکی کے والدین بڑے امیر ہوں، تاکہ خوب جہیز ملے اور برادری میں فخرسے سراونچا ہو۔اسی طرح لڑکی والے چاہتے ہیں کہ لڑکے کے والدین کا معاشرے میں ایک نام ہو اور لڑکا اعلیٰ عہدے پر فائز ہو یا اعلیٰ بزنس مین ہو۔ذاتی گھر اور کار وغیرہ بھی ہو۔گویا ہر دو طرف مال و زر اور عہدوں کی ہوس ہے۔ ایک بات اور مشاہدے میں آئی ہے کہ لڑکے کے والدین لڑکی کے حسن و جمال کے شیدائی ہوتے ہیں۔ یوں پسند اور ناپسند کا سلسلہ دراز ہونے کی وجہ سے شادی والی عمریں بیت جاتی ہیں،حالانکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیںکہ غریبی اور امیری آنی جانی چیزیں ہیں۔اگر شریف اور نیک رشتہ مل رہا ہو تو قبول کرلو، ورنہ چل کر آئے ہوئے رشتے کو محض ذاتی وجوہات کی بناءپر رد کر دینے سے اللہ تعالیٰ اپنی مدد سے محروم کردیتے ہیں۔باقی رہی بات غربت و تنگ دستی کی تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور توکل کرو، وہ بیوی اور اس کی ہونے والی اولاد کے رزق کی خاطر غربت اور افلاس کو آنِ واحد میں دور کر دے گا۔حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نکاح کرانے کا جو حکم دیا ہے ، تم اس کی اطاعت کرو۔اس نے تمہیں جو غنی کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، وہ پردئہ غیب سے اسے ضرور پورا کرے گا۔دیکھنے میں اکثر آتا ہے کہ شادی کے وقت مالی حالت کچھ ہوتی ہے اورجب ایک دو بچے ہوجاتے ہیں تو آمدن میں اضافہ ہو جاتا ہے۔یاد رہے غنی اور اغنا کے معنی ہیں تونگری، دولت مندی، بے نیازی، آسودگی اور بے فکری وغیرہ۔

دنیا میں جب سے ازدواجی رشتوں کا سلسلہ شروع ہواہے،والدین اپنے بچوں کے رشتے ناتے اپنے رشتہ داروں اور عزیز و اقارب میں ہی کرتے آئے ہیں۔ایک زمانہ تھاجب گھر کے بزرگ رشتے طے کردیا کرتے اور انہیں رد کرنے کی کسی کو مجال نہیں ہوتی تھی۔ایسے رشتے ہمیشہ زندگی بھر کامیاب رہتے۔یوں جائیداد وغیرہ بھی وجہ تنازع نہ بنتی۔امتدادِ زمانہ کے ساتھ ساتھ اور دنیاوی تعلیم عام ہونے کی وجہ سے بزرگوں کا احترام اُٹھ گیا۔خاندانی نظام میں کئی طرح کے رخنے پیدا ہوگئے۔بالخصوص برصغیر کی تقسیم کی وجہ سے عزیز واقارب اور برادریاں بکھر گئیں۔ امیر غریب اور غریب امیر ہوگئے۔ذات برادریوں میں بھی تبدیلیاں پیدا ہوگئیں۔یوں پہلے سی وہ محبت رہی نہ مروت اور خلوص رہا۔تب والدین اِدھر اُدھر بچوں کی شادیاں کرنے پر مجبور ہوگئے،جس کا نقصان یہ ہوا کہ مزاج اور طبائع میں ہم آہنگی رہی اور نہ قوتِ برداشت ہی رہی،جس کے نتیجے میں طلاقوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔اس طرح سے ایک طرف والدین سخت پریشان ہیں اور دوسری طرف مطلقین کا مستقبل تباہ ہورہا ہے۔چونکہ راقم کا اس شعبے سے دیرینہ تعلق ہے، اس لئے خوب جانتا ہے کہ ایسے والدین بے حد دکھی اور پریشان ہوتے ہیں۔اس پر طرفہ تماشا یہ کہ ایسے مرد اور خواتین کی دوسری شادی بھی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے، اس لئے کہ دوسری شادی والے مرد اور خواتین کنوارے رشتوں کی تلاش میں عمریں ضائع کردیتے ہیں۔اس صورت حال میں بظاہر کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ سے زائد لڑکیاں شادی کے خواب دیکھ رہی ہیں اور چالیس لاکھ سے زائد لڑکیوں کی شادی والی عمریں گزر گئی ہیں۔پاکستان کے ہر چوتھے گھر میں دو سے زائد لڑکیاں شادی کے قابل ہیں،جبکہ ہر دسویں گھر میں پانچ سے زائد لڑکیاں شادی کی منتظر ہیں۔والدین ان کے ہاتھ پیلے کرنے کی آس میں پریشان ہیں۔پہلے خوب سے خوب تر کی تلاش ہوتی ہے،جیسا کہ مولانا حالیؒ نے کہا ہے کہ :ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں....اب دیکھئے ٹھہرتی ہے جا کر نظر کہاں؟....اگر کسی حسینہ پر نظر ٹھہر جاتی ہے تو وہ ترت جواب دیتی ہے۔بقول غالب:

چاہتے ہیں خوب رویوں کواسد

آپ کی صورت تو دیکھنا چاہیے

اسی جستجو اور تلاش میں بالآخر ہار تھک کر خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے۔معاشرے کے اس سلگتے ہوئے مسئلے کی طرف حکومت نے کبھی توجہ نہیں دی، البتہ بعض این جی اوز، سیاسی ، سماجی اورفلاحی ادارے غریب لڑکے اور لڑکیوں کی اجتماعی شادیاں بھی کراتے ہیں۔ آئے روز ایسی تقریبات کی منظرکشی اخبارات میں کی جاتی ہے اور ٹیلی ویژن میں دولہا اور دلہن کی رونمائی بھی کی جاتی ہے۔ایسی تقریبات کارِ ثواب سمجھ کر یا کسی اور مقصد کے لئے منعقد کی جاتی ہیں، اس کا حال اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں،تاہم قارئین کرام کی توجہ روزنامہ ”دنیا“ مورخہ 14نومبر2012ءمیں شائع ہونے والی اسی طرح کی ایک تقریب کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے،جس کی سرخیاں اس طرح سے ہیں....گورنر ہاﺅس میں اجتماعی شادیوںکے تقریباً90فیصد دولہے بے روزگار ہیں۔گھر والوں نے زبردستی شادی کرا دی۔اب خرچہ بھی وہی اٹھائیں گے۔تقریباً ہر دولہا نے یہی رونا رویا ہے۔بدیں وجہ ایسی شادیوں کا انجام کیا ہوگا؟ظاہر ہے معاشرے میں ایک اور خرابی کا اضافہ ہوگا۔

بعض ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے برادر مسلم ملک ترکی میں بچوں کی شادیوں کے معاملات وہاں کے سوشل ویلفیئرڈیپارٹمنٹ کے سپرد ہیں۔جب بچے شادی والی عمر کو پہنچتے ہیں تو والدین انہیں لے کر دفتر چلے جاتے ہیں۔وہاں برائے نام فیس کے عوض ہر بچے کی ایک علیحدہ فائل تیار کی جاتی ہے،جس میں تمام ضروری کوائف کے علاوہ میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹ بھی شامل ہوتی ہے۔ اس کے بعد مناسب وقت پر محکمے کا بورڈ میچ فکسنگ کرتا ہے۔پھر لڑکی اور لڑکے کے والدین کو دعوت دی جاتی ہے۔دونوں پارٹیاںآپس میں ملتی ہیں۔لڑکا اور لڑکی بھی آپس میں ملتے ہیں۔تب دونوںپارٹیوں کی رضامندی سے وہیں نکاح ہوجاتا ہے۔مختصر سی تقریب کے بعد دلہن کی رخصتی ہوجاتی ہے، لہٰذا معاشرے کی یہ ایک اہم ضرورت اس طرح نہایت خوش اسلوبی سے پوری ہوجاتی ہے۔اس کے برعکس ہمارے ہاں ازدواجی رشے زیادہ تر شادی دفاتر یا خواتین کے ذریعے ہوتے ہیں۔اس مسئلے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ایسے ادارے نہایت دیانت، امانت اور پوری محنت سے والدین کی مدد کررہے ہیں۔ان کی وساطت سے طے کردہ رشتے اکثر کامیاب رہتے ہیں، اس لئے کہ آخری فیصلہ دونوں پارٹیوں کی رضامندی سے ہوتا ہے۔ راقم محکمہ تعلیم پنجاب کا ایک سابق آفیسر ہے۔کئی کتابوں کا مولف و مصنف ہے۔ایک ادنی ٰ مضمون اور کالم نگار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عرصہ 25سال سے جذبہ ءخدمت خلق کے تحت بچوں کے رشتوں کے معاملات میں مدد اور رہنمائی کررہا ہے۔اس موضوع پر ایک کتاب ”رشتہ ءازدواج کا پہلا زینہ۔نیک خاوند اور نیک بیوی کا انتخاب قرآن و سنت کی روشنی میں “تصنیف کی ہے،جس کے مطالعہ سے والدین مستفید ہوسکتے ہیں۔یہ کتاب اکادمی ادبیات اسلام آباد سے انعام یافتہ ہے۔میری عمر اس وقت 85سال ہے۔بقول اقبالؒ:

کوئی دم کا مہمان ہوں اے اہلِ محفل!

چراغِ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں

مگر جی چاہتا ہے کہ خدمتِ والدین کا یہ سلسلہ رہتی زندگی تک فی سبیل اللہ قائم رہے۔   ٭

مزید : کالم