بلوچستان حکومت آئینی بحران کی زد میں!

بلوچستان حکومت آئینی بحران کی زد میں!
بلوچستان حکومت آئینی بحران کی زد میں!

  

بلوچستان میں نواب محمد اسلم رئیسانی کی حکومت آئینی گرداب میں پھنس گئی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے 12 اکتوبر کو اپنا عبوری حکم نامہ جاری کیا، اس کے بعد صورت حال مختلف ہو گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد جمعیت العلمائے اسلام نے وا ویلا شروع کر دیا کہ نواب اسلم رئیسانی ہمیشہ ہمارے مشوروں کو نظرانداز کرتے رہے، اس لئے آج یہ دن دیکھنا پڑا۔ اے این پی کے صوبائی صدر نے بھی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر سردار ثناءاللہ زہری بھی مسلسل حکومت کے خلاف بول رہے تھے۔ عبوری حکم کے بعد پشتون خوا ملی عوامی پارٹی نے بھی مطالبہ کیا کہ اب نواب اسلم رئیسانی کی حکومت غیر آئینی ہے، اس کو ختم کیا جائے اور نئے انتخابات کرائے جائیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان حکومت ناکام ہو گئی ہے، وفاق اقدامات کرے۔ موجودہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے، اپنی اہلیت کھو چکی ہے، وفاقی حکومت آرٹیکل 148 کے تحت کارروائی کرے ۔ بلوچستان میں عام شہریوں کے ساتھ پولیس، ایف سی بلوچستان ، کانسٹیبلری اور کوسٹ گارڈ بھی مارے جا رہے ہیں۔ لسانیت اور فرقہ واریت کی بناءپر لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت کو خاموش تماشائی نہیں بننے دیں گے۔ بیڈ گورننس بلوچستان کا اصل مسئلہ ہے۔

اس عبوری حکم پر عمل درآمد تو وفاق کی ذمہ داری تھی اور حکومت آصف علی زرداری کے ہاتھ میں ہے، اس پر عمل درآمد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 31 اکتوبر تک ایسا لگ رہا تھا کہ بلوچستان حکومت کسی وقت بھی ختم ہو سکتی ہے، اس لئے نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کے وزراءاضطراب میں تھے۔ نواب اسلم رئیسانی بھی خاموش ہو گئے تھے۔ 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے وزارت داخلہ کی رپورٹ نہ آنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور 2 نومبر کو وفاق اور بلوچستان سے جواب طلب کر لیا۔ ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے جواب نہ دینے پر چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ سب آئین کی خلاف ورزی میں لگے ہوئے ہیں، صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں ہے، کسی نے نوٹس نہیں لیا، بلوچستان حکومت کس قانون اور اختیارات کے تحت کام کر رہی ہے؟ عبوری حکم کے بعد بلوچستان حکومت کے پاس اخلاقی جواز نہیں رہا، صوبائی حکومت کے فنڈ روک لئے جائیں ، مگر وفاقی حکومت بھی کوئی نوٹس نہیںلے رہی ہے۔

 اس دوران وزیر اعلیٰ نے اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے سمری بھیج دی اور گوادر اجلاس میں طلب کیا، اس کے بعد سپیکر بلوچستان اسمبلی نے گورنر کو خط لکھا کہ اس مسئلے میں آئینی پوزیشن واضح کریں کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد اسمبلی کا اجلاس بلایا جا سکتا ہے یا نہیں؟.... چند روز کے بعد گورنر بیرون ملک چلے گئے اور اسمبلی کا اجلاس بلا لیا، ان کے جانے کے بعد قائم مقام گورنر جناب محمد اسلم بھوتانی بن گئے، انہوں نے بحیثیت گورنر 12 نومبر کو آرڈر جاری کیا اور اجلاس منسوخ کردیا اور حکم نامہ واپس لیتے ہوئے محکہ قانون کو ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے آئینی نکتے کی وضاحت لی جائے، جس کے بعد اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔محمد اسلم بھوتانی نے اجلاس نہ بلانے کا مو¿قف یہ اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد اجلاس بلایا تو یہ توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے، اس لئے مَیں سپریم کورٹ کے عبوری حکم کی خلاف ورزی کروں گا تو اس کی زد میں آ جاو¿ں گا، اس لئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے رائے طلب کی ۔

قارئین محترم! پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر صادق عمرانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد بلوچستان حکومت کی آئینی و قانونی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ گونر راج کا مطالبہ بھی کیا۔ حکومت بلوچستان نے 2 نومبر کو سپریم کورٹ میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا، نظرثانی کی درخواست 2 نومبر کو پیش کر دی گئی۔ نواب اسلم رئیسانی نے سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے ایک روز قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میری حکومت ناکام نہیں ہوئی، الزامات غلط ہیں، الزامات کا سپریم کورٹ میں دفاع کریں گے۔ میری حکومت میں اتحادی میرے ساتھ ہیں اور مجھے 62 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ اس دوران پیپلز پارٹی بھی تقسیم ہو گئی ہے، وزراءحکومت کے ساتھ رہے اور 3 نے بغاوت کی ۔ غزالہ گولہ، صادق عمرانی اور دوسرے جان علی چنگیزی، ان سے حکومت نے وزارت واپس لے لی، انہوں نے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی پر عدم اعتماد کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے اجلاس بلایا اور وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی پر عدم اعتماد کرایا اور وفاق سے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت نواب اسلم رئیسانی اور صوبائی کابینہ کو برطرف کر دے۔ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد ان کی آئینی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔

قارئین محترم! محمد اسلم بھوتانی جب قائم مقام گورنر بنے تو دلچسپ صورت حال بن گئی۔ سپیکر قائم مقام گورنر بنے تو جمعیت العلمائے اسلام کے ڈپٹی سپیکر مطیع آغا قائم مقام سپیکر بن گئے اور حکومتی ارکان نے، جن کی تعداد 13 تھی، اسمبلی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا اور انہوں نے اجلاس بلا لیا۔ ایوان میں کھڑے ہو کر محمد اسلم رئیسانی پر اعتماد کا اظہار کیا، ان کو 42 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی، جبکہ انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی تو کہا تھا کہ انہیں 62 ارکان کی حمایت حاصل ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا، اجلاس میں اعتماد کی تحریک اے این پی کے زمرد خان، جمعیت العلمائے اسلام کے مولانا عبدالواسع اور سید احسان شاہ کی این پی عوامی نے پیش کی ۔ ایوان میں موجود 44 ارکان نے اعتماد کا اظہار کیا، اس حمایت میں بیگم گورنر پروین مگسی بھی شامل تھی، اس کے علاوہ اس حمایت میں مسلم لیگ (ن) کے کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی شامل تھے، نہ سردار ثناءاللہ زہری شامل تھے اور نواب ذوالفقار علی مگسی کے صاحبزادے طارق مگسی نے حکومتی بنچ کو الوداع کہہ دیا۔ انہوں نے سپیکر سے درخواست کی کہ انہیں اپوزیشن کی سیٹ الاٹ کی جائے، انہیں سیٹ نمبر 69 الاٹ کر دی گئی۔ پیپلز پارٹی نے اپنے صوبائی اجلاس میں ، جس کی صدارت صادق عمرانی کر رہے تھے، نواب محمد اسلم رئیسانی کی رکنیت کی معطلی کی توثیق کر دی، اب وہ پیپلز پارٹی کے ممبرنہیں رہے اور اجلاس میں مطالبہ کیا کہ گورنر اجلاس بلا کر نئے قائد ایوان کا انتخاب کریں۔ صادق عمرانی نے کہا کہ قائم مقام سپیکر کا اجلاس بلانا اور وزیر اعلیٰ کا اس میں شریک ہونا یہ سب غیر آئینی ہے اور وزیر اعلیٰ کا کابینہ کا اجلاس بلانا بھی غیر قانونی ہے۔

قارئین محترم! اب یہ سیاسی اور آئینی نقشہ بلوچستان کا نظر آرہا ہے۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب گورنر نے اجلاس ملتوی کر دیا تو قائم مقام سپیکر کس قانون کے تحت اجلاس طلب کر سکتا ہے؟ جبکہ گورنر کی کوئی ایڈوائس موجود نہیں ہے اور کیا حکومتی ارکان ریکوزیشن کا قانونی حق رکھتے ہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ موجود ہے اور گورنر موجود ہے تو پھر یہ اجلاس کس قانون کے تحت آئینی ہو سکتا ہے۔ گورنر کو نظر انداز کرکے اجلاس کس طرح بلایا جا سکتا ہے ۔ سب سے اہم قانونی نکتہ تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کے بعد حکومت بلوچستان کی آئینی حیثیت تو ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ 31 اکتوبر کے بعد سپریم کورٹ کو یہ رائے دینی پڑی کہ عبوری حکم کے بعد حکومت بلوچستان کس اختیار اور قانون کے تحت کام کررہی ہے اور کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس حکمرانی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ان پہلوو¿ں کو پیش نظر رکھ کر دیکھا جائے تو بلوچستان کا اجلاس دستور، قانون اور آئین کی خلاف ورزی کے ذیل میںآتا ہے، اس لئے اعتماد کی قرارداد غیر آئینی ہے اور موجودہ حکومت حق حکمرانی کھو چکی ہے، لیکن پیپلز پارٹی اور پاکستان کا صدر اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو کیا آصف علی زرداری سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف توہین عدالت کے مرتکب نہیں ٹھہرے؟    ٭

مزید : کالم