جیو ملک صاحب

جیو ملک صاحب
جیو ملک صاحب

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

گزشتہ دنوں جب آئی جی سندھ پولیس نے کہا تھا کہ ڈبل سواری پر پابندی کو سخت کیا جائے گا تو ہم اسی وقت کھٹک گئے تھے کہ اب شاید سنگل سواری پر بھی پابندی لگ جائے اور پھر وہی ہوا۔ وفاقی وزیر داخلہ جناب رحمن ملک نے حکم جاری کر دیا کہ اب موٹر سائیکل سڑک پر چلے گی ہی نہیں۔ رات کو ایک صحافی بھائی نصر اللہ چودہری کا ایس ایم ایس آیا جس میں سندھ کے بڑے قاضی جناب مشیر عالم کو سلام پیش کیا گیا تھا اور عبدالرحمن ملک کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا تھا وہ اسمبلیوں میں تو معمول ہے لیکن ہم نے لکھ دیا تو قارئین کی طبع نازک پر گراں گزرے گا حالانکہ دیگر حضرات نے بھی ان کے بارے میں جو کچھ کہا‘ ہمارے خیال میں وہ بھی کم ہے۔ لیکن اسی دن سندھ اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ نئی نسل کی سیاسی تربیت کے لیے شاید بہت ضروری تھا۔

جمعرات کو جب اسلام آباد سے وفاقی وزیر داخلہ کا حکم آیا کہ کراچی اور کوئٹہ میں موبائیل ٹیلی فون اور کاروبار کچھ عرصہ کے لیے بند رہے گا اور خبردار‘ کوئی موٹر سائیکل سڑک پر نظر نہ آئے تو ہر طرف پنجابی والی ”تھرتھلی“ مچ گئی۔ بیشترصحافی موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں۔ ان کوفکر ہوگئی کہ اگلے دن کام پر کیسے جائیں گے۔ ان کے علاوہ بھی لوگ کام پر جانے کے لیے موٹر سائیکل استعمال کرتے ہیں۔ کراچی میں 14 لاکھ موٹر سائیکلیں استعمال ہوتی ہیں۔ پہلے ان سے 28 لاکھ افراد استفادہ کرتے تھے‘ دوستوں‘ ساتھیوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے نکل لیتے تھے۔ ڈبل سواری پر پابندی لگا دی گئی۔ اس پابندی کے بعد موٹر سائیکل سواروں نے کئی وارداتیں کر ڈالیں تو طے ہوا کہ موٹر سائیکل ہی بند کردو۔ کوئی دن جاتا ہے کہ موبائیل فون پر مکمل پابندی لگ جائے گی۔ نہ ہوگا یہ بانس کا ٹکڑا اور نہ بجے گی ”سب کہہ دو“ کی بانسری۔ موبائیل کمپنیوں نے کچھ مک مکا کر لیا تو اور بات ہے کیونکہ زمانہ اسی کا ہے ۔ سی این جی کی قیمت جب سے عدالت عظمیٰ نے کم کروائی ہے عوام کو رلا رلا دیا گیا۔ ناکوں چنے چبانا شاید اسی کو کہتے ہیں گو کہ ہم نے کسی کو ایسا کرتے دیکھا نہیں‘ بچوں کی تاک میں چنا پھنس جائے تو ڈاکٹر تک دوڑ لگ جاتی ہے۔

عبدالرحمن ملک نام کے ملک ہیں۔ عربی محاورے کے مطابق ”کلام الملک“ ملوک الکلام۔ ان کو ایس ایم ایس کے ذریعہ عوام نے خوب خوب ملاحیاں سنائیں۔ ہمیں نہیں معلوم کو یہ کیا ہوتی ہیں‘ کہیں پڑھ لیا تھا ‘ غالباً سننے سنانے کی کوئی چیز ہوتی ہے۔ اگلے ہی دن وہ بیان صفائی دینے کھڑے ہوگئے اور یہ اعداد و شمار پیش کرتے رہے کہ موٹر سائیکلوں کے ذریعہ کتنی وارداتیں ہوئی ہیں۔ موصوف کو شاید علم نہیں کہ سائیکلوں کے ذریعہ بھی بم دھماکے کیے گئے ہیں اور یوں بھی ہوا کہ سبزی کے کسی ٹھیلے میں بم رکھ کر اس کو ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا۔ اب غالباً عبدالرحمن ملک صاحب سائیکلوں اور ٹھیلوں پر بھی پابندی لگوائیں گے۔ لیکن خود کش حملے تو زیادہ تر بڑی گاڑیوں اور ٹرکوں کے ذریعہ ہوتے ہیں۔ ابھی چند دن پہلے ہی تو کراچی میں سچل رینجرز کے دفتر پر شہزور ٹرک کے ذریعہ خود کش حملہ ہوا۔ کاروں سے فائرنگ کرکے لوگوں کو ہلاک کیا گیا۔ ٹرکوں‘ کاروں پر کب پابندی لگ رہی ہے؟ ہم تو کہیں کہ کم از کم کاروں میں ڈبل سواری پر پابندی تو لگوا ہی دیں۔ مگر شاید یہ ممکن نہ ہو کہ حکمراں طبقہ اور اشرافیہ کاروں ہی میں گھومتی ہے اور اہل خانہ ساتھ نہ بھی ہوں تو ڈرائیور ضرور ہوتا ہے۔ جب نہیں ہوتا تو خبر بن جاتی ہے کہ وزیراعظم خود گاڑی چلا کر فلاں جگہ گئے۔ حکومت کی گاڑی چلے نہ چلے اپنی گاڑی تو خود چلا ہی لیتے ہیں۔ویسے تو وزیراعلیٰ بلوچستان بھی لاہور میں گاڑی چلا رہے تھے اور کسی اور گاڑی کو ٹھوک دیا۔ ممکن ہے کہ اس میں ن لیگ کی شرارت ہو۔ اسلم رئیسانی صاحب تو یہ سمجھے ہوں گے کہ سڑک سڑک ہے‘ کوئٹہ کی ہو یا لاہور کی۔ لیکن لاہور کی سڑکوں پر گاڑی چلانا تو کیا پیدل چلنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔

رحمن ملک صاحب نے انکشاف کیا کہ ان کو اطلاعات ملی تھیں کہ موٹرسائیکل کے ذریعہ واردات کا منصوبہ بنالیا گیا ہے اسی لیے انہوں نے پابندی لگوائی ان کو منصوبے معلوم ہو جاتے ہیں‘ سازش کی خبر ہوجاتی ہے۔ اس سے آگے کچھ نہیں ہوتا۔ ان کا کام اتنا ہی ہے۔ عدالت عالیہ سندھ کے چیف جسٹس نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے اہل کراچی کو نئی مصیبت سے بچالیا۔ وفاقی وزیر داخلہ صاحب میں تھوڑا سا پاس لحاظ ہوتا تو عدالت کے ذریعہ اپنا حکم معطل کیے جانے پر کم از کم استعفیٰ ہی دے دیتے۔ عدالت کے حکم کے مطابق انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے اور ایک غلط کام کیا ہے۔ مگر ایسی کوئی روایت ہی نہیں ہے۔ عدالتوں کے احکامات تڑپتے‘ ہلکتے رہ جاتے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے غیر قانونی بھرتیاں کیں‘ نا اہل افراد کو نوازا۔ انہیں طلب کیا گیا تو ہر طرف ایک شور مچ گیا۔ یہ جرا¿ت کہ غلط کاری کا حساب لیا جائے اور وہ بھی حکمران جماعت کے کسی فرد سے۔ جس نے یہ حرکت کی اسے ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا جائے کہ یہی فرمان امروز ہے۔ تین سال تک عدالت سے محاذ آرائی کے بعد سوئس حکام کو خط لکھا گیا۔ پہلے ہی یہ کام کرلیا ہوتا تو مانتے کہ ہاں ‘ عدالتوں کا حکم تسلیم ہے۔

ڈبل سواری پر پابندی لگنے سے پولیس والوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔ سٹی کورٹ میں دو ‘ ڈھائی سو نوعمر اور نوجوان خطرناک مجرموں کا اژدہام تھا۔ جرم ڈبل سواری تھا۔ پاکستان کیا کسی بھی ملک کے قانون میں یہ جرم نہیں ہے مگر یہاں ہے۔ جن مجرموں کو بسوں میں بھر بھر کر کچہری لایا گیا ان سے نہ صرف آمد ورفت کے خرچ کی رقم وصول کی گئی بلکہ کھانا پینا بھی ان کے ذمہ۔ پھر مچلکے جمع کرانے کے لیے والدین کی دوڑ لگ گئی ایک جج صاحب نے برہم ہو کر کہہ بھی دیا کہ زیادہ سے زیادہ موٹر سائیکل کے پہیوں کی ہوا نکال دی ہوتی۔ لیکن پھر مک مکا کیسے ہوتا۔ عدالت میں پیش کرنے سے پہلے تھانوں سے بھی تو چھوڑا گیا۔ یہ کام یونہی تو نہیں ہوا ہوگا۔ عبدالرحمن ملک صاحب سلامت رہیں‘ ابھی بہت تماشے دیکھنے کو ملیں گے۔ ہمیں پنجابی نہیں آتی۔ کسی صاحب نے ایس ایم ایس کے ذریعہ ”لخ لعنت“ لکھ کر بھیجا ہے۔ جانے اس کا مطلب کیا ہے اور یہ کس کے لیے ہے؟

کالم نگار و روزنامہ ”جسارت“ کراچی کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ ٭

مزید : کالم