مشرق وسطی میں سامراجی اور صہیونی عزائم کیلئے نئی بساط

مشرق وسطی میں سامراجی اور صہیونی عزائم کیلئے نئی بساط
مشرق وسطی میں سامراجی اور صہیونی عزائم کیلئے نئی بساط

  

امریکہ کے صدارتی انتخابات کا غبار ابھی عالمی سیاست کے افق سے چھٹ بھی نہیں پایا تھا کہ مغربی سامراجیوں کے پٹھو اسرائیل کے بدمست صہیونیوں نے غزہ کی پٹی میں محصور اور مظلوم فلسطینیوں پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔ ابھی تک تو یہودی فضائیہ نے نہتے فلسطینیوں پر بمباری کر کے سینکڑوں کو زخمی کر دیا ہے اور چھ سات درجن کے قریب پُر امن شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا ہے، جن میں بچے، بوڑھے اور عورتیں بھی شامل ہیں، جبکہ ساٹھ میل لمبی اور بارہ میل چوڑی ساحلی پٹی پر زمینی حملے کا بھی اعلان ہو چکا ہے ۔چند میل لمبی چوڑی اس ساحلی پٹی پر آباد بیس لاکھ کے قریب فلسطینی مسلمان یہودیوں کے سنگدلانہ حصار میں ہیں اور غربت و افلاس کے باعث بھوک، ننگ اور امراض کا شکار ہیں۔

اس وحشیانہ اور بزدلانہ بدمستی کے مظاہرے کا بہانہ یہ بنایا گیا ہے کہ یہ فلسطینی یہودیوں پر راکٹ پھینکتے رہتے ہیں۔ بالکل وہی بہانہ جو ایک کہاوتی بھیڑیئے نے بیچارے مینڈھے پر جھپٹنے سے پہلے بنایا تھا، حالانکہ بد مست غاصبوں کے خلاف مظلوم نہتے فلسطینیوں کی یہ مزاحمت تو نصف صدی سے مسلسل جاری ہے اور یہودیوں نے ان بے چاروں کی جائیدادیں ہتھیانے کا چکر بھی چلا رکھا ہے جو 1948ءسے آج تک بلا توقف جاری ہے، مگر ان مظلوموں کی نہ اپنے سنتے ہیں، نہ غیر کوئی اہمیت دے رہے ہیں، لیکن اس یہودی حملے کے اصل اور اہم اسباب چار ہیں پہلا دوبارہ صدر منتخب ہونے والے صدر باراک اوباما کے لئے یہ وارننگ ہے کہ یہودی اسے آرام سے حکومت نہیں کرنے دیں گے۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ سنگدل سوشلسٹ درندے بشار کی خاندانی آمریت کا جنازہ نکل چکا ہے اور اس پر پریشان ہونے والوں میں یہودی سر فہرست ہیں۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ شامی مزاحمتی اتحادی کونسل کے سربراہ جناب مِعز الخطیب کی قیادت میں عارضی حکومت بننے والی ہے، جسے فوری طور پر تسلیم کرنے کے عرب اشاروں کے علاوہ جناب رجب طیب اردگان اور فرانس کے صدر ہولاندی نے بھی تعاون اور سر پرستی کا یقین دلا دیا ہے۔ چوتھا اور شاید سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ دو ماہ بعد اسرائیل میں نئے الیکشن ہو رہے ہیں جو حسب معمول بنیامین، نتن یاہو فلسطینیوں کے خون میں ہاتھ رنگ کر جیتنا چاہتا ہے!!

لیکن اس بار خلاف معمول، صہیونی بدمستوں کو شدید رد عمل کا سامنا ہے۔ ابھی اوباما صاحب بھی کوئی فوری قدم اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، موجودہ ترکی حکومت تو غزہ کے مظلوم اور نہتے مسلمانوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، بعض عرب حکمران بھی ان کی مدد کے لئے پُر عزم ہیں۔ سب سے بڑی اور اہم، بلکہ فوری مدد تو مصری صدر محمد مرسی سے مل رہی ہے جنہوں نے اپنے وزیر اعظم ہاشم قندیل کو غزہ بھیج دیا ہے اور اعلان کر دیا ہے کہ اب مصر پر حسنی مبارک جیسے یہود نواز سامراجی پٹھو کی حکومت نہیں ہے، اب مصری مسلمان اپنے فلسطینی بھائیوں کو تنہا اور بے سہارا نہیں چھوڑیں گے۔ صدر مرسی نے تو واحد مسلم ایٹمی طاقت پاکستان سے بھی حمایت اور تعاون کی اپیل کر دی ہے اور پاکستانی وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے صہیونی بدمستوں کی شدید ترین مذمت کرتے ہوئے حمایت اور تعاون کا وعدہ کیا ہے جو بلا شبہ پاکستانی قوم کے دلوں کی ترجمانی ہے۔ فرانس کے بعد یورپی یونین کی طرف سے بھی اچھے رد عمل کی توقع ہے، سوائے بھارت کے لبھو رام کے، جو کسی زمانے میں یاسر عرفات کا دم بھرتا تھا، مگر درپردہ یہودیوں کی سرپرستی کرتا تھا۔

یہ ایک عجب اور المناک حقیقت ہے کہ عالمی صہیونیت نے جن مغربی سامراجیوں کو مسلم دشمنی اور عالم اسلام کی دولت لوٹنے کی پٹی پڑھا رکھی ہے، ان کا ہر نام نہاد سیکولر اور جمہوریت نواز لیڈر الیکشن کے موقع پر مسلم خون میں ہاتھ رنگ کر یا مسلمانوں کا ناطقہ بند کرنے کا وعدہ کر کے الیکشن جیتتا رہتا ہے! بل کلنٹن اور ٹونی بلیئر نے مسلم عراق کو بارود اور راکھ کے ڈھیر میں بدل کر اور مسلمانوں کا مزید ناطقہ بند کرنے کا وعدہ کر کے اپنے اپنے الیکشن دوبارہ جیتے تھے! بھارت کے نام نہاد کانگرس سیکولر منافقین ہوں یا بی جے بی کے نریندر مودی اور ایڈوانی ، سب کے سب کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنائے رکھنے اور پاکستان کو ہرقسم کی زک پہنچانے کے وعدے کر کے اپنی اپنی جیت کو یقینی بناتے رہتے ہیں۔ یہی حال اسرائیل کے صہیونی لیڈروں کا ہے۔اس باربھی نیتن یاہو ماضی کے اسرائیلی انتخابات کی تاریخ دہرانے لگا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 1981ءمیں یہودی وزیر اعظم نے عراق میں صدام حسین کا ایٹمی پروگرام تباہ کر کے الیکشن جیتا تھا، مناھم بیگن کے جیتنے کے امکانات صفر تھے اور اپوزیشن اپنی فتح کے ترانے گا رہی تھی ،مگر بیگن نے یہودی فضائیہ کو عراقی ری ایکٹر کو تباہ کرنے کا حکم دے کر اور مہم کو کامیاب بنا کر الیکشن جیت لیا تھا۔

 پندرہ سال بعد یہی مناھم بیگن امن کا علمبردار بن کر الیکشن جیتنے کی فکر میں تھا، مگر اس کے مخالف شمعون پیریز نے حماس کے لئے بم بنانے والے فلسطینی مجاہد سائنسدان کو نشانہ بنا کر قتل کرا دیا ۔ یوں الیکشن کا پانسہ پلٹ دیا جنگ باز یہودیوں نے اسے بہادری کے القاب سے نوازا، پھر 1996ءمیں اس شمعون پیریز نے لبنان میں حزب اللہ کو نابود کرنے کی ڈینگ ماری اور یہودی ووٹروں کے دل جیت لئے، مگر حزب اللہ نہ صرف ڈٹی رہی، بلکہ مزید طاقتور ہو گئی ،مگر یہ جنونی یہودی باز نہ آیا اور اقوام متحدہ کے نمائندوں پر حملہ کر کے مار دیا اور بہانہ یہ کیا کہ یہ فوجیوں کی اتفاقیہ غلط فہمی تھی ،مگر وہ جنگ پسند یہودیوں کا ہیرو بننے میں کامیاب ہو گیا۔ اب نتن یاہو بھی اس قسم کا صہیونی ہیرو بننے کی فکر میں ہے اور عالمی مخالفت کی بھی پروا نہیں کر رہا، کیونکہ امریکہ اس جارحیت کو دفاع کا نام دے رہا ہے جو ہر ملک کا حق ہوتا ہے! گویا یہ اصل جنگ اسرائیل اور حماس کی نہیں، بلکہ امریکہ اور عربوں کی ہے! ظاہر ہے امریکہ سے لڑنا اور جیتنا عربوں کے بس میں نہیں۔ 1973ءکی مصر، اسرائیل جنگ کے متعلق مرحوم انور سادات نے یہی کہا تھا کہ مصر اسرائیل کا تو مقابلہ کر سکتا ہے، مگر امریکہ سے جنگ نہیں جیت سکتا!

لیکن نیتن یاہو کی اس وحشیانہ اور جنونی حرکت کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جنگ زدہ شام میں اخوان کو قدم نہ جمانے دیئے جائیں یا اخوان موافق اسلامیوں کی حکومت نہ قائم ہو جائے اور مصر و شام مل کر سامراجی مفادات کے لئے خطرہ نہ بن جائیں اس لئے کہ امریکی نقطہ نظر سے مصر کے بغیر مشرقی وسطی ٰ میں کوئی جنگ نہیں ہو سکتی، مگر شام کے بغیر اس خطے میں امن بھی قائم نہیں ہو سکتا، اس لئے مصر و شام کے اتحاد کا مطلب ہے کہ جنگ اور امن دونوں کی چابی عربوں کے ہاتھ میں آ جائے گی ،یوں سامراجیوں کے پلے یا ان کے پٹھو اسرائیل کے پلے کچھ بھی نہیں رہتا! اس لئے شام میں عرب دنیا کی باد بہار بھی کامیاب نہیں ہو پائی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسی فی صد سنی مسلمانوں کو دس فی صد دروزیوںکی فوج نے نصف صدی سے دبا کر رہا ہوا تھا۔ دراصل یہ اسی فیصد مسلمان عالمی قوتوں کے مفادات کے قیدی بنے ہوئے ہیں، اس خانوادے کی ظالمانہ آمریت ان مفاد پرستوں کی محافظ بنی ہوئی تھی۔ اخوان اور ان کے ہمنوا شامی اسلامیوں سے سب کو خطرات لاحق ہیں، مغربی سامراجی بھی شام و مصر کے اتحاد سے ڈرتے ہیں، اسرائیل کے صہیونی بھی اس اتحاد سے لرزتے ہیں۔

 جناب معز الخطیب، جو ایک اعتدال پسند عالم دین اور مبلغ ہیں اور شام و لبنان کے علاوہ فلسطین میں پھیلی ہوئی الخطیب فیملی سے ہیں، وہ شامی اپوزیشن کے متفقہ لیڈر بن چکے ہیں، عربوں کے علاوہ عالمی لیڈر بھی ان کی حمایت کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ بشاور الاسد کی پچاس سالہ خاندانی آمریت کا خاتمہ اور متحدہ اپوزیشن کی عارضی حکومت کا قیام، اب دنوں کی بات ہے، اس عارضی حکومت کی نگرانی میں آزادانہ انتخابات کے نتیجے میں شام میں بھی مصر والی صورت سامنے آ سکتی ہے۔ اسی خطرے نے عالمی صہیونیوں اور مغربی سامراجیوں.... بشمول انکل سام، کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں! حماس چونکہ اخوان کی حامی ہے اور فلسطین کی تحریک مزاحمت کی واحد نشانی بھی ہے، اس لئے حماس کی حکومت کو ختم کر کے نتن یاہو یہودی الیکشن بھی جیتنا چاہتا ہے اور مغربی سامراجیوں کو مشرق وسطیٰ میں نیا کھیل کھیلنے کی دعوت ہی نہیں، بلکہ عرب دنیا میں قدم جمانے کا موقع بھی فراہم کرنا چاہتا ہے اور یہ سب کام شام میں الیکشن کے نتیجے میں اخوان حکومت یا اخوان موافق حکومت کے قیام سے پہلے ضروری ہیں! اسی لئے صہیونی نتن یاہو فضائی حملے کے بعد زمینی فوج کے ذریعے غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے!

اس لئے عالمی مبصر غزہ پر یہودی حملے اور قبضے کو مشرق وسطیٰ کے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک مجنونانہ اور مذموم حرکت قرار دے رہے ہیں! جس کا اصل مقصد شام کے حالات پر اثر انداز ہونا اور عظیم تر اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کر کے مغربی سامراجیوں کو مشرق وسطیٰ کو اپنے کنٹرول میں لینے کی دعوت ہے! انکل سام کی منطق بھی یہی ہے کہ یہود کو دفاع کا حق ہے۔ وہی یہودی جو نصف صدی سے امن کے ساتھ رہنے کی بات نہ اقوام متحدہ کی مان رہا ہے، نہ مغربی سامراجیوں کے کہنے میں ہے! فلسطینیوں کے گھر چھین رہے ہیں، ان کی زمین پر زبردستی قبضہ کر رہے ہیں اور یہودی آباد کاروں کو دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے فلسطینی گرمی ، سردی سے بچنے کی کوئی جائے پناہ نہ پا کرپریشان ہیں.... تو کیا ان کو اپنی جائیدادیں بچانے کا حق نہیں ہے۔ ان کی جائیدادیں اس لئے چھینی جا رہی ہیں کہ وہ کمزور اور نہتے ہیں! اسرائیل غزہ پر حملہ اور قبضہ کر رہا ہے کہ اس کے پاس طاقت ہے جو حماس کے پاس نہیں ہے؟ یہ تو پھر ظلم ہوا، جنگل کا قانون ہوا، بدامنی تو پھر ہو گی! انصاف نہ ہوا تو امن کیسے قائم ہوگا؟ طاقت سے دبا کر؟ آج طاقتور کا یہی جنگل کا قانون ہے جو مسلمانوں کو شدت پسند اور دہشت گرد بنا رہا ہے۔ اصل شدت پسند اور دہشت گرد تو وہ ہیں جو مسلمانوں کے گھر بنانے اور امن کے ساتھ رہنے کا حق چھین رہے ہیں! دنیا میں انصاف نہیں ہوگا تو امن بھی نہیں ہوگا۔  ٭

مزید : کالم