صادق وامین ہونا کیوں ضروری ہے؟

صادق وامین ہونا کیوں ضروری ہے؟
 صادق وامین ہونا کیوں ضروری ہے؟

  

بوڑھے بزنس مین کی کہانی نے چینی معاشرے کو کامیابی سے آگے بڑھنے کے سنہری اُصول بتادئیے۔چین میں ہر بزنس مین، سیاست دان، مزدور اور عام شہری انہی اُصولوں پر چلتے ہوئے کامیابیوں کی نئی تاریخ رقم کررہا ہے۔اِس کی کہانی کیا تھی اور اُس نے کون سے اُصول بیان کئے تھے؟یہ جاننا ہمارے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ 65سال کی عمر میں وہ ایک بہت بڑی کمپنی کا مالک بن چکا تھا،لیکن دن رات محنت کرکے اُس کی صحت کو بھی بہت نقصان پہنچا۔اُسے دوسرا ہارٹ اٹیک ہوچکا تھا اور ڈاکٹروں نے اُسے بزنس کے جھنجٹ سے جان چھڑانے کا مشورہ دیاتھا۔بوڑھا بزنس مین بھی اب اپنی جگہ اپنے چاروں بیٹوں میں سے کسی کو کمپنی کا منیجنگ ڈائریکٹر بنانے کے لئے سنجیدگی سے غور کرنے لگا ،مگر مسئلہ یہ تھا کہ دن رات کاروبار میں مصروف رہنے کی وجہ سے وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار سکا تھا اور اُسے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ چاروں بیٹوں میں سے کون کمپنی کا ایم ڈی بننے کا اہل ہے؟ کیونکہ وہ اپنی عمر بھر کی محنت،ساکھ اور اثاثے محفوظ ہاتھوں میں دینا چاہتا تھا اور اُسے مزید ترقی کی خواہش تھی،چنانچہ اُس نے اپنے چاروں بیٹوں کی اہلیت جاننے کے لئے اُن کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔

 اُس نے چاروں بیٹوں کو بلایا،اُنہیں ایک ایک گملا اور چند بیج دئیے اور چاروں کو مختلف شہروں میں دو دو ماہ رہ کر گملوں کو کاشت کرنے کا ٹارگٹ دیا اور ساتھ ہی بتا دیا کہ جس کے گملے میں زیادہ بیج اُگیں گے اور و ہ اُن کی افزائش پر زیادہ محنت کرے گا، اُسے کمپنی کا نیا ایم ڈی بنادیا جائے گا۔وقت تیزی سے گزرنے لگا۔بڑے تینوں بیٹوں کے گملوں میں ننھے ننھے پودے اُگ آئے ،جبکہ سب سے چھوٹے چوتھے نمبر کے بیٹے کے گملے میں کوئی پودا نہ اُگا۔ اُس نے گملے کو مناسب روشنی میں رکھا،پانی دیا اور بائیو کھاد بھی ڈالی، مگر کوئی بیج اُگنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔دو ماہ کا وقت پورا ہوگیا،مگر اُس کے گملے میں مٹی کا رنگ کالا ہونے کے سوا کوئی افزائش نہ ہوئی۔باپ نے چاروں بیٹوں کو گملوں سمیت اپنے دفتر میں طلب کیا۔بڑے تینوں بیٹوں کے گملوں میں خوبصورت پھول لگے تھے ،جبکہ سب سے چھوٹا بیٹا اپنا گملا اپنے پیچھے چھپائے کھڑا تھا اور سرجھکائے اپنی ناکامی پر شرمندہ تھا۔

باپ نے سب بیٹوں سے بیجوں کی افزائش کی کہانی سنی۔سب نے باری باری اپنی محنت، لگن اور دو ماہ میں مطلوب مقصد کے حصول کی رواداد سنائی۔جب چوتھے بیٹے کی باری آئی تو اُ س نے اپنا خالی گملا باپ کے سامنے رکھ دیا۔اُس کے تینوں بڑے بھائی قہقہے لگا کر ہنسنے لگے۔باپ نے اُسے کہا کہ تمہارا گملا خالی کیوں ہے ؟اِس میں پودے کیوں نہیں اُگے؟ چوتھے بیٹے نے کہا کہ مَیں نے گملے کو بڑی حفاظت سے رکھا۔اُسے مناسب روشنی،پانی اور بائیو کھاد تک دی، مگر کوئی بیج نہ چل سکا۔مَیں روزانہ اِس پر محنت کرتا،گوڈی بھی کی، لیکن قسمت نے میرا ساتھ نہ دیا اور مَیں ناکام رہا۔ تینو ں بھائی ایک بار پھر اپنے چھوٹے بھائی کی ناکامی پر قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے، لیکن باپ کی گرج دار آواز میں”شٹ اپ“ کال نے اُنہیں چپ کرادیا۔باپ اپنی کرسی پر سے اُٹھا اور سب سے چھوٹے بیٹے کو حکم دیتے ہوئے کہا:’آج سے میری جگہ پر تم ایم ڈی کی ذمہ داریاں سنبھالو گے“اور ساتھ ہی نوکر کو بلا کر حکم دیا کہ بڑے تینوں بیٹوں کے گملو ں کو اُٹھا کر باہر ڈسٹ بِن میں پھینک دو۔مجھے اِن سے کراہت ہورہی ہے۔

 سب سے چھوٹا بیٹا ایم ڈی کی سیٹ پر بیٹھ کر حیران تھا کہ اُسے ناکامی کے باوجود ایم ڈی کا عہدہ کیسے مل گیا جبکہ بڑے تینوں بیٹے اپنے باپ کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔بوڑھے بزنس مین نے کہنا شروع کیا:”مَیں نے تم چاروں کی اہلیت جانچنے کے لئے جو بیج دئیے تھے، وہ سب کے سب بوائل تھے ،یہ مردہ بیج تھے،اِن سے پودے اُگنا ناممکن تھا۔تم تینوں نے بے ایمانی کی اور اُن کی جگہ نئے بیج اُگا دئیے، جبکہ چھوٹو نے ایمان داری سے کام لیا اور ساری کہانی سچ سچ بتادی۔یاد رکھو زندگی میں کامیابی کا سب سے پہلا اُصول سچ ہے۔ دُنیا میں صرف وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جو سچا اور ایماندار ہو۔ چھوٹے سے گھر سے لے کر بڑے سے بڑے ادارے کو ایماندار سربراہ کے بغیر چلانا ناممکن ہے ۔اگراِس پر جھوٹے اور بے ایمان لوگ بٹھا دئیے جائیں تو وہ دنوں میں اپنا اعتماد کھو بیٹھیں گے اور اُنہیں دیوالیہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔مَیں نہیں چاہتا کہ اپنی عمر بھر کی ریاضت، ایمان داری اور سچائی سے جو کمپنی قائم کی ہے ،اُس پر کوئی جھوٹا ،بے ایمان اور بدکردار شخص ایم ڈی بن جائے اور کمپنی کی ساکھ متاثر ہو۔اِس لئے ایم ڈی بننے کا اہل تم لوگوں کا سب سے چھوٹا بھائی ہے۔

یہ تو بوڑھے چینی بزنس مین کی نصیحت تھی۔آپ اﷲ کا اُصول دیکھ لیں کہ اُس نے جب بھی پیغمبروں کا کسی معاشرے میں انتخاب کیا تو ایسے شخص کو پیغمبری کا تاج پہنایا،جو اُن میں سب سے زیادہ صادق وامین تھا۔زمانہ جاہلیت اور نبوت سے پہلے بھی اُن کی سب سے بڑی پہچان صادق وامین کی تھی۔جب یہ نبوت کا اعلان کرتے تو لوگ اُن کی بات پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرتے کہ یہ لوگ ہرگز جھوٹ نہیں بول سکتے۔خلفائے راشدینؓ کے ادوار دیکھ لیں،انتظامیہ اور عدالتیں اُن کے ماتحت تھیں، مگر اپنے خلاف مقدمات میں پیش ہوکر یہ خود پر لگنے والے الزامات کو غلط ثابت کرتے رہے، کیونکہ یہ جانتے تھے کہ اگر اُن کے کردار پر جھوٹ کا داغ لگ گیا تو لوگ اُ ن کی بات کا اعتبار نہیں کریں گے اور اُ ن کا رعب ومرتبہ اور وقار مٹی میں مل جائے گا۔

کاروبارِحیات صادق وامین لوگوں کی سربراہی کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔دُنیا کا کوئی بھی انتظامی،معاشی،سیاسی ،عدالتی،دفاعی،تعلیمی،مذہبی یا ذرائع ابلاغ کا ادارہ سچ کے بغیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا۔یہ تمام ادارے سچ کے ستونوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ہمارے دانشور مغربی جمہوریت کی کامیابی کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے اور مغرب کی ترقی کو جمہوریت کے تسلسل سے جوڑتے ہیں، مگر اُنہوں نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ وہا ں کی جمہوریت سچ کے ستونوں پر قائم ہے،وہاں ٹیکس چور ،کمیشن مافیا اور بینکوں کے قرضے ہڑپ کرنے والے جمہوریت کے چیمپئین نہیں کہلاتے۔یہی حال ہمارے ہاں مذہبی جماعتوں کا ہے جو دن رات خلافت کے نظام کا پرچار کرتی ہیں ۔یہ اپنے قول وفعل کے تضاد پر غور نہیں کرتیں کہ خلافت کے نظام کے لئے صادق وامین لوگوں کی قیادت چاہیے ہوتی ہے جبکہ اُن کی دہری شخصیتیں ہی خلافت کے نظام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

انسانی شخصیت کا ڈھانچہ بھی سچ کے ستون پرہی کھڑا ہوتاہے۔جو لوگ جھوٹ،منافقت یا بے ایمانی کا سہارا لیتے ہیں،بہت جلد ذلیل ورُسوا ہوجاتے ہیں۔ابلاغ کی مثال ہی لے لیں ، جن لوگوں نے جھوٹ کی چادر اُوڑھ لی اور سچ کو چھپانے کی بھونڈی وناکام کوشش کی ،اُن کے پلانٹڈٹاک شوز اور فرمائشی کالموں کو عوام نے نفرت سے دھتکا ردیا۔آج فیس بک،ٹوئٹر، اور بلاگز پر عام قاری کی نفرت وحقارت دیکھ کر اُن پر ترس آتا ہے، لیکن جو لوگ سچائی، ایمانداری اور مہذب طریقے سے اپنا نقطہ نظر بیان کررہے ہیں، عوام اُن کا دل وجان سے احترام کرتے ہیں۔جھوٹ کا سہارا لینے والوں اور قصیدہ گوئی کرنے والے درباریوں کے ساتھ نفرت کا برتاﺅ کیوں ہے؟بات بڑی واضح ہے کہ اِن لوگوں نے اپنی شخصیت کے ڈھانچے کے نیچے سے سچ کا ستون خود اپنے ہاتھوں سے گرا دیا اور اب یہ ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں جس پرہر ایرا غیرا چڑھنے سے نہیں کتراتا۔ سچ کے ستون پر اپنی شخصیت کو دوبارہ کھڑا کیجیے۔پھر دیکھئے،احترام سے سب دیکھتے ہیں کہ نہیں۔

سپریم کورٹ نے آئین کی شق کے تحت ایسے لوگوں کو پبلک آفس سنبھالنے کے لئے نااہل قرار دیا ہے جو صادق وامین نہیں ۔یہ ایک انتہائی اہم فیصلہ ہے۔بعض لوگوں کو اِس پر اعتراض ہے جو غیر منطقی ہے ،کیونکہ جھوٹے اور بے ایمان لوگ زندگی کے کسی شعبے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔ ناکامی اُن کا مقدر ہوتی ہے۔عوام کا اِن کالی بھیڑوں کی وجہ سے اہم ادارو ں پر سے اعتماد اُٹھ جاتا ہے۔پاکستان کے اہم ادارو ں پر نظر ڈالیں اور اِن اداروں کی تباہی کا مشاہدہ کریں تو واضح ہوجاتا ہے کہ اِن اداروں کو کرپٹ اور بے ایمان لوگوں نے اپنے ذاتی مفاد کی بھینٹ چڑھا دیا۔ یہ سارے ادارے اپنی ساکھ بُری طرح تباہ کرچکے۔ اِن پر مسلط شخصیات کا اپنا بھرم تو ملیا میٹ ہواہی،ساتھ ہی اداروں کو بھی برباد کر گئے۔ بلاشبہ اِس نظام کے بانی آمر ہیں۔ ماضی میں اسٹیلشمنٹ، عدلیہ، پارلیمنٹ،میڈیا،پی آئی اے، ریلوے، سٹیل مل، این ایل سی، اولڈ ایج بینی فٹ، واپڈا اور پنجاب بینک ،یہ سارے ادارے صادق وامین سربراہان کے نہ ہونے سے آج اِس مقام پر پہنچے ہیں کہ عوام اُن پر اعتماد کرنے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ سپریم کورٹ کو آئین کی شق63,62کا اطلاق صرف سیاست دانوں پر ہی نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ہر ادارے کے سربراہ کو اِس کا پابند بنانا لازمی ہے۔کسی بھی ادارے کو چلانے کے لئے صادق وامین سربراہ بے حد ضروری ہے۔اگر ہم اِس پر سختی سے عمل نہیں کرتے تو تباہی وبربادی سے دوچار ہونے سے ہمیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔  ٭

مزید : کالم